Shina public page
ہائے دنیاوی زندگی 😭😭😭😭
اے ملت اسلامیہ کا عظیم سپہ سالار تیرے آنسؤوں کا ایک ایک قطرے پر ہماری ہزار جانیں قُربان
جرنیل اہلسنت والجماعت
🫀✌️💪
*اطلاعِ عام برائے عوامِ گلگت بلتستان*
حال ہی میں گلگت کے مشہور علاقے *کارگاہ نالہ* کے پہاڑی سلسلوں میں ایک *انتہائی خطرناک اور غیرمعمولی سانپ* کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ یہ صورتحال علاقے کے باسیوں اور سیاحوں کی *جان و مال کے تحفظ* کے لیے سنجیدہ خطرہ بن سکتی ہے۔
اس سنگین معاملے کے پیش نظر، *حکومتِ گلگت بلتستان* اور *متعلقہ اداروں* سے پُرزور اپیل کی جاتی ہے کہ فوری طور پر *ہیلی کاپٹر کے ذریعے* سرچ آپریشن کر کے اس خطرناک جانور کو علاقے سے ہٹایا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی واقعے سے بچا جا سکے۔
عوام الناس، خصوصاً کوہ پیماؤں، سیاحوں، اور مقامی افراد سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ *کارگاہ نالہ اور اس کے گرد و نواح کے پہاڑی علاقوں میں جاتے وقت غیر معمولی احتیاط* سے کام لیں، اور اکیلے یا غیر ضروری مہم جوئی سے گریز کریں۔
✍️
Taeen Faqir
کاکو بال ہاتھئے جو گان
😂🤣ماما بال ہاتھئے جو گان
داریل اور سنگل کے درمیان چراگاہی تنازعہ شدت اختیار کرگیا
بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں
گلگت (خصوصی نمائندہ):💯🙏🏽
گلگت بلتستان کے پُرامن خطے میں داریل اور سنگل کے درمیان چراگاہی تنازعہ خطرناک موڑ اختیار کر چکا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق دونوں علاقوں کے درمیان چراگاہ کی ملکیت اور استعمال کے معاملے پر کئی دنوں سے کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس نے اب شدت اختیار کر لی ہے۔
عمائدینِ داریل نے اپنے سخت ردِعمل میں واضح کیا ہے کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو حالات بگڑنے کی ذمہ داری ان افراد پر عائد ہوگی جنہوں نے اس تنازعے کو ہوا دی۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے اور اگر بروقت مداخلت نہ ہوئی تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔
عوام کی بڑی تعداد چراگاہ کی طرف روانہ🧑🦯🚶🏃🧑🦽🚋🚃
اطلاعات کے مطابق داریل کے باسی بڑی تعداد میں چراگاہ کی جانب روانہ ہو رہے ہیں، جس سے فریقین کے آمنے سامنے آنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ مقامی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حکومت نے دانشمندانہ اقدامات نہ کیے تو حالات کسی بھی وقت تصادم کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔✍️
ماہرین کا کہنا ہے کہ چراگاہوں پر جھگڑے کا سلسلہ برسوں پرانا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے تنازعات نے مقامی امن و سکون کو نقصان پہنچایا ہے اور کئی بار تصادم کی صورت میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان مسائل کی بنیادی وجہ چراگاہوں کی غیر واضح حدبندی اور روایتی دعوے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
عوامی مطالبہ اور ممکنہ حل👍✅
علاقے کے عمائدین اور باشعور حلقوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر فریقین کے درمیان مذاکرات کا اہتمام کرے اور چراگاہوں کی حدبندی کے لیے شفاف اور دیرپا لائحہ عمل مرتب کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو فوری طور پر علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے چاہییں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور تصادم کے خطرے سے بچا جا سکے
Taeen Faqir journalist ✍️✍️✍️✍️
Click here to claim your Sponsored Listing.