The Writer

The Writer

Share

28/05/2026

خبر کہانی
تحریر: Abdul Salam Naaz , Abdul Salam Naz

ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والی ایک خوبصورت اور معصوم لڑکی کی زندگی کا لاہور کے روہی نالے میں افسوسناک انجام ۔۔۔۔ 2 مئی 2026 کو نالے سے ملنے والی لا۔ش کا معمہ آخرکار حل ہو گیا ۔۔۔

مہروش کے والدین برسوں پہلے لاہور منتقل ہوگئے تھے۔ وقت گزرا، مہروش جوان ہوئی تو اس کا رشتہ فہیم نامی نوجوان سے طے پایا۔ یہ شادی پسند کے بعد والدین کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ شروع میں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہے تھے اور ڈیڑھ سال بعد اللہ نے انہیں ایک بیٹی کی نعمت سے بھی نوازا۔

لیکن وقت کے ساتھ گھریلو حالات بدلنے لگے۔ خرچے بڑھے، آمدن کم پڑنے لگی اور معمولی جھگڑے رفتہ رفتہ بڑے اختلافات میں بدل گئے۔ مہروش اکثر ناراض ہوکر اپنے والدین کے گھر چلی جاتی اور فہیم اسے منا کر واپس لے آتا، مگر سکون زیادہ دیر قائم نہ رہتا۔ آخرکار ایک شدید جھگڑے کے بعد دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی اور مہروش اپنی بیٹی کو لے کر والدین کے گھر آ بیٹھی۔

والد کی محدود آمدن کے باعث مہروش نے ایک دفتر میں ملازمت شروع کر دی، جہاں اس کی ملاقات خلیل نامی شخص سے ہوئی۔ ابتدا میں دوستی ہوئی، پھر بات اعتماد اور جذبات تک جا پہنچی۔ خلیل نے شادی کی پیشکش کی مگر یہ شرط رکھی کہ شادی خفیہ طور پر کورٹ میں ہوگی کیونکہ اس کے گھر والے ایک بچی کے ساتھ طلاق یافتہ عورت کو قبول نہیں کریں گے۔

مہروش کو شاید ایک سہارے اور محبت کرنے والے شخص کی ضرورت تھی، اس نے ہامی بھر لی۔ شادی ہوگئی، خلیل نے الگ کرائے کا مکان لے کر اسے وہاں رکھ دیا، مگر وہ ہفتے میں کئی دن اپنے والدین کے گھر بھی رہتا تھا۔

ایک رات مہروش نے خلیل کا موبائل دیکھا تو گیلری میں اسے ایک خاتون اور بچے کے ساتھ خلیل کی تصاویر ملیں۔ پوچھنے پر خلیل نے اعتراف کیا کہ وہ اس کی پہلی بیوی اور بچہ ہیں۔ یہ سن کر مہروش ٹوٹ گئی، اس نے شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ یا تو پہلی بیوی کو چھوڑو یا مجھے طلاق دو۔ اگرچہ وہ دوبارہ طلاق یافتہ ہونے کا داغ اپنے اوپر نہیں لگانا چاہتی تھی۔

چند دنوں کی پریشانی کے بعد خلیل نے خوفناک فیصلہ کر لیا۔ پولیس کے مطابق ایک رات اس نے مبینہ طور پر تکیہ منہ پر رکھ کر مہروش کا گلہ گھونٹ دیا، پھر لا۔ش بوری میں ڈال کر قریب واقع روہی نالے میں پھینک دی۔ اگلی صبح اس نے تھانے جا کر بیوی کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کروا دی۔

دو دن بعد راہگیروں نے 15 پر اطلاع دی کہ نالے میں ایک خاتون کی لا۔ش موجود ہے۔ پولیس، ریسکیو 1122 اور فارنزک ٹیمیں موقع پر پہنچیں، ضروری کارروائی کے بعد لا۔ش ہسپتال منتقل کی گئی۔ فنگر پرنٹس کی مدد سے خاتون کی شناخت مہروش کے نام سے ہوئی۔

