Karakorum Horizon Gilgit Baltistan

Karakorum Horizon Gilgit Baltistan

Share

12/02/2026

اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے علاج کے باوجود دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ جانے کی شکایت کے بعد سپریم کورٹ نے چار دن کے اندر سابق وزیر اعظم کا طبی معائنہ کروانے اور اُن کی اپنے بیٹوں سے بات کروانے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی جانب سے عدالت کی طرف سے مقرر کیے گئے ’فرینڈ آف کورٹ‘ سلمان صفدر کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں یہ حکم دیا۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی سپیشلسٹ کی ٹیم جلد ہی اڈیالہ جیل کا دورہ کرے گی اور سابق وزیر اعظم کی آنکھ کا معائنہ کیا جائے گا۔ اٹارنی جنرل نے اس موقع پر سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ عمران خان کی اُن کے بچوں سے بذریعہ فون بات بھی کروائی جائے گی۔
عمران خان نے جیل میں اپنی مصروفیات، مشکلات اور سہولیات سے متعلق بیرسٹر سلمان صفدر کو کیا بتایا اور انھوں نے خود کیا دیکھا، یہ انھوں نے اپنی رپورٹ میں درج کیا ہے۔
اپنی رپورٹ میں سلمان صفدر نے لکھا ہے کہ وہ دوپہر دو بجے اڈیالہ جیل پہنچے اور دو بج کر 35 منٹ پر ایک کمرے میں سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈٹ جیل کی موجودگی میں ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے آغاز پر بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان کو اپنے آنے کا مقصد بتایا اور یہ بھی کہا کہ عدالت کے حکم پر وہ ان حالات کا جائزہ لیں گے جن میں عمران خان کو رکھا گیا ہے۔
عدالت میں جمع کرائی گئی بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کی کہ گذشتہ تین ماہ سے انھیں نظر میں کمی کی شکایت ہے ’حالانکہ اکتوبر 2025 تک ان کی نظر بالکل ٹھیک تھی۔‘
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر کو بتایا کہ انھوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ سے شکایت کی کہ انھیں دھندلا نظر آتا ہے لیکن جیل حکام نے کوئی بھی کارروائی نہ کی۔ ’وقت گزرنے کے ساتھ انھیں دائیں آنکھ سے نظر آنا بالکل ہی بند ہو گیا۔ اس کے بعد پمز سے ایک ڈاکٹر کو ان کے معائنے کے لیے بلایا گیا۔
بیرسٹر سلمان کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ علاج اور انجیکشن کے باوجود ان کی دائیں آنکھ صرف 15 فیصد ہی کام کرتی ہے۔
رپورٹ میں وکیل نے لکھا ہے کہ عمران خان اپنی بینائی کم ہونے اور بر وقت طبی امداد نہ ملنے پر واضح طور پر پریشان تھے۔ ’ملاقات کی دوران ان کی آنکھوں سے پانی بہتا رہا اور وہ ٹشو سے اسے صاف کرتے رہے۔‘
رپورٹ میں درج ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے سلمان صفدر کو بتایا کہ پمز ہسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف عمران خان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور جیل میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر دن میں تین بار عمران خان کا بلڈ پریشر اور آکسیجن لیول چیک کرتے ہیں۔
وکیل کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ان کی عمر کے لحاظ سے باقاعدگی سے خون کے ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ’انھوں نے کہا کہ پہلے ذاتی ڈاکٹروں ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو ان تک رسائی دی جاتی تھی لیکن جب سے انھیں نظر کم آنے کی شکایت پیدا ہوئی تب سے ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو رسائی نہیں دی گئی۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’تین ماہ تک تو انھیں صرف آنکھوں میں ڈالنے کے لیے قطرے دیے جاتے رہے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور ان کی دائیں آنکھ کی نظر بہت زیادہ کم ہو گئی۔‘
عدالت کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ’73 سال عمر ہونے کی وجہ سے انھیں یہ ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے کہ ان کے دانتوں کا معائنہ کرایا جائے لیکن بار بار درخواست کے باوجود دو سال کے دوران کسی بھی دانتوں کے ڈاکٹر نے ان کا معائنہ نہیں کیا۔‘

04/02/2026

کھرمنگ:
ہیڈکوارٹر ایریا کھرمنگ میں انٹرنیٹ کی انتہائی سست رفتار اور متبادل سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے مطالبے کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی کھرمنگ کے زیرِ اہتمام حسینی چوک مادھوپور میں ایک علامتی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

احتجاج کے دوران شرکاء نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں بلا تعطل اور تیز رفتار انٹرنیٹ سروس کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور عوامی ضرورت کے پیشِ نظر ایس کام (S-Com) ٹاور کی فوری تنصیب عمل میں لائی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ناقص انٹرنیٹ سہولت نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے، جس پر مزید خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ہیڈکوارٹر ایریاء جیسے اہم علاقے کو ڈیجیٹل سہولیات سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Hunza?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address

Hunza