Travel With Ayyub
I have done my highest studies in Marketing & Management Sciences. Providing my services as a Freelancer.
.
. If you're working with an electronic machine, then you know how your life is different from others. When did I start traveling & exploring nature?
.
. I started traveling & be part of the adventure life from my College Time Period in 2012. I went with my uncle Sher Ali Saafi to Margalla Tr
25/07/2022
I did this trek last year 2021 and now we are going to take you to these 2 beautiful lakes.
Join Roam The World to explore more such beautiful destinations.
Traveling is my life. Adventure is my hobby
camping nights is my living style. This is how simple I am.
✳ If you would like to explore the Northern Areas of Pakistan then get in touch.
〽️ Offer customized tours, trekking, hiking, adventure, lake explorations.
➰ For Pakistan Lakes, Mountains, Valleys Guide Services Contact Me. 〰️
DM/ Call / WhatsApp
+92 345 589 89 65
25/06/2022
Somewhere in Mountains 🔥
✳ If you would like to explore the Northern Areas of Pakistan then get in touch.
〽️ Offer customized tours, trekking, hiking, adventure, lake explorations.
➰ For Pakistan Lakes, Mountains, Valleys Guide Services Contact Me. 〰️
DM/ Call / WhatsApp
+92 345 589 89 65
09/06/2022
Kutwal Lake Eid Trip with group of 30 Members. This is my 2nd time I have been there. 😍
The most beautiful valley of Northern Areas. With Beauty of different peaks, glacier and much more. ❤
✳ If you would like to explore the Northern Areas of Pakistan then get in touch.
〽️ Offer customized tours, trekking, hiking, adventure, lake explorations.
➰ For Pakistan Lakes, Mountains, Valleys Guide Services Contact Me. 〰️
DM/ Call / WhatsApp
+92 345 589 89 65
09/04/2022
وادی ہیرہ موش واقعی ناقابل فراموش !!!
سفر نامہ "وادی ہیرہ موش کٹوال جھیل"
وادی موجود سفید پوش پہاڑوں کی خوبصورتی میں۔ سبحان اللہ
وادی ہیرہ موش اور کٹوال جھیل گلگت دسٹرکٹ گلگت شہر سے ساٹھ میل کی دوری پر واقع ہے۔
اس وادی کی سیر و تفریحئ کےلیے پانچ دن کا سفر درکار ہوا۔ سفر کا آغاز 18 جون 2019 کو ہوا۔ سفر کا آغاز رات 9 بجے فیض آباد راولپنڈی اور اسلام آباد کے انڑ چینچ سے شروع ہوا، اس دورے میں کل 23 ممبرز تھے اور ان میں میں بھی شامل تھا۔ اس ٹور کا انعقاد روم دی ورلڈ کمپنی نے کیا۔