پوسٹ ۔مار۔ٹم رپورٹ کے مطابق موت سانس بند ہونے سے واقع ہوئی جبکہ لا۔ش بعد میں نالے میں پھینکی گئی تھی۔ پولیس نے خلیل کو اطلاع دی تو ابتدائی تفتیش میں ہی اس نے مبینہ طور پر ساری کہانی بیان کر دی۔ ملزم کو عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ادھر مہروش کی معصوم بیٹی اب اپنے نانا نانی کے پاس ہے، جو ایک بار پھر اپنی بیٹی کے غم کے ساتھ اس ننھی جان کی ذمہ داری اٹھانے پر مجبور ہیں ۔۔۔۔۔

28/05/2026

خبر کہانی
تحریر: عبدالسلام ناز کے قلم سے
گھر کی عزت اور غیرت کے نام پر اپنی جوانی قربان کرنے والا لاہوریا: 16 سال کی عمر میں اپنے سالے کو ق.ت.ل کیا اور 10 سال جیل کاٹی ۔۔۔ ایک ایسی کہانی کہ آپ اس نوجوان کی ہمت کی داد دیے بغیر نہ رہیں گے ۔۔۔برسوں قبل فری المعروف آغا سلطان 4 یا 5 سال کا تھا جب اسے محسوس ہوا کہ اسکی بڑی بہن کے جیدا نامی ایک نوجوان کے ساتھ تعلقات ہیں ۔ بہن لیڈی میگلیگن سکول میں پڑھتی تھی اور جیدا ایک ٹیلر ماسٹر کی دکان پر کام کرتا تھا ۔۔۔ فری یہ بھی دیکھتا کہ اسکے والدین بہن کو جھڑکتے ہیں ماموں بھی غصہ کرتے ہیں لیکن جیدے اور انکی بہن بہن کا اگلے روز پھر یہی تماشا ہوتا ۔۔۔ ایسے حالات میں فری 15 یا 16 سال کی عمر کو پہنچ گیا ۔ تب تک اسے ساری کہانی اچھی طرح سمجھ آچکی تھی ۔ دراصل سارا قصور جیدے کا بھی نہیں تھا انکی بہن بھی اس سلسلے میں ذمہ دار تھی ۔۔ عام نوجوانوں کی طرح فری عمر سے بڑی باتیں کرتا اور اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھتا تھا ۔۔۔ ایک روز فری جیدے کے پاس گیا اور اسے کہیں اکیلے بٹھا کر صاف صاف پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو ۔ ہمارے ساتھ جو کچھ کررہے ہو پورے محلے میں طرح طرح کی باتیں ہوتی ہیں ۔ آخر چاہتے کیا ہو ؟ جیدا بولا میں عزت دینا چاہتا ہوں ۔۔ فری نے کہا ٹھیک ہے جمعہ کے روز نکاح خوان اور گھر والوں کو لے کر ہمارے گھر آجاؤ ۔۔۔ جیدے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا جب فری گھر پہنچا اور والد سے بات کی تو انہوں نے اس اقدام کی مخالفت کی ، بڑے بھائی نے بھی انکار کردیا مگر ماں فری کے ساتھ کھڑی ہو گئی ۔ شریف باپ بیٹا جمعہ کے روز کہیں چلے گئے اور فری نے مقررہ وقت پر اپنی بہن کا نکاح جیدے کے ساتھ پڑھوا دیا اور اسے اسی روز گھر سے رخصت کردیا ۔۔۔۔ فری کا خیال تھا کہ اپنی منزل پاکر جیدا انسان بن جائے گا مگر نہیں جیدے نے فری سے بدتمیزی شروع کردی ۔ سر راہ سب کے سامنے پکارتا اوئے سالے جی : کیا حال ہے ؟ کبھی ماں بہن کی گا۔لی دیتا ۔۔۔ شاید اس خاندان کی شرافت کو جیدے نے اپنی کمزور سمجھ لیا تھا ۔۔۔ لیکن چند ہفتے گزرے تو ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ۔۔ فری کی چھوٹی بہن قریب ہی مشہور سرکاری سکول میں پڑھتی تھی ، فری اسے لینے جاتا تھا اب اس نے نوٹ کیا کہ جیدا اکثر سکول کے گیٹ کے پاس منڈلاتا ہے اور اسکی نظر بھی انکی چھوٹی بہن پر ہوتی تھی ۔ کچھ روز نظر رکھنے کے بعد فری کو یقین ہو گیا کہ جیدا اب انکی چھوٹی بہن کو تاڑتا ہے تو ایک روز فری جیدے کے والدین کے پاس چلا گیا ۔ اسکے والد اور بھائی اچھے لوگ تھے انہوں نے فری کی بات غور سے سنی اور جب جیدا گھر واپس آیا تو اسے خوب لعنت ملامت کی ۔۔۔۔ اگلے روز جیدا 16 سالہ فری کو پیار سے اور معافی مانگتے ہوئے یعنی شرمندگی والی باتوں کے دوران ایک فلیٹ پر لے گیا جیدے کے ساتھ ایک دوست بھی تھا دونوں نے فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند کر لیا اور فری کو نہ صرف تش۔دد کا نشانہ بنایا ۔نازیبا حرکات کیں بلکہ خنجر دکھا کر اسے بے لباس کرکے ایک کیمرے سے اسکی تصویریں بھی بنا ڈالیں ۔۔ 2 مسٹنڈوں کے سامنے ایک کم عمر لڑکا کیا کر سکتا تھا خاص کر جب اسکی نازیبا تصویریں بھی بن گئیں ، اب فری نے ان سے پوچھا کیا چاہتے ہو اور کیسے ہماری جان چھوڑ دوگے ۔۔ اس پر جیدے نے صاف کہا کہ تمہاری بڑی بہن ، چھوٹی بہن اور اب تمہاری تصویرں ہمارے پاس ہیں اگر تم چاہتے ہوں کہ ان تصویروں کے پوسٹر محلے میں ہر جگہ نہ لگیں تو کل صبح سے اپنی چھوٹی بہن کو سکول کی بجائے سیدھے یہاں لے آؤ گے ۔ اور جب چھٹی کا وقت ہو گا تو دوبارہ آکر لے جاؤ گے ۔۔۔ اور یہ سلسلہ جب تک میں کہوں گا بلاناغہ جاری رہے گا ۔۔۔۔ فری نے ہاں میں ہاں ملائی اور ان کے نرغے سے نکل آیا مگر باہر گلی میں آتے ہی فری کے سینے میں ایک آتش فشاں ابل پڑا ۔ اس کا دل چاہا کہ یا تو یہ کسی کو مار ڈالے یا پھر کوئی اسکا خاتمہ کردے کیونکہ اب خاندان کو رسوائی سے بچانے کا کوئی اور طریقہ نہ تھا ۔۔۔ خیر کسی نہ کسی طرح فری گھر پہنچا اور چھت پر جاکر لیٹ گیا یہ سوچتا رہا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ، چھوٹی بہن کو سالے کے سامنے پیش کرنے سے پہلے موت کی دعا کرتا رہا پھر جیدے کو ق۔