Parbat Media Network

Parbat Media Network

Share

14/07/2026

وفاداری کا صلہ
2017 میں میں نے بلتستان ڈویژن میں پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے اپنی نئی سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ مسلسل تین سالوں تک بلتستان میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے میں دن رات جدوجہد کرتا رہا مگر 2020 کے عام انتخابات میں مجھے پارٹی ٹکٹ دینے کے بجائے میرے سیاسی مخالف کو میرے خلاف الیکشن لڑنے کے لیے ٹکٹ دیا گیا۔ یوں اس انتخابات میں مجھے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابی میدان میں اترنا پڑا اور میں نے عوامی طاقت سے وفاقی حکومت کی جماعت پاکستان تحریک انصاف سمیت پیپلز پارٹی کے امیدوار کو بھی واضح شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔
2020 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو اپنی حکومت بنانے میں واضح برتری نہیں ملی تو اس مرحلے پر بھی میں نے جماعت سے وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومت قائم کرنے میں تعاون کیا، جس کے نتیجے میں پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔
حکومت قائم ہونے کے بعد بھی مختلف مشکل مراحل میں جماعت کے ساتھ کھڑا رہا اور عوامی نمائندگی کے لیے ہر ممکن جدوجہد کرتا رہا۔ وزیراعظم عمران خان صاحب کے دورہ سکردو کے موقع پر سب سے بڑی عوامی شرکت میرے حلقے سے تھی۔ رجیم چینج کے دوران پارٹی کے نظریات کے ساتھ بھی ثابت قدم رہا۔ ملکی سطح کے تمام دھرنوں اور احتجاجی تحریکوں میں بھرپور کردار ادا کیا اور اپنے حلقے کے کارکنوں کو بھی ہر سیاسی مرحلے میں پیش پیش رکھا۔ ان تمام آزمائشوں کے دوران میں نے پشاور یا کسی اور مقام پر راہِ فرار اختیار نہیں کی بلکہ ہر چیلنج کا سامنا میدان میں رہ کر کیا۔ انہی خدمات اور قربانیوں کے اعتراف میں بانی چیئرمین عمران خان صاحب نے مجھے پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا۔ اس ذمہ داری کے دوران میں نے ہماری پارٹی کو منظم اور مضبوط بنانے، نئے سیاسی رہنماؤں کو شامل کرنے اور تنظیمی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ پارٹی میں میری بڑھتی ہوئی مقبولیت پشاور میں چھپے ہوئے ایک شخص کو ناگوار گزری اور انہوں نے تنظیمی معاملات میں بےوجہ رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دی۔ جنرل سیکرٹری کے اختیارات اور تنظیمی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پارٹی ممبران سے مشاورت کے بغیر اپنی طرف سے من پسند نوٹیفکیشن جاری کرتے رہے۔ حالانکہ جمہوری جماعتوں میں یہ تمام کام جنرل سیکرٹری کا ہوتا ہے۔ نہ صرف جنرل سیکٹری بلکہ انہوں نے تمام ممبران کی رائے کو سبکتاش کرتے ہوئے ہر معاملات میں پارٹی ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی کی۔
2026 کے انتخابات سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل میں نے بارہا مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے جائیں، تنظیم سازی مکمل کی جائے اور پارٹی کی قانونی رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہماری جماعت باقاعدہ طور پر انتخابی عمل میں حصہ لے سکے۔ مگر افسوس ان اہم بنیادی اقدامات کو ایک شخص نے اپنی قیادت کے لیے خطرہ سمجھ کر بروقت عملی جامہ نہیں پہنایا، جس کے نتیجے میں انتخابات سے قبل ہی ہماری جماعت تنظیمی طور پر کمزور ہوگئی۔ جب میں نے ان مسائل کی نشاندہی کی تو نہ صرف میری رائے کو نظر انداز کیا گیا بلکہ میرے منشا کے برعکس تنظیم سازی کرتے ہوئے وفادار کارکنوں کو بھی نظر انداز کیا گیا اور مجھے دیوار سے لگانے کی کوششیں کی گئیں۔ میرے تحفظات پر مجھ سے بات کرنے کی بجائے مجھے غدار کہہ کر میری کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے قبل ہی کسی دوسرے امیدوار کو میرے حلقے سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ صرف میرے حلقے ہی میں نہیں بلکہ دوسرے حلقوں میں بھی غیر سیاسی اور غیر جمہوری عمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ یوں پشاور میں چھپے ہوئے شخص کی غلط پالیسیوں نے حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کو بُری طرح شکست سے دوچار کر دیا۔
گلگت بلتستان کے عوام تحریک انصاف کے لیے پیش کی جانے والی میری قربانیوں، جدوجہد اور وفاداری کے گواہ ہیں۔ میں نے اپنے دور میں ہمیشہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر نہ صرف اپنے حلقے بلکہ پورے گلگت بلتستان کی ترقی اور پارٹی کے منشور کو ترجیح دی۔ مگر ایک فرد نے میری جدوجہد کو نظر انداز کیا اور اپنی کام چوری کو چھپانے کے لیے وفاقی رہنماؤں کے سامنے حقائق کو مسخ کر کے میرے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا۔ میں ان غیر منصفانہ اور منافقانہ اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ بندہ خود کو عمران خان صاحب سے بھی زیادہ تحریک انصاف کا وفادار سمجھتا ہے۔ میں ان کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دوسروں کو غداری کے سرٹیفیکیٹ دینے کی بجائے اپنا گریبان جھانک کر دیکھیں۔ سیاست میں صرف زبان چلانے کا ہنر کافی نہیں ہوتا بلکہ سیاسی حالات کو سمجھتے ہوئے جمہوری حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔
یہ شخص اگر چاہتا تو تحریک انصاف کو مستحکم کر سکتا تھا، ریجیم چینج کے دوران اپنی نااہلی سے قبل کسی دوسرے کو وزیراعلیٰ بنا کر تحریک انصاف کی حکومت کو بچا سکتا تھا۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اس کی ہر پالیسی ہماری جماعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ آج بھی وہ عمران خان صاحب کی ہمدردی حاصل کرکے گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کو کمزور کرنے میں مصروف ہے۔ جب تک وفاقی قیادت اس بندے کو پارٹی سے برطرف نہیں کرتا تب تک گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

