Haramosh Times

Haramosh Times

Share

10/02/2024

by Nadir Ali
سارےگاما-
شیطان ایک رات میں انسان بن گئے۔۔۔۔۔ جتنے نمک حرام تھے کپتان بن گئے۔۔
برصغیر کی سیاسی تاریخ وہ جو میں نے پڑھی نفرت سے شروع نفرت پر ختم ہوتی سیاست دان کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں کھبی ناقابل عمل وعدے کھبی منصف نظر آتے کھبی عدل کا دشمن کھبی مذہب پر احسان کھبی باغی کھبی داغی ہر پانچ منٹ بعد ۔ دراصل حقیقی سیاست وہ ہوتی ہے جو نوع انسانی کو پھلوں کی سیج پر لٹانے کیلے خود خارا شگاف کانٹوں پر چلیں میرا سیاسی طرز عمل مقامی مذہبی تعصب سے آزاد خالص سیکولر ہے۔ جب سفاک معاشروں میں ہجوم کے زور پر اقتدار دوسری طرف ایک ہجوم کا سامنے ھو جمہوریت ابولہب کی دلہن بن جائے۔ سرمایہ دارں جاگیر داروں کے بیٹے بہو بٹیاں جمہوریت کے علمبردار بنے تلوار والے جمہوریت کے ڈپٹی چیمپین ھو ۔ مجھے غرض نہیں جمہوریت حجرے میں ہے یا کسی کوٹھے میں جذباتی نظریاتی تسکین کیلے ماضی حال کی انتخابی ڈائریاں پڑھتا ھوں ۔ تاریخ میں طوائف کے کئی نام ہیں۔ منڈلی ، جوق ، سنہری ،زرنگار ، زن، رقاصہ، مغنیہ ، مسکنچنی اور زہرہ جبیں مسکنچنی گلگت میں آکر کنچنی بن گئ اس کے محافظ کو ھم شینا ذبان میں دآوس dhawoosکہتے ہیں سن 1935لکھنو کی ایک انتخابی گہما گہمی پڑھ رہا تھا اس حلقے کا امیدوار مشہور معروف حکیم شمش الدین تھا اس کے مخالف امیدوار لکھنو کی مشہور طوائف دلربا جان تھی لکھنو کے شرفا کو دنیا جانتی ہے انتخابی نعرے بھی دلباتے اور ادبی ہوتے ہیں حکیم شمش الدین کسی شاعر سے اپنی انتخابی پوسٹر کیلے ایک شعر عرضی لایا تھا /ہدایت چوک کے ہر ووٹر شوقین کو/ دیجیے دل دلربا، کو ووٹ ش شمس الدین کو دوسرے کسی شاعر سے دلرباجان نے کچھ اس طرح شعر لکھوایا ۔۔۔۔ ہدایت چوک کے ہر ووٹر شوقین کو // ، دلربا ، کو ووٹ دیجییے ۔نبض شمش الدین کو / ایلکشن میں حکیم شمش الدین صاحب جیت گئے لکھنوی تہذیب کے آداب کے پیش نظر دلربا جان حکیم صاحب کے گھر گئ جیت کی مبارک دی ۔ میں ہاری تو جیت گیا ایک بات ثابت ھوگئ ۔ لکھنو میں مرد کم اور مریض ذیادہ ہیں برصغیر میں شرفا حلقوں کے امیدوار ں کو جو سنتا پڑھتا ہوں ان میں بہار سے لالو پرشا د لکھنو سے اکلیش یادو کلکتہ سے ممتابنرجی کیرالہ سے ششی تھرو غلام نبی آذاد ۔ مذہبی تعصب سے پاک پاکستان ملتان سے صرف ایک حلقہ یہاں سے یوسف رضا گیلانی (قدامت پسند ⁸⁰٪درباری)شاہ محمود قریشی(نام نہاد ترقی پسند⁹⁹٪درباری ) اور جاوید ہاشمی مزاحمتی سیاست دان کا میں کا قدر دان ہوں