ت۔ل کرنے کے پلان بناتا رہا کبھی خود۔ کشی کا خیال آتا اور کبی ماں اور بہن کا چہرہ سامنے آجاتا انہی خوابوں اور خیالوں میں رات اور پھر صبح ہو گئی ماں نے اسے چھت پر آکر جگایا کہ چھوٹی کو سکول چھوڑ آؤ مگر اس نے کہا رہنے دیں آج اسے چھٹی کروا دیں میری طبیعت ٹھیک نہیں ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ماں کچھ نہ بولی اور واپس چلی گئی ۔ 10 بجے کے قریب فری گھر سے نکل کر گلی میں آیا تو جیدا اسے نظر آگیا ، شاید وہ اپنے کوارٹر پر اتنظار کرکے اب یہاں آگیا تھا ۔ فری کو معلوم تھا کہ جیدے کے پاس خنجر ہو گا اور شاید پستو۔ل بھی ، جیدے نے قریب آکر فری کو گا۔لی دی تو یہ اسے قریب ہی ایک بند دکان کے تھڑے پر لے گیا کہ کوئی عذر پیش کرکے اس سے جان چھڑائے اور پھر محلے کے کسی معتبر سے مشورہ کرے۔ جیدے کو اپنا مطلب تھا چنانچہ وہ بھی فری کی بات سننے آگیا اور یہ تھڑے پر بیٹھ گیا جیدے کا دوست بھی ساتھ ہی موجود تھا ۔ فری نےہمت کرکے جیدے سے پوچھا ،اوئے یہ بتاؤ تم چاہتے کیا ہو ؟ جیدے نے الٹے ہاتھ سے ایک تھپڑ فری کو جڑ دیا ۔ تو فری اٹھا اور یہ دونوں باہم دست و گریبان ہو گئے ۔ جیدے نے جیب سے خنجر نکالا دھینگا مشتی میں خنجر زمین پر گر گیا جسے فری نے اٹھا لیا پھر کیا ہو گیا فری کو آج تک یاد نہیں بس یہ پتہ چلا کہ جیدا زخمی ہو کر گر گیا اور اسے ننجا سوزوکی سکواڈ یعنی پولیس والوں نے کچھ دور بھاگتے ہوئے پکڑ لیا اور تھانے لے گئے ۔ اس دوران فری شور مچاتا رہا مجھے مار ڈالو مجھے مار ڈالو ۔۔۔ تھانے لے جا کر پولیس ملازموں نے اسے پانی پلایا ۔۔ تب تک جیدے کی موت کیا اطلاع آچکی تھی ۔۔ فری نے ایس ایچ او ملک عابد کے سامنے سارا اور پورا واقعہ بیان کردیا ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پولیس نے ایک تھپڑ بھی مارے بغیر فری کےا عتراف جرم کے بعد اسے چالان کرکے عدالت میں پیش کیا اور پھر جیل بھیج دیا ۔ فری پر مقدمہ چلا اور اسے عدالت نے سزا۔ئے موت سنا دی ، بعد میں اپیلیں ہوئی ۔ فری کے والد اور بھائیوں نے کیس لڑا اور آخر کار ساڑھے 9 سال کا عرصہ جیل میں گزار کر فری آزاد ہو گیا آج آغا سلطان المعروف فری لاہور میں پر امن زندگی گزار رہا ہے ۔۔۔ آپ نے کہانی پڑھی ۔ یہ ضرور بتائیں کہ غیرت کے نام پر فری کا یہ جرم درست تھا یا غلط ۔۔ کیا فری کے پاس کوئی اور آپشن تھا ؟؟؟

