NAGAR Valley
05/12/2021
گلگت بلتستان
نگر خاص سے تعلق رکھنے والے آصف علی نے حال ہی میں جنوبی کوریا میں اپنے پی ایچ ڈی تھیسس کا کامیابی سے مکمل کیا۔
آصف علی نے پی ایچ ڈی کے لیے سیجونگ یونیورسٹی، جنوبی کوریا کے شعبہ نینو ٹیکنالوجی اینڈ ایڈوانسڈ میٹریل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔
05/12/2021
فخر نگر گلگت بلتستان پاکستان نیوی کے نوجوان حسنین عباس نے آل پاکستان نیشنل چیمپئن شپ لائٹ ویٹ کیٹگری کے سیمی فائنل میں اپنے حریف کو دھول چٹاکر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا انشاءاللہ
اپنے صلاحیتوں کے جوہر فائنل میں دکھا کر ٹائٹل اپنے نام کر لینگے اور اپنے علاقے اور قوم کا سر فخر سے بلند کر لیں گے انشاءاللہ ہماری نیک خواہشات حسنین عباس کے ساتھ ہے ۔یاد رہے کی حسنین عباس کا تعلق ضلع نگر کے گاؤں جعفر آباد سے ہے
01/12/2021
ریاست نگر کی اینگلو بروشو جنگ١٨٩٢ کا مختصر تعارف
تاریخ ریاست نگر کی یہ منفرد اور خطرناک ٢٨ روزہ جنگ دسمبر سن ١٨٩١، ١٨٩٢ میں اینگلو انڈین آرمی اور مدافعین ریاست نگر کے مابین قلعہ نلت و تھول کے مضافات میں لڑی گٸ تھی جسے مقامی زبان میں( جنگی لیٸ) یعنی جنگ کا اگلا دفاعی مورچہ فرنٹ لاٸین ڈیفنسیو بنکرز کہا جاتا ہے ریاست نگر کے اس وقت کے دفاعی حصاروں میں تزویراتی لحاظ سے نلت کا قلعہ سب سے آگے اور نسبتاً مظبوط ترین قلعہ ہونے کے باعث اکابرین مدافعین ریاست نگر نے آپس میں صلح مشورہ کے بعد حملہ آور دشمن اینگلو انڈین آرمی کے خلاف اپنا دفاعی میدان جنگ کے طور پر قلعہ نلت کو منتخب کیا تھا
برطانوی جنگی تاریخ میں یہ جنگ ”اینگلو بروشو وار آف دی نگر سٹیٹ “ سے جانی جاتی ہے
ریاست نگر کی جانب سے اس تاریخی جنگ کی قیادت میر آف ریاست نگر راجہ آزُر خان اور محمد شاہ وزیر المعروف وزیر اشدرو کر رہے تھے جبکہ ایک انفنٹری بٹالین بمعہ ایک توپ خانہ بیٹری ایک انجینیٸر پلاٹون اور چند دیگر چھو ٹی بندو بستی و امدادی صیغوں جیسے میڈیکل خوراک و اطلاعات و انٹلیجنس وغیرہ کی قیادت انگریز کمانڈر کرنل ڈیورنڈ کر رہے تھے
اس جنگ میں مدافعین ریاست نگر میں سے کمانڈر محمد شاہ وزیر سمیت ٨٠ مدافعین نگر حملہ آور اینگلو انڈین آرمی کے خلاف اپنی مادر وطن کا دفاع کرتے ہوۓ نلت قلعہ میں شہید ہوۓ اور دیگر ١٢٧ مدافعین کو جنگی قیدی بنایا گیا تھا
جبکہ دشمن کے تقریباً ١٠٨ فوجی مارے گیۓ اس جنگ میں انگریز سپاہ کا کمانڈر کرنل ڈیورنڈ بذات خود بھی شدید طور پر زخمی ہوۓ تھے
اس جنگ میں اینگلو انڈین آرمی کے ہاتھوں سقوط قلعہ نلت اور مدافعین نگر کی شکست کی بنیادی وجہ جنگ میں دشمن کی جانب سے ١٨٠ ملی میٹر توپوں کی شدید بمباری اور مدافعین نگر کا غیر تربیت یافتہ ہونا تھا
اسلیۓ کہ مدافعین نگر نےاس سے قبل اس طرح کی کسی جنگ کا سامنا نہیں کیا تھا ان کے پاس دشمن کے جواب میں ایسا کوٸ بھاری اور دور مار ہتھیار بھی دستیاب نہیں تھا مدافعین نگر صرف اس وقت کے رواٸتی ہتھیار تیر تلوار کلہاڑوں اور ڈنڈوں کے علاوہ چند ایک متروک توڑے دار اور سیٸ کمان راٸفلوں سے لیس تھے اسلحہ جاتی برتری و طاقت کا توازن واضح طور پر دشمن کے حق میں تھا
