Apki Awaz
11/08/2020
۔ 👈 *پاکستانیوں اِس چینی کہاوت سے ہی سیکھ لو!* 👉
آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں بی اے، بی کام ، ایم کام، بی بی اے، ایم بی اے، انجینئرنگ کے سیکڑوں شعبہ جات میں بے تحاشہ ڈگریاں 🎓 اور اس کے علاوہ چار چار سال تک کلاس رومز میں GPA کے لیےخوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کونسا تیر مار رہے ہیں؟
آپ یقین کریں ہم صرف دھرتی پر " ڈگری شدہ " انسانوں کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ یہ تمام ڈگری شدہ نوجوان ملک کو ایک روپے تک کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں ہیں۔ ان کی ساری تگ و دو اور ڈگری کا حاصل محض ایک معصوم سی نوکری ہے اور بس۔
ٹیوٹا ، ڈاہٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ،سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کی ہیں جبکہ شیورلیٹ ، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے ۔ آپ اندازہ کریں اس کے بعد دنیا میں آٹو موبائلز رہ کیا جاتی ہیں ؟ آئی – ٹی اور الیکٹرونکس مارکیٹ کا حال یہ ہے کہ سونی سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ جاپان کے پاس سے آتا ہے ۔
ایل جی اور سام سنگ جنوبی کوریا سپلائی کرتا ہے۔2014 میں سام سنگ کا ریوینیو 305 بلین ڈالرز تھا ۔ " ایسر " لیپ ٹاپ تائیوان بنا کر بھیجتا ہے جب کہ ویتنام جیسا ملک بھی " ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن " کے نام سے اپنے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بنا رہا ہے ۔ محض ہوا ، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگاپور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے اور کیلیفورنیا میں تعمیر ہونے والا اسپتال بھی چین سے اپنے آلات منگوا رہا ہے۔ خدا کو یاد کرنے کے لیے تسبیح اور جائے نماز تک ہم خدا کو نہ ماننے والوں سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
دنیا کے تعلیمی نظاموں میں پہلے نمبر پر فن لینڈ، دوسرے نمبر پر جاپان اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے ۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو "ڈگریوں " کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں " ٹیکنیکل " کرنا شروع کردیا ہے۔ آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی ممالک میں نظر آئیں گے۔
وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے حقائق کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔ ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اس وقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گزارتا ہے باقی اسی فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز اور آئی – ٹی کی چیزوں سے کھیلتے گزارتے ہیں۔
دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کریں۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں۔
ہم اسقدر "وژنری " ہیں کہ ہم لیپ ٹاپ اسکیم پر ہر سال 200 ارب روپے خرچ کررہے ہیں لیکن لیپ ٹاپ کی انڈسٹری لگانے کو تیار نہیں ہیں ۔ آپ ہمارے " وژنری پن " کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پوری قوم سی – پیک کے انتظار میں صرف اس لیے ہے کہ ہمیں چائنا سے گوادر تک جاتے 2000 کلو میٹر کے راستوں میں ڈھابے کے ہوٹل اور پنکچر کی دوکانیں کھولنے کو مل جائیں گی اور ہم ٹول ٹیکس لے لے کر بل گیٹس بن جائیں گے۔اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔
آپ فلپائن کی مثال لے لیں ۔ فلپائن نے پورے ملک میں " ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی " کے شعبے کو ترقی دی ہے ۔اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ حتی کے ہمارا دشمن بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے جاچکا ہے۔
آئی – ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ نوجوان ساری دنیا میں بھارت سے جاتے ہیں جب کہ آپ کو دنیا کے تقریبا ہر ملک میں بڑی تعداد میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز ، گرلز ، ویٹرز اور ویٹریسسز نظر آتے ہیں ۔ پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانیوں کے مقابلے میں دس دس گنا زیادہ ہوتی ہیں اور دوسری طرف لے دے کر ایک " مری " ہی ہمارے لیے ناسور بن چکا ہے ۔جہاں کے لوگوں کو سیاحوں کی عزت تک کرنا نہیں آتی ہے۔
چینی کہاوت ہے کہ " اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دو "۔ چینیوں کو یہ بات سمجھ آگئی۔ کاش ہمیں بھی آجائے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ " ہنر مند آدمی کبھی بھوکا نہیں رہتا۔ "۔ خدارا ! ملک میں " ڈگری زدہ " لوگوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ہنر مند پیدا کیجیے ۔ دنیا کے اتنے بڑے " ہیومن ریسورس " کی اس طرح بے قدری کا جو انجام ہونا تھا وہ ہمارے سامنے ہے۔
ہماری یونیورسٹیوں کا ماحول 😶
یونیورسٹی میں تمام طلباء لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب میچور ہوتے ہیں... اچھے برے اور فائدے نقصان کا فرق بخوبی جانتے ہیں.... اس لیول پر کوئی ایک دوسرے کو تنگ نہیں کرتا... یہاں جو بھی کپل یعنی کے جوڑا بنتا ہے وہ دونوں کی باہمی رضامندی سے بنتا ہے...
دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ وقت گزار کر دو تین جوس کارنر پر جوس پینے اور کچھ ہوٹلوں پر کھانا کھانے کے بعد ہی ایک دوسرے کو اپنا سب کچھ سونپ دیتے ہیں.
یہاں آغاز ہمیشہ دوستی کی آڑ میں ہوتا ہے کیونکہ یہاں دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ دوستی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے
لیکن ایک حقیقت یہ ہے کہ دو مخالف جنس اچھے دوست بھی ہوں تو بھی زندگی کے کسی نا کسی موڑ پر ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں
یہاں پر کچھ لوگ مضبوط ہوتے ہیں اور اپنے آپ پر قابو رکھتے ہوئے صاف رشتہ رکھ کر آگے چلتے ہیں مگر یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے
زیادہ تر جوڑے جسمانی تعلقات میں مبتلا ہو جاتے ہیں
یونیورسٹی لیول پر کوئی کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا یہاں سب کچھ دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے
آپ لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، کراچی، ملتان اور بہاولپور جیسے بڑے بڑے شہروں کے ریسٹورنٹ، گیسٹ ہاوس اور ہوٹلوں کا اگر رات کے کسی پہر وزٹ کریں تو معلوم ہوگا یہاں پر موجود نوجوان جوڑوں میں سے اسی فیصد سے بھی زیادہ کا تعلق شہر کی مختلف یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجوں سے ہوگا...
آپ مختلف پیزا شاپ، جوس کارنر کا وزٹ کریں تو آپ کو یہاں یونیورسٹی کی کلاسز بنک کر کے ڈیٹ پر آنے والے نوجوان جوڑوں کا ایک جم غفیر ملے گا...
اور پچاس روپے والا جوس کا گلاس آپ کو 200 روپے کا ملتا ہے, تیس منٹ تک کوئی پوچھنے نہیں آتا, تیس منٹ بعد آپ کو ایک اور آرڈر کرنا پڑتا ہے....
یہاں اندر کرسیوں کی جگہ صوفے لگے ہوتے ہیں یعنی کے پورا ماحول بنا ہوتا ہے,آپ جو مرضی چاہیں کر سکتے ہیں
تو یہ کہنا کہ یونیورسٹی لیول پر لڑکیوں کو جنسی زیادتی یا درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے سراسر غلط ہے
یہاں نوجوان کپل شادی شدہ جوڑوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور پوری کلاس بلکہ پورے ڈیپارٹمنٹ کو خبر ہوتی ہے کہ کونسے والی کس کی ہے اور کونسے والا کس کا ہے؟؟؟
آپ ان بڑے شہروں میں اگر شاپنگ مالز کا وزٹ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ نوجوان جوڑے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر یا کمر اور کاندھے پر ہاتھ رکھ کر خریداری کرنے نکلے ہوں گے, جن میں زیادہ تر کا تعلق اس شہر کی مختلف یونیورسٹیوں سے ہوگا
پارک میں جائیں تو بہت ساری تتلیاں کچھ پروانوں کے ساتھ چپک کر یا یہ کہہ لیں کہ ان کی گود میں بیٹھی ملیں گی آپ کو
آپ یونیورسٹیوں کا اگر وزٹ کریں تو آپ کو رات کو گرلز ہاسٹل اور بوائز ہاسٹل سے بہت سارے لڑکے اور لڑکیاں غیر حاضر ملیں گے ان سب کے گھر پر کال کریں تو معلوم ہوگا کہ وہ تو یونیورسٹی میں ہیں.
آپ مختلف ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوس کا وزٹ کریں تو آپ کو ان میں سے زیادہ تر یہاں پر ملیں گے.
اور جن لڑکوں یا لڑکیوں کا تعلق اسی شہر سے ہے تو بھی پریشانی کی بات نہیں ہے.
