Sada-e-Himalayan
28/04/2026
طاؤس چشمہ پہاڑ پر جاری تعمیراتی کام — عوامی املاک کا تحفظ اور حقائق جاننے کا حق
پچھلے کئی ہفتوں سے 'طاؤس چشمہ' کے مقام پر پہاڑ کی چوٹی کی طرف ایک نئی سڑک نکالنے کا کام جاری ہے اور بھاری مشینری مسلسل کام کر رہی ہے۔ یہ سڑک اب پہاڑ کے کافی اوپری حصے تک پہنچ چکی ہے۔
یہاں یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ اس پہاڑ کے بالکل نیچے صرف ایک بستی یا دیدار گاہ ہی نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی مارکیٹ، کالجز، سکولز، ہسپتال اور نادرا آفس سمیت دیگر اہم عوامی اور سرکاری املاک موجود ہیں۔
چونکہ اس تعمیراتی کام کو شروع ہوئے کئی ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن تاحال متعلقہ منتظمین کی جانب سے اس پراجیکٹ کے مقاصد کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لینڈ سلائیڈنگ روکنے کا کوئی منصوبہ ہے، لیکن مستند معلومات نہ ہونے کی وجہ سے عوام کے ذہنوں میں ہزاروں سوالات اور خدشات جنم لے رہے ہیں کہ آخر اتنی بلندی پر کیا بنایا جا رہا ہے جس سے نیچے موجود اربوں روپے کی املاک اور انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ہمارا علاقہ سنی، شیعہ اور اسماعیلی کمیونٹی کے باہمی اتحاد، رواداری اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ چونکہ یہ پراجیکٹ مبینہ طور پر اسماعیلی کمیونٹی کے زیرِ انتظام ہے، اس لیے ہم انتہائی ذمہ داری اور احترام کے ساتھ پراجیکٹ کے منتظمین اور متعلقہ حکام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے ایک تفصیلی بریفنگ یا آفیشل بیان جاری کریں۔
جب معلومات چھپائی جاتی ہیں یا تاخیر کا شکار ہوتی ہیں، تو معاشرے میں بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ واقعی عوامی فلاح اور لینڈ سلائیڈنگ سے بچاؤ کے لیے ہے، تو عوام کو اعتماد میں لینے سے نہ صرف ان کی پریشانی دور ہوگی بلکہ تمام کمیونٹیز کی جانب سے اس پراجیکٹ کو بھرپور سپورٹ بھی ملے گی۔
تعمیر و ترقی سب کے لیے اہم ہے، لیکن عوامی تحفظ اور باہمی اعتماد اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
Disclaimer
Please note that this image is a representation generated based on your description for illustrative and documentary purposes. While it includes the key elements mentioned, such as the construction on the mountain and the public infrastructure below, it is not a direct photograph of the actual "Taus Chashma" location in Gilgit-Baltistan. Its purpose is to visually support your post by highlighting the spatial relationship and the public safety concerns described.
17/03/2026
علامہ جواد نقوی کا بیانیہ — علمی بصیرت یا نظریاتی غلامی؟
ہم اکثر "ذہنی غلامی" کی بات کرتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ سب سے خطرناک غلامی وہ ہے جو عقیدت اور مذہب کے لبادے میں بیچی جائے۔ حالیہ دنوں میں علامہ جواد نقوی کے بیانات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب عقیدت وطن کی محبت پر غالب آ جائے تو انسان اپنی ہی جڑوں کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
"مذہبی لبادہ اوڑھ کر اپنے ہی ملک کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا اور دشمن کے بیانیے کو تقویت دینا سب سے بڑی 'ذہنی غلامی' ہے۔ عالم وہ ہوتا ہے جو قوم کو جوڑے، نہ کہ جواد نقوی کی طرح بیرونی ایجنڈے پر اپنے ہی ملک کو نیچا دکھائے۔"
• وطن دشمنی یا نظام پر تنقید؟ علامہ جواد نقوی کا تسلسل کے ساتھ پاکستان کے دفاعی اداروں پر تبرہ کرنا اور ریاست کو "کرائے کا سپاہی" کہنا محض تنقید نہیں بلکہ بغاوت کی ترغیب ہے۔ جو شخص اپنی مٹی کا دفاع کرنے کے بجائے حملہ آور کے بیانیے کو "حق" ثابت کرے، اس کی نیت پر سوال اٹھانا ہر محبِ وطن کا حق ہے۔
محراب و منبر کا تقدس اس میں ہے کہ وہ امت کو جوڑے۔ لیکن جب کوئی عالم کسی دوسرے ملک (ایران) کے سیاسی نظام کی وکالت میں اپنے ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگا دے، تو وہ عالم نہیں بلکہ ایک سیاسی مہرہ بن جاتا ہے۔
جواد نقوی صاحب نوجوانوں کو "حریت" کا درس تو دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر انہیں اپنے ہی ملک اور پرچم کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں۔ یہ وہی "ذہنی غلامی" ہے جہاں آپ کو اپنے ملک کی فتح میں شرمندگی اور دوسرے ملک کی مداخلت میں فخر محسوس ہونے لگتا ہے۔
سیاسی پالیسیوں سے اختلاف کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن ریاستِ پاکستان کی توہین اور دشمن کے ایجنڈے کی تشہیر کسی صورت قبول نہیں۔ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، مگر پاکستان کی بقا مقدم ہے۔
خدارا! اندھی عقیدت کے بتوں کو توڑیں اور پہچانیں کہ کون آپ کو شعور دے رہا ہے اور کون آپ کو اپنے ہی گھر کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
07/03/2026
استور واقعہ — مجرم کو نشانِ عبرت بنائیں، فرقہ واریت کو نہیں!
