Gilgit Baltistan Educational Society.
13/05/2026
گلگت بلتستان کے نوجوان: اپنے ہی گھروں میں اجنبی
تحریر
سمیر عباس بوگر
گلگت بلتستان کے پہاڑ ہمیشہ سے مضبوطی، صبر اور خوبصورتی کی علامت رہے ہیں۔ یہاں کی وادیاں، دریا، برف پوش چوٹیاں اور سادہ لوگ اس خطے کو دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار کرواتے ہیں۔ مگر ان حسین مناظر کے پیچھے ایک ایسی خاموش اذیت چھپی ہوئی ہے جسے شاید ہی کبھی سنجیدگی سے سنا گیا ہو۔ یہ اذیت اس نوجوان نسل کی ہے جو اپنے خوابوں کی تلاش میں آہستہ آہستہ اپنے ہی گھروں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
عام انتخابات قریب آتے ہی گلگت بلتستان کی فضائیں سیاسی نعروں سے بھر جاتی ہیں۔ ہر طرف ترقی، خوشحالی اور تبدیلی کے دعوے سنائی دیتے ہیں۔ امیدوار عوام کے درمیان جا کر نوجوانوں کو قوم کا مستقبل قرار دیتے ہیں، ان کے جذبوں کی تعریف کرتے ہیں اور ان کے بہتر کل کے وعدے کرتے ہیں۔ مگر ان تمام تقریروں اور وعدوں کے باوجود ایک حقیقت ایسی ہے جسے نہ سیاست دان کھل کر تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ریاست سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے؛ اور وہ حقیقت نوجوانوں کی مسلسل ہجرت ہے۔
گلگت بلتستان کا نوجوان آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ اگر کوئی طالب علم ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھے تو اسے اپنے خاندان، اپنی زمین اور اپنی پہچان سے دور کسی دوسرے شہر جانا پڑتا ہے کیونکہ پورے خطے میں ایک مکمل اور معیاری میڈیکل یونیورسٹی موجود نہیں۔ اگر کسی کو اعلیٰ تعلیم یا جدید تحقیق کرنی ہو تو اسے اسلام آباد، لاہور، کراچی یا بیرونِ ملک کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ کی ناقص سہولتیں، بجلی کی طویل بندش، جدید لائبریریوں اور تحقیقی مراکز کی کمی، یہ سب مل کر نوجوانوں کے خوابوں کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔
یہ صرف تعلیم تک محدود مسئلہ نہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی ان نوجوانوں کے پاس واپس آنے کی کوئی وجہ نہیں بچتی۔ کیونکہ یہاں صنعتیں نہیں، بڑی کمپنیاں نہیں، ٹیکنالوجی سیکٹر نہیں، روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک نوجوان جو برسوں کی محنت کے بعد ڈگری حاصل کرتا ہے، وہ اپنے ہی علاقے میں خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ آخرکار وہ کسی بڑے شہر میں نوکری ڈھونڈ لیتا ہے، وہاں زندگی بسا لیتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کا تعلق اپنے آبائی علاقے سے صرف یادوں تک محدود ہو جاتا ہے۔
یہ ہجرت صرف جسمانی دوری نہیں، یہ جذباتی بچھڑاؤ بھی ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کے لیے رخصت تو کر دیتے ہیں، مگر اندر ہی اندر جانتے ہیں کہ اب یہ واپسی شاید مستقل نہ ہو۔ وہ بچے جو کبھی پہاڑوں میں کھیلتے تھے، دریا کنارے شام گزارتے تھے، مقامی زبانوں میں ہنستے بولتے تھے، وقت کے ساتھ اجنبی شہروں کی رفتار میں کھو جاتے ہیں۔ ان کے لہجے بدل جاتے ہیں، ترجیحات بدل جاتی ہیں، حتیٰ کہ ان کی زندگیوں کا مرکز بھی بدل جاتا ہے۔
پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ اپنے گھروں میں مستقل رہائشی نہیں بلکہ مہمان بن جاتے ہیں۔ وہ عید پر آتے ہیں، چند تصویریں بناتے ہیں، رشتہ داروں سے ملتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے والدین ان کے کمروں کو ویسے ہی سنبھال کر رکھتے ہیں جیسے برسوں پہلے تھے، مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ان کمروں میں رہنے والے اب صرف یادوں میں بستے ہیں۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سیاسی قیادت ہر انتخاب میں انہی نوجوانوں کے جذبات کو استعمال کرتی ہے۔ جلسوں میں ان کے مستقبل کی بات ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر ان کے خوابوں کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر اقتدار ملنے کے بعد ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ نوجوانوں کے مسائل پھر فائلوں، بیانات اور کمیٹیوں تک محدود ہو جاتے ہیں۔ سال گزرتے رہتے ہیں مگر نہ تعلیمی نظام بدلتا ہے، نہ روزگار پیدا ہوتا ہے، نہ انفراسٹرکچر بہتر ہوتا ہے اور نہ ہی ہجرت کا سلسلہ رکتا ہے۔
