Gb Halqa 1

Gb Halqa 1

Share

19/04/2026

سابق وزیر ورکس دیدار علی کا حلقہ نمبر 1 اور 2 سے اسلامی تحریک کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کا امکان خاندانی ذرائع کے مطابق ظاہر کیا جا رہا ہے

19/04/2026

گلگت غذر۔ حلقہ 2 کے آزاد امید وار sp ریٹائر عبد الرحیم صاحب کا بڑا اعلان، کل تاریخی ریلی کا عندیہ

غذر (نمائندہ خصوصی) آزاد امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حلقہ 2 غذر، عبد الرحیم صاحب نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ کل کا دن تاریخی ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے لیے ایک عظیم الشان ریلی اور بڑے قافلے کی صورت میں روانہ ہوں گے۔

عبد الرحیم نے حلقے کے تمام نوجوانوں، بزرگوں، علما اور معززین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جدوجہد میں بھرپور شرکت کریں اور حق کی آواز کو مزید مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی طاقت ہی اصل قوت ہے اور اسی کے ذریعے کامیابی حاصل کی جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ریلی کا آغاز صبح 9 بجے غذر کے حدود گلاپور بیارچی سے ہوگا، جہاں سے کارکنان اور حمایتی قافلے کی شکل میں روانہ ہوں گے۔

ایس پی عبد الرحیم صاحب کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ عوام کے تعاون اور حمایت سے یہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔

26/07/2025

دوستو۔۔۔ ایک داستان، ڈاکٹر سعد اسلام کی زبانی

ہم کوسٹر میں 17 افراد سوار تھے۔ جب ہم نیچے اترے تو ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔ پھر اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں اور زمین ہلنے لگی۔ ہم نے دیکھا کہ ایک خوفناک سیلابی ریلا ہمارے بالکل قریب آ چکا ہے۔ اس ریلے کے ساتھ پتھر، مٹی اور لکڑیاں بہتی آ رہی تھیں۔

میں نے فوراً اپنے والد محترم کا ہاتھ تھام لیا اور پہاڑ پر چڑھنے لگا۔ میری والدہ کو میرے بھائی نے سنبھالا ہوا تھا جبکہ میری اہلیہ، ڈاکٹر مشعل فاطمہ، اور پانچ سالہ بیٹے ہادی کو ہماری گھریلو ملازمہ نے پکڑا ہوا تھا۔

اچانک ہم سب ایک دوسرے کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ ذہن ماؤف ہو گیا، جیسے سب کچھ رک سا گیا ہو۔

یہ داستان، جو ہم اُس وقت چلاس کے ریجنل ہسپتال کے آپریشن تھیٹر سے متصل راہداری میں سن رہے تھے، ہمیں ڈاکٹر سعد اسلام سنا رہے تھے—لودھراں سے تعلق رکھنے والے، شاہدہ اسلام میڈیکل کالج کے مالک۔ وہ بول رہے تھے، اور وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں۔ جب وہ اپنی کہانی سناتے ہوئے بار بار آنکھیں پونچھتے، تو پورے ماحول پر ایک گہرا سکوت چھا جاتا۔ ہر دل پر ایک بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا۔

ڈاکٹر سعد بتا رہے تھے:
"ہماری زندگی میں پہلی بار ایسا لمحہ آیا تھا۔ جب سب ایک دوسرے سے بچھڑ گئے، میں والد صاحب کا ہاتھ تھامے پانی میں کھڑا تھا، کہ اچانک وہ ہاتھ مجھ سے چھوٹ گیا۔ میں نے انہیں آواز دی، کہا کہ نیچے مت بیٹھیں، زمین کچی ہے۔"

"پلک جھپکتے میں دیکھا کہ میرے والد محترم میرے سامنے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ وہ دل کے مریض بھی ہیں۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ میں بےبسی کی تصویر بن کر بیٹھا رہ گیا۔"

"جب پانی کچھ کم ہوا تو میں پہاڑ سے نیچے اترا۔ میرے جوتے سیلاب میں بہہ چکے تھے۔ آگے بڑھا تو والدہ کی آواز آئی، 'بیٹا آگے مت جاؤ!' میں نے پوچھا، 'آپ سب خیریت سے ہیں ناں؟' انہوں نے کہا، 'جی، ہم سب خیریت سے ہیں۔'"

"میں نے دوڑ لگائی تاکہ والد محترم کو تلاش کر سکوں۔ ننگے پاؤں، زخمی پاؤں کے ساتھ میں تقریباً دو کلومیٹر تک پیدل گیا۔ آگے ریسکیو 1122 کی گاڑی والد صاحب کو ہسپتال منتقل کر رہی تھی۔ میں نے چیخ کر کہا، 'یہ میرے والد ہیں، گاڑی روکیں!' مگر شاید وہ میری آواز نہ سن سکے۔"

"ریسکیو اہلکار جس محنت اور جذبے سے انہیں بچانے کی کوشش کر رہے تھے، وہ ان کا کمال تھا۔ وہ کیچڑ اور پتھروں کے بیچ سے گاڑی نکالتے ہوئے برق رفتاری سے ہسپتال کی جانب رواں تھے۔"

"کافی آگے جا کر وہ رُکے، اور یوں میں ریجنل ہسپتال چلاس پہنچا۔ والد کو ابتدائی طبی امداد دی گئی، اور میری بھی مرہم پٹی کی گئی۔ پھر میں واپس تھک ویلی کی طرف روانہ ہوا تاکہ اپنی فیملی سے دوبارہ مل سکوں۔"

"وہاں پہنچا تو امی نے بھائی کی خبر دی—’فہد اسلام سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے‘۔ ابھی اس صدمے سے سنبھلا ہی نہ تھا کہ امی بولیں، 'تمہاری مسز، ڈاکٹر مشعل فاطمہ بھی سیلاب میں بہہ گئی ہیں۔'"

"اور پھر۔۔۔ جیسے میری روح ہی جسم سے جدا ہو گئی ہو۔۔۔ انہوں نے کہا، ’ہادی بھی۔۔۔‘ میرے پانچ سالہ بیٹے ہادی کو بچانے کے لیے پہلے مشعل فاطمہ نے چھلانگ لگائی، اور پھر انہیں بچانے کے لیے فہد بھی دریا کی بے رحم موجوں میں اتر گیا۔۔۔"

"بس۔۔۔ اُس وقت میرا ذہن ماؤف ہو چکا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔"

"پھر ضلعی انتظامیہ، پولیس، مقامی لوگ—سب نے جس انداز میں ہمیں حوصلہ دیا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ ڈپٹی کمشنر دیامر کیپٹن (ر) عطاءالرحمان کاکڑ صاحب نے ہمیں اپنے گھر لے جاکر خود ہمارے ساتھ صبح سے رات گئے تک ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔"

---

ہر متاثرہ فرد کی کہانی مختلف تھی، مگر دکھ، اذیت، بےبسی اور غم سب کا مشترکہ احساس تھا۔ کسی نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، کسی کا گھر، فصلیں اور زمینیں مٹ گئیں۔

یہ دنیا فانی ہے۔ نہ خوشیاں ہمیشہ رہتی ہیں، نہ غم۔ لیکن جب تک زندگی ہے، ایک دوسرے کے لیے آسانی کا ذریعہ بنیں۔ برا نہ سوچیں، برا نہ کریں۔

ذرا سوچیے۔۔۔!

08/02/2024

GB walo ks party k lia duain kar rhy ho.

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Gilgit