23/01/2024

تہذیبی ورثہ حریب کی ایک کہانی ہے شیریں حریب کا اثر میری نظروں سے اوجھل قلب کےکسی ریشے میں رچ بس گئ ہے یاد کی پہلی یاد ہے۔ رفتہ رفتہ نہ مٹایا نہ کھویا اس یاد داشت میں مبتلا ہوں میں اب بھی پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہتا ہوں وہی آخری حریب کی یاد دھندلاسا نظر اتا ھے آنکھوں کی چمک ماضی کی جھلک کانوں میں آواز اتی ھے میرا پہلا فلش بیگ ھے لوگوں کے بقول یہ آخری حریب کا تابوت تھا۔ اونی قمیض بغیر شلوار بیاک کے اس نکڑ میں موجود تھا یہاں سے میرا گھر کا پتا دیتا تھا۔ رات کا فسوں چاند بیاک میں اتررہی ۔ گہگن میں تارے ۔ نام نامدار پر تماشائی کی کلی کھل اٹھتی ساز الاپے جاتے۔آداب کا پیمانہ چھلک اٹھتا ۔ وطن داروں کی اٹھان ،جٹک کر ،جنبش دے کر ، ہا تھ پاوں کاندھے سرک کر متزلزل مڑاتے رقص اعضا کی شاعری مختلف تھی سامعین کے جوش جذبہ مشترک تھا۔ خود سے بلند برتری کے سلسلے جاری تھے یہی کلچر کی خوفیہ ذبان وہی کلچرڈ والے سمجھ سکتے البتہ یہ سب عمل حریب کی ڈھول دھمال شہنائی کی شرر دھنن گنن پر منحصر تھا۔ علم متھالوجی بتاتی ھے میلے ناچوں لوگ کیتوں کا تعلق کی ابتدا زراعتی رسوم سے ہے البتہ کلچر اس ذمینی رسوم سے جڑا ے اسی زمیں کا مذہب ہے ہر مذہب انسان دوستی کا سبق دیتی ھے مذہب آپ کو حلال حرام جائز ناجائز بتاتا ھے کلچر اس ،کیا ؛میں رہتے ہوئے کیسے کرنے کا ڈھنگ سیکھتا ھے کلچرہی تو ہے پابندی کے دائرے میں رہتے ہوئے ذندگی میں لطف دیتا ہے پھر ذندگی بنتی میں نے منفیت سےبچنے کیلے کتابوں کا سہارا لیتا ہوں کتاب کوئی بھی ھو وہ ہمیں شعور عطا کرتی بلکہ اچھی کتابیں اچھے دوستوں کی طرح ہوتی وہ ناول جن پر فلمیں بنائیں گئ ان میں امروجان ادا ، دیوداس، پاکیزہ۔انارکلی، دیگر کتب گذشتہ لکھنو ، راک درپن، اور گردش رنگ چمن پڑھ چکا ہوں نظری میلان بھی ڈیجیٹل ادب پر منحصرہے میرے فلسفہ کے استاد کہتا تھا شجاعت اور پسپائی کے درمیان ایک ڈنڈے کا فاصلہ ہے محبت کا راگ الاپتے رہو یقینن محبت اپنی طرف مائل کریں گی بہت سے انسان کئی فاصلوں کے درمیان بسنے کے باوجود قریب رہتے ہیں۔ تاریخ میرا جذبہ ہے جب پروفیشن بن جائے تو کلاسیکل موسیقی ہی سے انجوائے کرتا ھوں 1867 میں فریڈرک ویلیم نے ٹایب ریکارڈ 25سنٹی میٹر آڈیو کیسٹ دریافت کیا تو شروع میں اس میشن کو ڈسکو گرافی کا نام دیا گیا تھا جذبات کی تجارت کیلے ولیم نے گرافون اینڈ ٹائپ رائٹر کمپنی قائم کیا تیس کروڑ آبادی والی ہندوستان سن 1902 میں پہلی دفعہ ولیم نے طوائف و گلوکارہ گوہر جان کی آواز کو ٹائپ رکاڑر میں ذخیرہ کیا اس جدت نے گوہر جان کو مشرق میں شہرت کے بلندیوں پر پہنچا دیا۔ گانا گانے کے آخر میں ، مائی نیم از گوہر جان کہتی ہے ؛ گوہر جان نے1924تک چھ سو گانے ریکارڈ کروائی ونٹیچ میوزک آف انڈیا نے 165 گانے 2006ء میں دوبارہ نشر کیے بلکہ محفوظ ہیں( یوٹیوب )۔جب سونا ایک تولہ بیس روپے کا تھا تو وہ 7ہزار روپے میں ایک گانا گاتی تھی وہ لسان اردو اکبرالہ آبادی کی بڑی مداح تھی ایک ملاقات میں تحفہ کی التجا کی اکبرآبادی کہتے ہوئے ذہنصیب نہ نبی نہ ولی نہ وصی جچ سے بھی رٹائرڈ ہوں یاد گار کے طور پر شعر کاغذ پر لکھ دیا (کون خوش بخت ہے اس دنیا میں گوہرجان کے سوا۔۔۔- سب کچھ تو دے رکھا ہے اللہ نے شوہر کے سوا ) سیاست دان بلکہ مسجدوں مدرسوں کو چندہ دیتی تھی تحریک خلافت برادران جوہر علی شوکت علی(چندہ خور برادران) گوہرجان سے چندہ لیتے تھے یہاں سے چندہ برائے مسجد کا بکس لگانے کی ابتداء ہوئی بلکہ مسلمانوں کے جذبات ہتھیار بناکر سیاسی دوکاندار ی چمکانے کی شروعات ہوئی مذہب سے آداب تک ہر چیز ملاوٹ ہو جھوٹ ہی سچ کے طور پر دام کھڑے کرتا ھے پاکستان میں کئی شہر ٹاون شاہراہیں سوسائٹیاں مولانا جوہر کےنام پر رکھا گیا ھے خود مولانا جوہر کے جذبات دیکھیں پیشے سے صحافی تھا اخبار؛زمیندار: نکلتا تھا برصغیر میں رہتے ہوئے سیاست ترکی کی کرتا حب وطنی دیکھیں دفن فلسطین میں ھوا چندا گوہرجان سے لیا اب تو میری گھر کی ہمسایہ اور گاوں کے دیگر تین مسجدوں میں صدقات خیرات کے نام پر بکس لگا ئیں ہیں نمائشی مذہبیت نے ہمیں ہمک لیا ھے موسیقی ایک اخلاقی قانون ہے یہ کائنات کو روح و دماغ کو پرواز دیتی ہے ذندگی کو خوش مزاج اور اشیا کو دلکشی دیتی ھے ۔ خدا کی ذینتیں جو اس نے اپنے بندوں کیلے پیدا کی ھے کھانے پینے کی اچھی چیزیں مختلف ذائقےکس نے حرام کی ھے بقول کیش محبت میں سب روا ھے ۔ ہر انسان کے اندر 9 جذبے ہوتے 1 رومانٹک کا جذبہ 2 خوشگوارجذبہ 3غصیلی جذبہ 4 جوش دلانے والی جذبہ 5 تفریح یا مزاح کا جذبہ 6 حیرت ظاہر کرنے والی جذبہ 7 پرسکون جذبہ 8 مایوسی کا جذبہ 9 غمگین کا جذبہ مغل اکبر کے دور کے عظم گلوکار تان سن نے راک درپن کتاب میں جذبوں کی آواز اس طرح بیان کیا تھا 1 مور کے مانند آواز جو ناف سے نکلتی ھے 2 پہپہیے کی آواز جو شکم سے نکلتی ھے 3 بھیڑ کی مانند آواز جوسینے سے نکلتی ہے 4 مرغ کی مانند آواز جو معدے سے نکلتی ہے 5 کوئیل کی مانند اوز جو قلب سے نکلتی ھے6 منڈاک کے مانند آواز جو گلے سے نکلتی ھے 7 ہاتھی کے مانند آواز جو دماغ سے نکلتی ھے 8پانج ہزارفی سکنڈ اونچا سر 9 دوہزار پانچ سو سے کم نیچا سر.

Want your business to be the top-listed Media Company in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address

Dasso, Haramosh
Gilgit
15100