گلگت بلتستان کے نوجوان صرف روزگار نہیں مانگ رہے، وہ اپنے علاقے میں جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں اپنے والدین کے قریب رہ کر ترقی کرنے کا موقع ملے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایک طالب علم کو ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے لیے اپنی شناخت نہ چھوڑنی پڑے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے علاقوں میں بھی ایسے ادارے ہوں جہاں خواب صرف دیکھے نہ جائیں بلکہ پورے بھی ہوں۔
اس خطے کے نوجوانوں نے ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ پاکستان کے بڑے تعلیمی اداروں، سول سروس، فوج، میڈیا اور دیگر شعبوں میں گلگت بلتستان کے نوجوان نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ نوجوان اتنے باصلاحیت ہیں تو پھر ان کے اپنے علاقے ترقی سے محروم کیوں ہیں؟ کیوں ان کی صلاحیتوں کا فائدہ دوسرے شہر اٹھاتے ہیں جبکہ ان کی اپنی زمینیں خالی ہوتی جا رہی ہیں؟
یہ مسئلہ صرف ایک خطے کا نہیں، یہ پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جب کسی علاقے کے نوجوان مایوس ہو جائیں، جب وہ اپنی زمین پر اپنے لیے مستقبل نہ دیکھ سکیں، تو وہاں صرف آبادی باقی رہ جاتی ہے، زندگی نہیں۔ ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں کا نام نہیں، ترقی وہ احساس ہے جہاں ایک نوجوان یہ کہہ سکے کہ “میں اپنے گھر میں رہ کر بھی اپنے خواب پورے کر سکتا ہوں۔”
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کو صرف سیاحتی مقام سمجھنے کے بجائے ایک زندہ معاشرہ سمجھا جائے۔ یہاں یونیورسٹیاں بنائی جائیں، ٹیکنالوجی پارکس قائم کیے جائیں، جدید اسپتال اور تحقیقی مراکز بنیں، انٹرنیٹ اور بجلی جیسے بنیادی مسائل مستقل بنیادوں پر حل کیے جائیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے حقیقی مواقع پیدا کیے جائیں۔
اگر اس بار بھی انتخابات صرف نعروں، تصویروں اور وقتی وعدوں تک محدود رہے تو آنے والے برسوں میں گلگت بلتستان کی وادیاں شاید پہلے سے زیادہ خاموش ہو جائیں گی۔ گھروں کے دروازے تو کھلے ہوں گے مگر ان گھروں کے نوجوان کہیں اور زندگی گزار رہے ہوں گے۔ اور والدین اپنے بچوں کی کامیابیوں پر فخر کرتے ہوئے بھی اندر سے ٹوٹتے رہیں گے، کیونکہ کامیابی کی قیمت جدائی بن چکی ہوگی۔
اب وقت آ چکا ہے کہ نوجوان صرف ووٹر نہ رہیں بلکہ سوال کرنے والے شہری بنیں۔ وہ یہ پوچھیں کہ آخر کب تک ان کی نسلیں ہجرت پر مجبور رہیں گی؟ کب تک ان کے خواب دوسرے شہروں کی سڑکوں پر پروان چڑھتے رہیں گے؟ اور کب وہ دن آئے گا جب گلگت بلتستان کا نوجوان اپنے ہی گھر میں اجنبی نہیں بلکہ مستقبل کا معمار ہوگا؟
14/04/2026
گلگت بلتستان ایجوکیشنل سوسائٹی کے سینیئر ممبر ایڈووکیٹ محسن علی کو، گلگت بلتستان ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
محسن علی نے زمانۂ طالب علمی سے ہی گلگت بلتستان ایجوکیشنل سوسائٹی کو فعال بنانے کے لیے خدمات انجام دی ہیں، اور انہی کی محنت کے نتیجے میں آج اللہ تعالیٰ نے انہیں کم سنی میں اس رتبے سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ایڈووکیٹ محسن علی کا کیریئر ماضی کی طرح علاقے کے لیے مفید ثابت ہو۔
چیئرمین: علی عظمت بوگر
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Gilgit
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| 18:00 - 19:00 | |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| 18:00 - 19:00 | |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| 18:00 - 19:00 | |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| 18:00 - 19:00 | |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
| 18:00 - 19:00 | |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| 18:00 - 19:00 | |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |
| 18:00 - 19:00 |