استور میں 6 سالہ معصوم بچے کے ساتھ پیش آنے والا درندگی کا واقعہ انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ اس معصوم کلی کے ساتھ ہونے والے ظلم پر آج ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل رنجیدہ ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب متحد ہو کر اس درندے کے لیے ایسی سزا کا مطالبہ کریں جو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جائے۔
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم ایک ایسی "ذہنی غلامی" کا شکار ہو چکے ہیں جہاں ہمیں معصوم کے بہتے خون سے زیادہ مجرم کا مسلک عزیز ہوتا ہے۔ جب کوئی سنی، شیعہ یا اسماعیلی فرد ایسا جرم کرتا ہے، تو ہم انصاف مانگنے کے بجائے دوسرے فرقے پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیتے ہیں۔ یاد رکھیے! جب آپ کسی مجرم کو مسلکی رنگ دیتے ہیں، تو آپ نادانستہ طور پر اس درندے کو ایک "تحفظ" فراہم کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ معاشرہ انصاف کے بجائے آپسی جھگڑوں میں الجھ جاتا ہے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ "درندگی کا کوئی دین نہیں ہوتا"۔ جس شخص نے یہ قبیح فعل انجام دیا، وہ خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہے، اس کا مسلک نہیں۔ دنیا کا کوئی بھی دین، چاہے وہ اسلام کے مختلف مکاتبِ فکر ہوں یا کوئی اور مذہب، معصوم بچوں پر تشدد یا جنسی زیادتی جیسی غلیظ حرکات کی اجازت تو دور کی بات، ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کسی ایک شخص کے انفرادی گناہ کی بنیاد پر پورے مسلک یا گروہ (اہلِ سنت، شیعہ یا اسماعیلی) کو کٹہرے میں کھڑا کرنا بذاتِ خود ایک ذہنی پستی اور جہالت ہے۔
ہمیں بحیثیتِ انسان اور بحیثیتِ مسلمان اس "تقسیم کرو اور راج کرو" کی پالیسی کو مسترد کرنا ہوگا۔ ہمارا مطالبہ صرف اور صرف "انصاف" ہونا چاہیے۔ ہمیں اس درندے کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف دست و گریبان ہونا چاہیے۔ اگر ہم آج خاموش رہے یا فرقوں میں بٹ گئے، تو کل کسی اور معصوم کی باری ہوگی۔
ہم حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
• اس کیس کی تفتیش کو کسی بھی قسم کے فرقہ وارانہ یا سیاسی دباؤ سے پاک رکھا جائے۔
• مجرم کو نشانِ عبرت بنا کر سرِ عام ایسی سزا دی جائے کہ پھر کوئی درندہ کسی معصوم کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہ کر سکے۔
آئیے! اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہوں اور انصاف کے حصول کے لیے متحد ہو جائیں۔ فرقوں میں بٹ کر ان پر سیاست کرنا بند کریں۔ انسانیت سب سے پہلے ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے دماغوں کو اس نفرت کی غلامی سے آزاد نہ کیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
Disclaimer: "Symbolic illustration. Not a photograph of a real event."
Trout fish 🐟 GB
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100