آپ کو شہر میں ایسے بہت سارے ہوٹل ملیں گے جو صبح 8 بجے سے ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے کیلئے نوجوان جوڑوں کو کمرے کرایہ پر دیتے ہیں
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے ہوٹل بنے ہی اسی کام کیلئے ہیں
اور سونے پر سہاگہ کہ ان سارے ہوٹلوں کو بڑے بڑے پولیس افسران، بیورو کریٹ یا پھر سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل ہے
ہر ہفتے یا مہینے کی بنیاد پر بھاری رقوم کی صورت میں بھتہ وصول کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سب کام آسانی سے ہو رہا ہے.
اگر کبھی میڈیا کا دباؤ یا پھر کوئی بڑی مکبری ہو بھی تو ان ہوٹل والوں کو پہلے سے ہی آگاہ کر دیا جاتا ہے.
پنجاب یونیورسٹی میں اپنی آنکھوں سے میں لڑکیوں کو آگے بیٹھ کر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھ چکا ہوں اور لڑکے پیچھے بیٹھ کر ان تتلیوں کو موٹر سائیکل چلانا سکھا رہے ہوتے ہیں.
پنجاب یونیورسٹی اور خاص طور پر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں آپ کو لڑکیاں چھوٹی چھوٹی شرٹس اور بہت باریک لباس پہنے اور چھوٹے چھوٹے ٹراوزر پہنے نظر آئیں گی..
دوپٹہ برائے نام ہوتا ہے یا پھر ہوتا ہی نہیں..
اتنے باریک باریک لباس ہوتے ہیں کہ جسم سارے کا سارا آویزاں ہو رہا ہوتا ہے اور سفید کپڑوں میں سیاہ رنگ صاف جھلک رہے ہوتے ہیں.
میں نے اپنی ان آنکھوں سے بہت سی خواتین کو حجاب میں یونیورسٹی آتے دیکھا ہے اور پھر ایک طرف ٹھہر کر یہ حجاب اپنے پرس میں ڈال کر پرس سے ایک چھوٹا سا باریک دوپٹہ گلے میں ڈال کر اپنی اپنی کلاسز میں جاتے دیکھا ہے.
پھر جب چھٹی کے وقت باپ یا بھائی کے آنے کا وقت ہوتا ہے تو پھر سے وہی حجاب پرس سے نکال کر پہن لیا جاتا ہے.
مجھے آج تک سمجھ نہیں لگی کہ یہ tights اور اوپر سے چھوٹی چھوٹی باریک شرٹس پہننے کا آخر مقصد کیا ہوتا ہے
آ بیل مجھے مار؟
اتنی چھوٹی چھوٹی سی شرٹس پہننا اور پھر چلتے ہوئے بار بار پیچھے سے اپنی شرٹس کو درست کرنا...
کیسا عمل ہے؟
کیا ضرورت ہے.
یا تو پہنیں نہ, پہن لیا تو بس پھر ٹھیک ہے.
کیونکہ آپ کا جسم آپ کی مرضی.
پھر مرد کیوں نہ کہے کہ میری آنکھ میری مرضی؟
لیکن یہ سب فیشن ہے.
یہاں پر فقرے کسنا جرم نہیں کیونکہ کھلم کھلا دعوت دی جاتی ہے فقرے کسنے کی.
میوزک کنسرٹ، کلچرل فیسٹیول، اور اینول ڈنر کے نام پر ہونے والے رقص، مجرے کی محفلوں سے کم نہیں.
میوزک کنسرٹ پر جسم کے ساتھ جسم لگے ہوتے ہیں اور ناچ گانے عروج پر کندھے سے کندھے جڑے ہوتے ہیں.
منشیات کا سب سے زیادہ استعمال بھی یونیورسٹی کے طلباء ہی کرتے ہیں. جن منشیات کا کبھی آپ نے نام تک نہیں سنا ہوگا وہ منشیات یونیورسٹی لیول پر آپ کو نظر آتی ہیں.
لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی ان منشیات کی عادی ہیں اور یہ بھی کسی فیشن کی طرح پروان چڑھ رہا ہے.
لڑکیوں کے ہاسٹل میں یہ منشیات انتظامیہ کے زریع سے ہی فروخت کی جاتی ہیں اور بہت سے گروہ اپنے سہولت کار ان طالبات میں سے ہی چنتے ہیں.
پہلے نشے کا عادی بنایا جاتا ہے اور پھر جسم فروشی کے مقاصد کیلئے ان لڑکیوں کا استعمال کیا جاتا ہے.
دونوں ایک دوسرے کو غلط کہہ رہے ہیں خواتین کے مطابق مرد حضرات اپنی نظروں کی حفاظت کریں اور مردوں کے مطابق خواتین اپنے جسم کی حفاظت کریں...
