ضلع گنگچھے سکردو سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے. خپلو اس ضلع کا انتظامی مرکز ہے. اور مشہ بروم سمیت چار سب ڈویژن ہیں. ہوشے گاؤں مشہ بروم پہاڑ کے دامن میں واقع ہے جہاں سے بعض اہم چوٹیوں اور برف زاروں کی طرف راستہ نکلتا ہے. خپلو محل (فوڈ) اور چقچن مسجد قدیم تعمیر کا شاہکار ہے یہ مسجد علاقہ بھر میں سب سے قدیم عبادت گاہ ہے جو پندرہویں صدی عیسوی میں تعمیر کی گئی تھی. اس کی ساخت میں بودھی طرز تعمیر اور ت
بتی انداز نمایاں دکھائی دیتا ہے. پانچ ہزار چھ سو پچاس میٹر بلند درہ گونڈوگوروکا شمار دنیا کی بلند ترین ٹریکنگ روٹس میں ہوتا ہے. اس سے قدرے کم دشوار راستے مشہ بروم پہاڑ کا بیس کیمپ اور تھلے لا (Thalay pass) ہیں، بلتی یہاں کی مقامی بولی ہے انگریزی اور اردو بھی خوب سمجھی اور بولی جاتی ہے. اہلیانِ گنگچھے اپنی روایات کے عاشق صادق ہیں. جسکی تصدیق ان کے رہن سہن، لباس اور خوردونوش سے ہوتی ہے.
ضلع گنگچھے میں اس وقت 30 سے زائد ہوٹلرز اور گیسٹ ہاوس موجود ہے جس میں تقریباً 10000 سے زائد بندوں کے لئے قیام وطعوم کا بندوبست موجود ہے. خپلو بازار جو کہ گنگچھے کا کاروباری حب ہے جہاں تقریباً 30 سے زائد بیکری اور میڈیکل سٹور موجود ہے. گنگچھے کو مکمل ایکسپلورر کرنے کے لئے آپ کو کم از کم تین دن درکار ہے. مشہور جگہوں میں ہوشے ویلی جہاں سے آپ کو مشہ بروم، گشہ بروم اور دیگر پہاڑوں کا نظارہ قریب سے مل جاتا ہے یہی نہیں بلکہ مچلو بروق سے آپ کو دنیا کی بلند ترین چوٹی K2 کا نظارہ بلکل صاف نظر آتا ہے. دوسری طرف ہاٹ سپرنگ (گرم چشمہ) کندوس یہ ایک ایسا چشمہ ہے جس میں آپ انڈہ پکا کے کھا سکتے ہیں، کندوس ویلی میں قدرتی آبشار اور گلیشیر بھی موجود ہے. کندوس ویلی سے پہلے سیاچن اور گیاری سیکٹر موجود ہے جہاں خوبصورت پہاڑی سلسلے اور سیاچن گلیشیر موجود ہے. چھوربٹ ویلی حسن سے ملامال ویلی ہے دریا سندھ بھی چھوربٹ کے مختلف نالوں اور انڈیا والی سائٹ لدخ سے بہ کر آتا ہے اس ویلی کے آخری گاؤں فرانو جہاں انڈیا پاکستان کا بارڈر لگتا ہے.