Sada-e-Himalayan
05/06/2026
یاسین:
مقتول طالب علم حسن نبی اور پاک فوج کے جوان محمد نبی کے بہیمانہ قتل کے خلاف عوامی سطح پر غم و غصے کی لہر برقرار ہے۔ اس سلسلے میں "نوجوانانِ ملت اہل سنت والجماعت گوپس یاسین" کی جانب سے ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں نوجوانوں اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مقتولین کے لیے انصاف اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کے مطالبات درج تھے۔
مظاہرین کے بنیادی مطالبات:
قاتلوں کی فوری گرفتاری: نوجوانوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس لرزہ خیز قتل میں ملوث درندوں کو بغیر کسی تاخیر کے گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
علاقائی امن کا تحفظ: مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسے بزدلانہ واقعات غذر اور یاسین کے پرامن ماحول کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
برق رفتار تحقیقات: مقررین نے واضح کیا کہ ایک معصوم طالب علم حسن نبی اور ملک کے رکھوالے محمد نبی کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا، اور جب تک پسماندگان کو انصاف نہیں ملتا، عوام چین سے نہیں بیٹھے گی۔
احتجاج کے اختتام پر شرکاء اور نوجوانوں کی جانب سے دونوں شہید بھائیوں کے درجات کی بلندی، مغفرت اور سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی اجتماعی دعا کی گئی۔ نوجوانوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں مظلوم خاندان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور کیس کے منطقی انجام تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انتہائی افسوس ناک خبر-
یاسین- نازبر نالے میں دو سگے بھائیوں محمد نبی اور حسن نبی جن کا تعلق یاسین تھوداس سے تھا، کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کردیا ھے ان میں سے محمد نبی پاکستان آرمی میں حاضر سروس جونیئر کمیشنڈ آفیسر تھے اور ان کا تعلق 5 اے کے بٹالین سے تھا اور دوسرا حسن نبی جو کہ اقراء حُفاظ سیکنڈری سکول یاسین میں جماعت نہم کا طالب علم تھا-
ملزمان نے جس بے دردی سے ان کا قتل کیا ھے یہ انسانیت کے خلاف ایک سازش ھے۔ حکومت ان صفاک قاتلوں کو فوری گرفتار کرے اور انسانیت کے دشمنوں کو سر بازار پھانسی پہ لٹکایا جائے۔
28/04/2026
طاؤس چشمہ پہاڑ پر جاری تعمیراتی کام — عوامی املاک کا تحفظ اور حقائق جاننے کا حق
پچھلے کئی ہفتوں سے 'طاؤس چشمہ' کے مقام پر پہاڑ کی چوٹی کی طرف ایک نئی سڑک نکالنے کا کام جاری ہے اور بھاری مشینری مسلسل کام کر رہی ہے۔ یہ سڑک اب پہاڑ کے کافی اوپری حصے تک پہنچ چکی ہے۔
یہاں یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ اس پہاڑ کے بالکل نیچے صرف ایک بستی یا دیدار گاہ ہی نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی مارکیٹ، کالجز، سکولز، ہسپتال اور نادرا آفس سمیت دیگر اہم عوامی اور سرکاری املاک موجود ہیں۔
چونکہ اس تعمیراتی کام کو شروع ہوئے کئی ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن تاحال متعلقہ منتظمین کی جانب سے اس پراجیکٹ کے مقاصد کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لینڈ سلائیڈنگ روکنے کا کوئی منصوبہ ہے، لیکن مستند معلومات نہ ہونے کی وجہ سے عوام کے ذہنوں میں ہزاروں سوالات اور خدشات جنم لے رہے ہیں کہ آخر اتنی بلندی پر کیا بنایا جا رہا ہے جس سے نیچے موجود اربوں روپے کی املاک اور انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ہمارا علاقہ سنی، شیعہ اور اسماعیلی کمیونٹی کے باہمی اتحاد، رواداری اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ چونکہ یہ پراجیکٹ مبینہ طور پر اسماعیلی کمیونٹی کے زیرِ انتظام ہے، اس لیے ہم انتہائی ذمہ داری اور احترام کے ساتھ پراجیکٹ کے منتظمین اور متعلقہ حکام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے ایک تفصیلی بریفنگ یا آفیشل بیان جاری کریں۔
جب معلومات چھپائی جاتی ہیں یا تاخیر کا شکار ہوتی ہیں، تو معاشرے میں بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ واقعی عوامی فلاح اور لینڈ سلائیڈنگ سے بچاؤ کے لیے ہے، تو عوام کو اعتماد میں لینے سے نہ صرف ان کی پریشانی دور ہوگی بلکہ تمام کمیونٹیز کی جانب سے اس پراجیکٹ کو بھرپور سپورٹ بھی ملے گی۔
تعمیر و ترقی سب کے لیے اہم ہے، لیکن عوامی تحفظ اور باہمی اعتماد اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
Disclaimer
Please note that this image is a representation generated based on your description for illustrative and documentary purposes. While it includes the key elements mentioned, such as the construction on the mountain and the public infrastructure below, it is not a direct photograph of the actual "Taus Chashma" location in Gilgit-Baltistan. Its purpose is to visually support your post by highlighting the spatial relationship and the public safety concerns described.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100