یہ سفر بائی روڈ احسن ابدال سے ناران اور بابو سر سے ہوتا ہوا،،، کےکے ایچ سکردو روڈ سے سہتوٹ 22 گھنٹے کا سفر کیا۔ اور پہلی رات کا قیام سہتوٹ میں موجود ہوٹل میں کیا۔ اور رات کے کھانے میں سٹاف نے خوب مہمان نوازی کی۔ اور کافی تھکاوٹ تھی آرام کا دل کیا مگر اس سے پہلے روایتی سبز پشاوری قہوہ بناتے ہوئے سہتوٹ کے مقامی لوگوں سے ملاقات ہوئی اور اگلے دن کے سفر کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ اس دوران تھکاوٹ آرام میں میں تبدیل ہوئی، اور ساتھ میں سبز قہوہ بھی ہو۔ دوستوں ان باتوں میں لطف تھا وہ لوگ وادی کی خوب صورتی کی تعریف اس انداز میں کر رہے تھے کہ نیند بھی چلی گئی۔ اب وادی کو دیکھنے کا اور دل چاہ رہا تھا،،، صبح کا انتظار ہونے لگا،،، اور اگلی منزل کو سر کرنا۔
[ ] گپ شپ کے بعد آرام کیا۔ اور صبح اٹھ کر جیب میں تمام ممبرز کے ساتھ "داصو" کی طرف چل پڑے، ایک گھنٹے اور تیس منٹ کے بعد جیب کے آخری سٹاپ تک پہنچے۔ اور پورٹرز کو سامان دینے کے بعد ہیرہ موش ویلی کی جانب ٹریکنگ یعنی پیدل سفر کا آغاز کیا، میرے ساتھ دوست، ماموں، ہمسفر، رہبر یعنی مخلص انسان الف شاہ کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملا۔ تمام ممبرز اور پورٹرز نے بھی سفر کا آغاز صبح 9 بجے کیا اور الف شاہ صاحب نے مجھے سارے راستہ یہی بات بولی بس تھوڑا سا سفر باقی ہے، اور اس میں کافی کچھ دیکھنے کو ملا جیسے جیسے آگے کی جانب ہوتے ہوئے گئے خوب صورت سے خوب صورت نظارہ ملتا گیا۔ سفید پوش پہاڑیاں، سر سبز اور شہاداب، پانی کے چشمے آباشاریں، پھلوں کے باغات حسین نظاروں بھری وادی کا سفر ماموں الف شاہ کے ساتھ آخر کار باتوں باتوں میں شام 7 بجے لگ بگ یعنی 9 گھنٹے کا ٹریکنگ کا سفر لطف سے اختتام کیا اور خیروخریت سے بیس کیمپ تک تمام ممبرز کے ساتھ پہنج گئے۔اس دوران کافی چیزوں کا علم ہوا، اور علاقائی ماحول سے آگاہی ہوئی۔ اور الف شاہ ماموں کے ساتھ زندگی کا حسین سفر رہا کافی چیزیں سیکھنے کو ملی، اس سفر میں ہیرہ موش ، لیلہ ، ما لنگ بٹنگ، لیڈی فنگر کے حسین نظارے یہ بلند و بالا پہاڑ کبھی بادلوں میں چھپ جائے اور کبھی سورج کی کرنوں میں چمکے یہ سفید سفید برف سے ڈھکے ہوئے حسین سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ
[ ] دوستوں رات کا ماحول پہاڑوں میں بن چکا تھا،میں نے اور تمام مسافروں نے اور الف شاہ صاحب نے بھی اپنے کو فریش کیا، تمام معاملات بروائے کار تھے، اور رات کا کھانے کے لیے انتظام کیا اس بار موقع ملا کہ میں خود کیوں نہیں کھانا بناو۔
[ ] میں نے اور باقی کچن کے ہلپرز نے کھانا بنانے کی تیار کی اور باقی ممبرز آگ کے قریب بیٹھ گئے اور ماحول کو خوش گوار کیا، تمام دوست احباب رات کا ٹائم خوش ماحول میں لطف اندوز ہو رہے تھے،
[ ] ساتھ کھانے میں چکن قورمہ اور اس سے میٹھی میٹھی آنے والی لذت کی خوشبو۔ سب مسافر دوست شدت سے بھوک میں، کھانے کا انتظار کررہے تھے، مگر اس سے پہلے کنور کے نوڈلذ اور ڈے پیک ہضم ہو گیا تھا۔ آخر کار کھانا کھایا سب نے اور ساتھ میں گرم گرم چائے اور سبز قہوہ کے مزوں سے لطف اندوز ہوئے کچھ ممبرز آرام کی طرف راغب ہوئے اور باقی دوستوں نے پھر سے محفل کو شعر و شاعری، گانوں کی گونج سے اٹھایا، میں بھی آرام دے ہوا، سبزہ قہوہ بنایا۔اور ماحول سے لطف اندوز ہوا، ایک طرف آسمان کا سماء رات کی روشنئ میں پہاڑوں کی خوبصورتی کیا بات ہے،،،