13/05/2026

حسین قیامت خیز
خبر کہانی
تحریر: Abdul Salam Naz

حسن قیامت خیز کی کارستانیاں : کسی کے کہنے پر بیوی کو نہ چھوڑنے والا معروف ڈاکٹر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔۔۔ کراچی میں چند ہفتے قبل پیش آئے ق۔ت۔ل کے واقعہ کی اصل کہانی ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر سارنگ کا تعلق بدین سے تھا اور وہ کراچی میں پریکٹس کرتے تھے ۔انکی جوان بیوی رمینہ بھی ڈاکٹر تھی اور وہ بھی ایک ہسپتال میں پریکٹس کررہی تھی ۔ وقوعہ کے روز ڈاکٹر سارنگ ڈیوٹی کے بعد اپنی بیوی کے والدین کے گھر پہنچے وہاں سے بیوی کو ساتھ لیا اور اپنی رہائش گاہ کی طرف ایک رکشے پر روانہ ہوئے جب رکشہ مہران ہوٹل کے قریب ایک انڈر پاس سے گزر رہا تھا تو ایک گاڑی نے اوورٹیک کرکے اسے روکا اور پھر اس میں سے ایک مس۔لح نقاب پوش نوجوان باہر نکلا اس نے آکر ڈاکٹر سارنگ کو رکشے سے اترنے کو کہا مگر انکار پر اس نے گو۔لیاں چلا دیں ایک گو۔لی ڈاکٹر سارنگ کے سینے پر جب کہ تین ٹانگوں میں لگیں واردات کرکے ملزمان فرار ہو گئے ڈاکٹر سارنگ کی بیوی راہ گیروں کی مدد سے انہیں ایک اور رکشے میں ڈال کر قریبی ہسپتال لے گئی جہاں کچھ دیر بعد ڈاکٹر سارنگ جان بحق ہو گئے ۔۔۔ پولیس کی ابتدائی پوچھ گچھ کے نتیجے میں کوئی سراغ نہ مل سکا نہ تو ڈاکٹر سارنگ کی کسی سے دشمنی تھی نہ کوئی لین دین کا تنازعہ اور نہ ہی گھریلو جھگڑا تھا ۔ ڈاکٹر سارنگ اور ڈاکٹر رمینہ اچھی خوش زندگی گزار رہے تھے جب پولیس کے سامنے یہ کیس ایک اندھا ق۔ت۔ل بن گیا تو دیگر اطراف چھان بین کی گئی ۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر مق۔تول کی بیوی کا کال ڈیٹا نکلوایا تو ایک نمبر جو موبائل میں سیو نہیں تھا اس سے بار بار کالز کا آنا اور اس نمبر پر جانا ثابت ہو گیا ۔ حتیٰ کہ وقوعہ سے پہلے اور بعد میں بھی اس نمبر والے شخص کا ڈاکٹر رمینہ سے رابطہ رہا جب ان سے پوچھا گیا تو ڈاکٹر رمینہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکی ، ریکارڈ نکلوایا گیا تو پتہ چلا کہ یہ ایک سرکاری افسر کا نمبر تھا جس سے ڈاکٹر رمینہ ڈیڑھ سال سے رابطے میں تھی ۔ اس دوران بدین سے مق۔تول کے بھائی بھی پہنچ گئے انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ ماہ قبل ڈاکٹر سارنگ کا تبادلہ ہوا تھا اور انہوں نے چند ماہ گوادر کے ایک ہسپتال میں گزارے ۔۔۔ پولیس نے ڈاکٹر رمینہ کو تھانے منتقل کیا تو ذرا دیر لگائے بغیر اس نے ساری کہانی سے پردہ اٹھا دیا ۔۔۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ جن دنوں ڈاکٹر سارنگ گوادر میں تھے ایک سرکاری افسر جس کا نام حسیب تھا یہ ڈاکٹر رمینہ کی زندگی میں آگیا اور اس نے لیڈی ڈاکٹر پر مہربانیوں کی بارش کردی ڈاکٹر رمینہ بھی اس کی طرف مائل ہو گئی لیکن یہ شخص جنونی نکلا یہ چاہتا تھا کہ ڈاکٹر رمینہ سارنگ سے طلاق لے کر اس سے شادی کرے ۔۔ ڈاکٹر رمینہ نے حسیب کو سمجھایا کہ ایسے طلاق آسانی سے نہیں ہوگی اس کے لیے کوئی وجہ چاہیے جو میرے پاس نہیں ہے اگر تم واقعی مجھے پانا چاہتے ہو تو خود کوئی بندوبست کرو ۔ اس پر حسیب نے ڈاکٹر سارنگ کو مختلف طریقوں سے ڈرا کر طلاق دلوانا چاہی لیکن ڈاکٹر سارنگ اپنی خوبصورت بیوی کو طلاق دینے پر آمادہ نہ ہوئے بلکہ بیوی کے ساتھ ملک چھوڑ کر کہیں اور جانے کا سوچنے لگے تو حسیب نے خطرناک پلان بنا لیا وقوعہ کے روز ملزم نے ایک گاڑی رینٹ پر حاصل کی رمینہ کی اطلاعات پر ڈاکٹر سارنگ کی موجودگی اور لوکیشن کا پتہ چلایا اور پھر اسے انڈر پاس میں گو۔لیاں مار دیں ۔۔۔۔ اپنے شوہر کی معاون قا۔تلہ ڈاکٹر رمینہ کے علاوہ پولیس نے حسیب کو بھی گرفتار کر لیا تھا جنہیں چالان کرکے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔ یوں حسن سے مالا مال لیکن عقل و حیا سے عاری ایک پڑھی لکھی لڑکی تین خاندانوں کی بربادی کی وجہ بن گئی ۔