مگر دونوں میں سے کوئی بھی اپنی اصلاح کرنے کیلئے تیار نہیں کوئی بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے.
یہ ہسپتالوں اور کچرے کے ڈھیر میں ملنے والے نومولود بچے طوائف کے نہیں بلکہ ان تعلیم یافتہ افراد کے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری آپس میں انڈرسٹینڈنگ تھی.
ہسپتالوں میں غیر قانونی طور پر ہونے والے ابھورشن اسی انڈرسٹینڈنگ کے نتائج ہیں.
نان پریگننسی کی فروخت ہونے والی ادویات کے خریدار زیادہ تر یہی انڈرسٹینڈنگ والے جوڑے ہیں.
لیکن اگر یہاں کوئی سچ لکھے یا بولے تو وہ چھوٹی سوچ کا مالک ہے وہ تنگ نظر ہے وہ دیہاتی ہے.
پھر میں کیوں نہ کہوں کہ ہماری یونیورسٹیاں کوٹھے اور چکلے ہیں.
پھر میں کیوں نہ کہوں کہ یہ یونیورسٹیاں ؛ور یہ تعلیمی ادارے جسموں کی تجارت کی منڈیاں ہیں.
پھر میں کیوں نہ کہوں کہ یہاں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی جسمانی تعلقات اور زنا کو فروغ دے کر والدین کی عزتوں کے جنازے نکال رہے ہیں.
یونیورسٹی کا مطلب "مادرِ علمی ہے"
یہ کیسی ماں ہے جو اپنی بچیوں کے سر سے دوپٹہ اور جسم سے لباس اتارنے کی تربیت کو پروان چڑھا رہی ہے.
یہ کیسی ماں ہے جو اپنے بیٹوں کو بے حیائی اور زنا کی تعلیم دے رہی ہے؟
بلکہ یہ یونیورسٹیاں شاید طوائف کے کوٹھوں سے بھی زیادہ گری ہوئی جگہ ہیں کیونکہ ایک طوائف اپنی مجبوری کے تحت اپنا جسم فروخت کرتی ہے اور اس کے پاس آنے والے گاہک پیسے دے کر اس کا جسم خریدتے ہیں
مگر ہماری یونیورسٹیاں وہ کوٹھے اور وہ اڈے ہیں جہاں عورت اپنا جسم اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص کو خوشی خوشی پیش کرتی ہے
اور یہاں جسم لینے والا کوئی خریدار نہیں ہے وہ ایسا گاہک ہے جسے مفت میں شراب اور شباب مل رہی ہوتی ہے
اور جب اپنا جسم اپنی مرضی سے پیش کیا جائے اور لینے والا عورت کی مرضی سے اس کا جسم لے تو پھر نہ تو عورت اسے جنسی زیادتی یا درندگی کا نام دیتی ہے اور نہ ہی مرد اسے جنسی زیادتی اور درندگی کا نام دیتا ہے
یہاں اس فیشن کو "انڈرسٹینڈنگ" کا نام دیا جاتا ہے
اور اس سارے فسادات کی جڑ یہ Co-education ہے
ہمارا دین اسی وجہ سے اس نظام تعلیم کی مخالفت کرتا ہے یہ نظام تعلیم ہماری نسلوں کو اُجاڑ رہا ہے
تباہ کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج کے جوان پڑھے لکھے جاہل کے لقب سے نوازے جا رہے ہیں.
یہ یونیورسٹیاں تعلیم، علم، تربیت، تہزیب ،ادب، شعور کچھ بھی نہیں دے رہیں بلکہ جو تھوڑا بہت ان سب کا تناسب موجود ہوتا ہے وہ بھی ختم ہو جاتا ہے
ہماری یونیورسٹیاں فقط کاغذ کے ٹکڑے دے رہی ہیں.. غلامی کی سوچ اور سرکاری نوکری کے خواب عنایت کر رہی ہیں لالچ اور حسد عنایت کر رہی ہیں
ہمیں اس بارے میں سوچنا ہوگا
انفرادی طور پر اصلاح اور کوشش کرنی ہوگی تب جا کر اجتماعی طور پر چیزیں درست ہو سکتی ہیں
تلخ لکھنے پر معذرت خواہ ہوں مگر جو بھی لکھا سچ لکھا ہے... اور سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے
میرے مطابق یہ موضوع بہت طویل ہے اور ایک گہرا سمندر ہے.
مگر اجازت چاہوں گا کیونکہ آج کل ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا لمبی لمبی تحاریر پڑھنے کا 😑
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے 🙏
آمین ثم آمین 💗
Click here to claim your Sponsored Listing.