تمام مسافر سکون کی نیند سونے لگے اور میں نے بھی کچھ دیر بعد رات کے پہر 2 بجے کیمپ کی طرف راغب ہوا، اورچین کی نیند کے ساتھ آرام کیا،،،اور صبح معامول کے مطابق 8 بجے اٹھا تمام دوست جاگے ہوئے تھے اور میں اکیلا کیمپ سے باہر آیا، الف شاہ ماموں نے مجھے کیمپ سے باہر دیکھتے ہی میری طرف آئے اور بولے صبح بخیر چلو آو ناشتہ کرو تمام دوستوں نے ناشتہ کر لیا ہے میں نے عرض کی جناب ماموں میں ناشتہ تو نہیں کرتا مگر میں منہ ہاتھ دھو کر آیا، مگر شاہ جی بولے ہلکا پھلکا کھا لو، میں نے لباس بدلا اور فریش ہوا، اور شاہ جی کے بھانجے نے دیسی گھی کے ساتھ ناشتہ کے ساتھ فرمائش کی مگر ماموں کی خاطر ناشتہ کیا،،، میرے ساتھ اور دو مزید پختون بھائی نے بھی مل کر ناشتہ کیا، اگلی منزل اب ہماری کٹوال جھیل کی جانب تھی۔ میرے ساتھ دوستوں نے اس منزل کی جانب سفر شروع کیا ہم ٹھیک 9:15 بجے صبح روانہ ہوئے،،،،
راستے میں ہیرہ موش وادی کے حسین سے حسین نظارے اور وادی میں موجود میدانے میں لوگوں کو خوش گوار دیکھ کر دل باغ باغ ہوا، مزید وادی کے نظاروں اور جھیل کی جلھک کو دیکھنے کے لیے دل بے تاب ہو رہا تھا، راستے میں پریوں کے باغات اور حسین نظاروں سے دل عاشق ہوتا جارہاتھا اس وادی کا۔ جس جانب دیکھوں ایک ہی صدا رہی ماشااللہ سبحان اللہ
حسین وادی کے درمیان میدان اور سرسز درخت و شہاداب گھاس دل کو جنت کی جانب لے گیا، الف شاہ ماموں نے ایک بات یہ بھی بتائی خوش قسمت ہو تم ہی ہو جس نے یہ حسین منظر دیکھا کہ تم نے بارش کی تمنا کی اور اللہ پاک نے بارش کی بوندیں ٹھنڈئ ہواوں میں برسائی، اور اس بارش نے سماء کو خوشگوار بنا دیا، اور ہم تقریبا جھیل کے قریب پہنچ گئے کیا حسین دل کش کٹوال جھیل جو کہ سفید پوش پہاڑوں اور سرسبز پہاڑی کے ہاتھوں میں ہیں۔۔۔۔ نیلے رنگ پانی کا اور اس پر برف کی عکس،،،، حسن کی کیا بات ہے میرے اللہ پاک،،، کیا حسین جگہوں کو ان پہاڑوں میں چھپایا ہوا ہے۔ اس جھیل کا پانی مٹھاس، لذت سبحان اللہ
مزہ کی بات اس جھیل میں نہانے کا موقع ملا اتنا ٹھنڈا ٹھنڈا،،، کیا بتاو جب میں پانی میں اترا،،لگ پتا گیا تھا۔ اس دوران بارش نے پھر سے ماحول کو اپنے ہاتھوں لیا اور بارش ہونے لگی۔ کچھ دیر پانی میں رہنے کے بعد جب باہر آیا بیمار ہونے کا انکشاف ہونے لگا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں اور کپڑے بھی گیلے،،، مگر دل نے خوب انجوائے کیا،،، کچھ لمحوں کو تصویروں میں سمیٹا۔۔۔۔
2 گھنٹے خوب لطف اندوز ہوئے اور اب واپسی کی جانب چل پڑے۔
شام تک واپسی کرنی تھی کیمپ سائٹ پر ،،،