12/05/2026

خبر کہانی
تحریر: Abdul Salam Naz

بہاولنگر کی سکینہ بلوچنی کا انتقام : وہ خاتون جس نے اپنے ایک بیٹے کے ق.ت.ل کے بدلے میں 9 لوگ مروا دیے تھے اور پھر جشن بھی منایا تھا ۔۔۔۔ 1995 میں پیش آیا ایک سچا واقعہ ۔۔۔۔۔۔ اس واقعہ کے تفتیشی ، سابق ایس پی سید جماعت علی بخاری کی زبانی ۔۔۔۔۔بہاولنگر کی اکوکا فیملی کا ایک زمیندار جسکا نام نذر محمد اکوکا تھا اس نے دو شادیاں کی تھیں ۔ پہلی بیوی سے چار بیٹے اور ایک بیٹی جبکہ دوسری بیوی سے بھی چار بیٹے تھے ۔۔ نذر محمد کی دوسری بیوی کا نام سکینہ بلوچنی تھا اس کا بڑا بیٹا مظہر فرید بہت ہونہار ، علاقہ بھر میں مقبول ، معروف کاروباری اور ہردلعزیز قسم کا جوان تھا مگر اسکی ان خوبیوں پر پورا علاقہ خوش ہوتا لیکن اسکے سوتیلے بھائی اسکی جان کے دشمن بن گئے اور گھریلو سطح پر مشورہ کرکے سوتیلے بھائیوں شاہ جہاں وغیرہ نے مظہر فرید کو ق۔ت۔ل کر ڈالا ۔۔۔ سکینہ بلوچنی کو اپنے جوان بیٹے کے ق۔ت۔ل کا بہت صدمہ رہا ۔ ملزمان گرفتار ہو گئے ان پر مقدمہ چل رہا تھا لیکن یہ بڑی دبنگ خاتون تھی اس نے اپنے 3 باقی بیٹوں کو اپنے دودھ کی قسمیں دے کر کہا کہ جب تک اپنے بھائی کے ق۔ت۔ل کا بدلہ نہیں لوگے تمہیں اپنے بیٹے نہیں مانوں گی اور تب تک جو کچھ تم کھاؤ پیو گے اور جو میں کھاؤں پیوں گی سب حرام ہو گا ۔۔۔ چند ماہ کے دوران ہی ماں نے اپنے بیٹوں اور دیگر ننھیالی لوگوں کو اتنا اکسایا کہ انہوں نے اپنی سوتیلی ماں یعنی نذر فرید کی پہلی بیوی کا خاندان ختم کرنے کا منصوبہ بنا لیا ۔ 1995 میں یکم رمضان المبارک کو قیدیوں کی ایک وین مظہر اکوکا ق۔ت۔ل کیس میں 9 ملزمان کو عدالت پیشی پر لے کر جارہی تھی جن میں 3 سگے بھائی اور باقی انکے رشتہ دار تھے ، بہاولنگر اور بہاولپور کے سرحدی علاقہ کٹاریاں میں سکینہ بلوچنی کے بیٹوں اعظم اور باقر وغیرہ نے اپنے 18 کے قریب ساتھیوں کے ہمراہ گھات لگا لی ۔ سڑک پر رکاوٹ کھڑی کرکے قیدی وین کو روکا گیا اور گو۔لیوں کی بارش کردی گئی ، جب فائیر۔