تاہم آخری مرحلے کی دو بدو لڑاٸ میں جرأت مند بہادر مدافعین نگر نے جرأت و بہادری کی ایسی مثال قاٸم کی جو نگر قوم کے لیۓ قابل صد افتخار اور دنیا کےعسکریت سے وابستہ سپاہ و عہدےدارں کے لیۓ ایک بہت ہی اہم سبق ہے
وہ اسطرح کہ جب دشمن کی سپاہ نے توپوں کی بمباری سےقلعہ کو تہس نہس کرنے کے بعد جنگ کے آخری مرحلے میں قلعہ نلت میں داخل ہو گٸ اور دریا کنارے اونچی کھاٸ پر بنے ہوۓ نلت قلعہ کے آخری دفاعی مورچوں پر صف در صف یلغار کیا گیا تو
کمانڈر محمد شاہ وزیر کے پہلے سے طے شدہ جنگی منصوبے کے تحت آخری مورچوں پر معین شیر دل مدافعین قلعہ نلت نےدشمن کے ایک ایک سپاہی کو دبوچ کر نیچے گہری کھاٸ دریا میں چھلانگ لگاتے گیۓ
جرأت و بہادری کے اس منفرد دفاعی جنگی اقدام سے کٸ ایک دشمن کے سپاہ کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا
یاد رہے کہ دنیا کی چھوٹی بڑی جنگی تاریخوں میں جرأت و بہادری کی ایسی مثال کہیں شاز و نادر ہی ملتی ہیں
اور یہ بھی واضح رہے کہ تاج برطانیہ کی تاریخ میں یہ واحد نہایت خطرناک اور محدود جنگ تھی جس میں انگریز سپاہ کے دو آفیسروں کو بیک وقت ان کے دو اعلیٰ فوجی جنگی اعزازات وکٹوریہ کراس سے نوازاگیا تھا اس سے ریاست نگر کی اس محدود تاریخی جنگ کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے طوالت کے باعث جنگ کے مفصل اسباب و نتاٸج سے قطع نظر قارٸین کی دلچسپی کےلیۓ یہاں نہایت اختصار کے ساتھ صرف واقعات جنگ پر اکتفأ کیا جاتا ہے
تحریر میجر ریٹاٸیرڈ جعفرعلی طیار نلت نگر
30/11/2021
گزشتہ دنوں کے آئی یو ہنزہ کیمپس کے باہر رونما ہونے والے واقعہ کو لے کر آج مورخہ 30 نومبر 2021 کو ہنزہ اور نگر کے عمائدین اور سیاسی قائدین کا ایک اہم جرگہ منعقد ہوا. جرگہ نے متفقہ طور پر اس ناخوشگوار واقعے کے بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فریقین کے بیج صلح کرادی اور عمائدین کے کہنے پر فریقین نے اپنے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگ لی اور فریقین کو پابند کیا گیا کہ آئندہ تعلیمی ادارے کے اندر یا باہر اس قسم کے ناخوشگوار واقعات پیدا نہ ہو. مزید جرگے نے فریقین کے آپس میں تصفیہ کروایا اور ایک خوشگوار ماحول میں اس واقعے کو منطقی انجام تک پہنچایا. مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہنزہ اور نگر کے عمائدین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور یہ کمیٹی یونیورسٹی کو درپیش مسائل کے ممکنہ حل نکالنے کے لیے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی اور بہت جلد یہ کمیٹی یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام سے مل کر ان تمام مسائل کے حل نکالنے پر غور و خوص کرے گی.
Click here to claim your Sponsored Listing.