سورج ڈھلنے سے پہلے ہم سب واپس آگئے تھے،،، رات کا ہمارا پلان ہوا بکرا کھانے کا سب رضامند تھے۔ ہم کچھ دوستوں نے ایک میعاری بکرا کیمپ سائٹ کے نزدیک گاوں سے خرید کر لائے اور اس کو زبخ کیا اور اس سے ہم سب نے بار بی کیو، قورمہ، اور سفید یخنی بنائی اور مزے کی بات اس رات کافی بھوک بھی لگی تھی سب کو اور کھانا بننے میں ٹائم درکار تھا، آخر کار رات کے 12 بجے ہم سب نے بکرے سے بنے من پسند کھانے کھائے اور یخنی پینے کے بعد زرا سا سکون میں ہوئے کیونکہ تھکاوٹ تھئ زیادہ، اب کچھ دوستوں نے آرام کی چاہت کی اور اپنے اپنے کیمپس میں چل بسے اور میں نے معمول کے مطابق پھر سے اپنے لیے سبز قہوہ بنایا اور کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر قہوہ پیا، مگر میں خود قہوہ کا شوق رکھتا ہو اور ٹھنڈے علاقے میں اور بھی زیادہ،،،، میں نے اپنے لیے مزید قہوہ بنایا اور باہر بیٹھ کر ویلی میں قیام کی آخری رات کو انجوائے کرنے کو دل چاہا،،،،آگ کے قریب بیٹھے کچھ ممبرز کے ساتھ لطف اندوز اور خوش گوار انداز میں گفتگو ہوئی،،،،، اور باتوں باتوں میں صبح کی اذان ہوئی، آپس میں ہماری کافی اچھی دوستئ ہوئی، اور ہم باہر بیٹھے دوستوں نے اور ممبرز نے بھی فجر کی نماز کی ادائیگی کی۔ ٹائم تقریبا 4 بجے تھے،،، کہ میں نے اور باقی ممبرز جنہوں نے جگ رات کی تھی اب تھوڑا آرام کے طلب گار تھے کیونکہ صبخ کی روشنی میں واپسی تھی۔ تقریبا 10 بجے صبخ ہم سب دوست احباب اپنا سامان پیک کر کے اور ناشتہ کر کے واپسی کی جانب تیار تھے، ہم سب نے ایک گروپ فوٹو بناوائی اور دعا خیر کر کے واپسی کی جانب چل پڑے،،،
آج دن کے سفر میں الف شاہ ماموں تو ساتھ تھے مگر جگ رات دوستوں کے ساتھ واپسی کا سفر ہوا۔ اب راستہ واپسی کا آنے والے راستے سے مختلف تھا اور بھی لطف اندوز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپسی کے مسافروں کے ساتھ سفر بڑا تجربہ کار رہا، جیب کی چھت پر بیٹھ کر واپس آئے سہتوٹ ہوٹل، تھکاوٹ دور کرنے کے لیے دودھ پتی پی سب نے،،،، رات بھی ہو چکی تھی بارش کا موسم بنا ہم نے اس رات واپس چلاس جانا تھا مگر ہم نے پھر اسی ہوٹل رات کا قیام کیا۔ اور واپس اسلاآباد آنے کا پروگرام اگلی صبخ پر رکھ دیا، موسم اور حالات نے ساتھ نا دیا اور سب کھانا کھانے کے اپنے اپنے رومز میں چل پڑے پچھلی رات اس رات پھر سے جاگ رات رہا اور کافی چیزیں دیکھنے کو ملی مقامی لوگوں کا رقص دیکھا رات گئے آبشار کے قریب ساری رات خوب لطف اندوز ہوا۔ آخر کار ہمیں فجر کی نماز کے بعد واپس منزل کی جانب سفر کرنا تھا۔سب ممبرز تیار ہوئے اور ٹھیک 4:30 بجے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔
سب گاڑی میں آرام فرما تھے اور اللہ اللہ کرتے ہم سب خیر و خیریت اللہ پاک کے فضل وکرم سے 24 جون کی رات 2 بجے فیض آباد انڑچینج پر پہنچ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہیرہ موش ناقابل فراموش"
یہ داستان ہے ایوب خان کی۔
پانچ دن کا سفر نامہ،،، ہیرہ موش تیرے نام
18 جون - 23 جون 2019
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Kutwal Valley, Haramosh
Gilgit