نگ روکی گئی اور ہر طرف سناٹا چھا گیا تو ملزمان نے وین کے اندر گھس کر سب لوگوں کو چیک کیا اور تسلی کی جن زخمیوں کے سانس چل رہے تھے انہیں وین کے اندر فا۔ئیر مارے گئے اور یقین کرنے کے بعد ملزمان فرار ہو گئے ، قیدیوں کی وین پر فائیر۔نگ اور 9 ملزمان کی ہلا۔کت پر پورے ملک میں شور مچ گیا کسی نے واقعہ دیکھا نہ کوئی عینی شاہد تھا چنانچہ مقامی پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف درخواست درج کی ۔ رات گئے مق۔تولین کا ایک چھوٹا بھائی اور ماں تھانے پہنچے اور نامزد پرچہ سکینہ بلوچنی اور اس کے 3 بیٹیوں سمیت متعدد ملزمان کے خلاف درج ہو گیا ، جس جگہ یہ واقعہ ہوا تھا اسکے قریب ایک گاؤں میں ملزمان اور انکی ماں سکینہ بلوچنی کی موجودگی کی اطلاع ملی جب پولیس وہاں پہنچی تو دیکھا خاتون بہت خوش تھی لڈیاں ڈالتی پھر رہی تھی اور 7 بکرے بھی حلال کروا رہی تھی جو جشن کے طور پر اور شکرانے کے طور پر غریبوں کو کھلائے جانے تھے ۔۔۔۔سکینہ کو گرفتار کرکے تھانے لے جایا گیا تاکہ اسکے بیٹے اور دیگر ملزمان گرفتاری دے دیں ۔ ایک سب سے حٰیران کن بات یہ تھی کہ قا۔تلوں یعنی سکینہ بلوچنی کے 3 بیٹوں میں سے ایک کی منگنی یا نکاح اس وقت کے وزیراعلیٰ کے بھائی کی بیٹی کے ساتھ ہو چکا تھا اس لیے اوپر سے بہت دباؤ آیا لیکن مقامی پولیس نے اوپر والوں کو سمجھایا کہ واقعہ بہت سنگین ہے اور ملزمان کی گرفتاری ضروری ہے لہذا ذرا سکون رکھا جائے جس پر بعد میں اصل ملزمان نے گرفتاری دے دی اور ماں کو بھی مشورے میں نامزد رکھا گیا ۔۔۔۔ پولیس نے بہترین اور مکمل تفتیش مکمل کی اس واقعہ کے سب ملزمان کو سزا۔ئے موت جبکہ خاتون کو کئی سال قید کی سزا سنائی گئی سپریم کورٹ تک ان کی اپیلیں گئیں جو مسترد ہوئیں اور آخر کئی سال بعد سکینہ بلوچنی کی سوکن نے ملزم فریق سے صلح کر لی ، بھاری زمین اپنے نام کروائی اور یوں 9 لوگوں کی موت کی وجہ سکینہ بلوچنی اور اسکے بیٹوں کی اس کیس سے جان چھوٹی تھی ۔۔