وزیر محمد سلیم
سابق جنرل سیکرٹری، پاکستان تحریکِ انصاف گلگت بلتستان

14/07/2026

غلام محی الدین کو سیکورٹی آفیسر وزیر اعلی سیکریٹریٹ تعینات کردیا گیا

14/07/2026

🚨استور کا قدرتی حسن خطرے میں!

قدرتی حسن سے مالا مال استور کے خوبصورت سیاحتی مقامات غیر ذمہ دارانہ رویوں کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ غیر ضروری مقامات پر گاڑیوں کی پارکنگ، جگہ جگہ کچرا پھینکنا، درختوں کی کٹائی اور کھلے مقامات پر آگ جلا کر کھانے پکانے جیسی سرگرمیاں ماحول اور قدرتی حسن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہیں۔

تشویشناک امر یہ ہے کہ متعلقہ انتظامیہ کی خاموشی اور مؤثر نگرانی کے فقدان کے باعث یہ مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو استور کی یہ دلکش وادیاں اپنی اصل خوبصورتی کھو سکتی ہیں۔

درخواست:

سیاح صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
کچرا مقررہ جگہ پر تلف کریں۔
درختوں اور جنگلات کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔
غیر ضروری مقامات پر گاڑیاں کھڑی نہ کریں۔
انتظامیہ سیاحتی مقامات پر مؤثر نگرانی، جرمانوں اور آگاہی مہم کو یقینی بنائے۔

قدرتی حسن ہماری مشترکہ امانت ہے، آئیے مل کر استور کو محفوظ بنائیں۔
https://youtube.com/shorts/nyekjRIOmas?si=ysPQBlMhPbP6SZxS


Office of the Chief Secretary, Gilgit Baltistan Amjad Hussain Azar Pakistan Peoples Party - PPP Qamar Zaman Kaira

13/07/2026

بلدیاتی انتخابات 2026: ووٹر رجسٹریشن اور کوائف کی درستگی کی مدت میں 25 جولائی تک توسیع

گلگت: الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے بلدیاتی انتخابات 2026 کے لیے ووٹر رجسٹریشن، ووٹ کی منتقلی اور انتخابی کوائف کی درستگی کے عمل کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔

جاری اعلامیے کے مطابق اہل ووٹرز اب 25 جولائی 2026 تک فارم نمبر 13 اور 14 کے ذریعے نئی رجسٹریشن، ووٹ کی منتقلی اور کوائف کی اصلاح کے لیے درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔

چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے دوران اپنے ووٹ کا اندراج اور کوائف کی درستگی یقینی بنائیں تاکہ بلدیاتی انتخابات کے لیے انتخابی فہرستیں جامع اور شفاف بنائی جا سکیں۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Jutial Near Radio Pakistan Gilgit
Gilgit