Rahim Gojali
زندگی کے ہر لمحے پر ربِ پروردگار کا بے حد شکر ہے کہ اُس نے ہمیں بے شمار نعمتوں اور نوازشوں سے نوازا، جن کا مکمل شکر ادا کرنا شاید ہمارے بس میں نہیں۔ گلگت کی طرف سفر کے دوران ہربن کوہستان آبشار کے ساتھ گزرا ہوا ایک یادگار لمحہ۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں مختلف حلقوں کے درمیان یہ بحث موجود ہے کہ ملک میں سیاسی اختلافات اور تقسیم کی وجوہات کیا ہیں۔ بعض سیاسی آرا کے مطابق موجودہ اور ماضی کی بڑی سیاسی قیادت کے فیصلوں کو ریاستی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
اسی بیانیے کے مطابق یہ مؤقف بھی سامنے آتا ہے کہ عمران خان کی عالمی اور اسلامی دنیا میں مقبولیت، ان کے خارجہ پالیسی سے متعلق بیانیے، اور بین الاقوامی سطح پر ان کی سیاسی گفتگو کو ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا گیا۔
سائفر کے معاملے کے بعد اس بحث میں مزید شدت آئی اور مختلف سیاسی و تجزیاتی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور داخلی سیاسی فیصلوں میں کن عوامل کا اثر رہا ہے۔ اس پر مختلف آرا اور تشریحات موجود ہیں، اور ہر فریق اسے اپنے اپنے زاویے سے دیکھتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ بحث پاکستان کی سیاست میں طاقت، بیانیے، خارجہ پالیسی اور سیاسی مقبولیت کے توازن کے گرد گھومتی ہے۔
محمد خالد خورشید خان
سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان و صدر پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان
الحمدللہ ربِ کریم کے فضل و کرم اور اپنے اہلِ خانہ و حلقہ احباب کی دعاؤں کے طفیل، ہمیں اپنے حاضر و موجود امام شاہ کریم الحسینی کے دیدار کی سعادت حاصل کرنے کے لیے گلگت پہنچنے کی توفیق حاصل ہوئی۔
دعا ہے کہ ہم امامِ وقت کے دیدار کی اس سعادت اور شرف کے بعد ان کے فرامین اور ہدایات کی روشنی میں اپنی زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کی بھرپور کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس روحانی لمحے کے اثرات کو اپنی عملی زندگی میں قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پاکستان بھر، بالخصوص گلگت بلتستان اور چترال کے ہر گھر اور ہر فرد کو جنہوں نے امامِ وقت کے دیدار کی سعادت حاصل کی، دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ کل اور آئندہ جتنے بھی مومنین امامِ وقت کے دیدار سے شرفیاب ہوں گے، وہ ان کے فرامین اور ہدایات کی روشنی میں جماعت، قوم اور علاقے کی خدمت کے جذبے کو مزید مضبوط اور بیدار کریں گے۔