10/05/2026

خبر کہانی
تحریر: Abdul Salam Naz

میں تمہیں عبرت کا نشان بنا دونگا ، دنیا دیکھے گی کہ پاکستان میں ایک عیسائی لڑکی نے اسلام قبول کیا اور اسےاسکے کیے کی سزا ملی تھی ۔۔۔۔۔عیسائی شوہر کی وارننگ
میری گردن بھی اتار دو تو اسلام کو نہیں چھوڑونگی ۔ اگر تمہارے اندر اتنی غیرت ہوتی تو میرے محافظ بنتے میرا جسم نہ بیچتے : اسلام قبول کرنے والی بیوی ایمان کا جواب
لاہور کی اس سابقہ عیسائی اور اب ماشااللہ مسلم لڑکی پر گزرے حالات کا پہلا حصہ کل ایک پوسٹ میں پیش کیا جاچکا ہے اب ذکر اس لڑکی کے موجودہ حالات کا ہے ۔۔۔ ایمان جس کا سابقہ نام ٹریسا ہے اس نے 14 سال کی عمر میں ایک 35 سالہ عیسائی نوجوان سے محبت کی شادی کی تھی ۔گھاگ اور چالاک شخص نے کچی عمر کی لڑکی کو ورغلا کر اپنی محبت کے چکر میں پھنسایا تھا ۔ ٹریسا نے شادی اپنے والدین کو منا کر کی اور محبت کرنے والے والدین نے بچی کی خوشی کے لیے حامی بھر لی مگر شادی کے بعد شوہر نے بیوی سے جسم ۔فروشی کروانا شروع کردی تو لڑکی اس کے گھر سے بھاگ کر والدین کے پاس چلی گئی لیکن اصل بات والدین کو نہ بتائی جس پر رشتہ داروں اور سسرال والوں کی منت سماجت پر لڑکی متعدد بار شوہر کے پاس واپس آجاتی لیکن سلمان نامی اس بد خصلت شخص کو حرام کھانے کا شوق تھا اس نے جسم۔ فروشی تو نہ کروائی لیکن شرا۔ب اور اسل۔حہ بیچنے کے دھندے میں اپنی بیوی کو استعمال کرنا شروع کردیا ۔۔۔اس دوران ٹریسا کا ایک بیٹا بھی پیدا ہوا ۔۔۔ جب غیر قانونی کام کرنے تش۔دد اور انتہائی غلط ذہنیت کی وجہ سے ٹریسا نے آخری بار گھر چھوڑا اور والدین کے پاس آگئی تو شوہر بدمعاشوں کے ذریعے اسے اور اسکے والدین کو تنگ کرنے لگا آخر اپنے باپ کے مشورے اور جان کے تحفظ کے لیے ٹریسا ایک دارلامان چلی آئی ۔ اس نے وکیل کے ذریعے اسلام قبول کر لیا والد اور شوہر کو بھی مطلع کردیا والدین تو خوش ہوئے کہ تمہاری اپنی زندگی ہے اپنا ایمان ہے جو تمہیں اچھا لگے ہم تمہاری خوشی میں خوش ہیں لیکن شوہر جان کا دشمن بن گیا اس نے دھم۔کی بھجوائی کہ تمہیں اس جرم کی وہ سزا دونگا کہ پوری دنیا دیکھے گی کہ پاکستان میں ایک لڑکی نے عیسائی مذہب کو چھوڑا اور اسکی اسے سزا ملی ۔۔مگرایمان نے جواب بھجوایا کہ اب میری گردن بھی کٹ جائے تو خوشی سے مرجاؤں گی اور دکھ نہیں ہو گا کیونکہ میرا خاتمہ کلمہ شریف اور ایمان پر ہو گا ۔ اس وقت ایمان دارالامان میں موجود ہے اسکا بیٹا اسکے شوہر کے پاس ہے ۔ ایمان نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی مبارکباد اور تحفہ اسے بیٹے کی صورت میں دیا جائے اسکا بیٹا شوہر سے لیکر اسکے حوالے کیا جائے کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو سہارا اور آنکھوں کا نور بنا کر زندگی گزارنا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔ امید ہے لاہور کی وکلاء برادری اور اعلیٰ حکام اس نومسلم بیٹی کے کیس پر ضرور غور کریں گے ۔۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Gilgit
15100