Jago Pakistan
25/06/2025
پہاڑ سے اترتے کیوں نہیں ؟؟
میں پہاڑ سے اتر کر گاوں جاوں گا تو پولیس رات کے کسی بھی وقت گھر پر چھاپہ مارے گی، گھر والوں کو پریشان اور اہل محلہ کو ہراساں کرے گی، کسی جعلی ایف آئی آر میں گرفتار کر کے تھانوں، عدالتوں اور زندانوں میں گھمائیں گے، اس لئے میں اپنی زندگی پہاڑوں پر گزار رہا ہوں، یاور عباس کی باتیں کانوں میں بار بار گونچ رہی ہے۔
یاور عباس نگر سے تعلق رکھتا تھا، کراچی میں محنت مزدوری کر کے تعلیم حاصل کر رہا تھا، تعلیم کی وجہ سے شعور میں اضافہ ہوا تو دھرتی گلگت بلتستان کی محرومی کا احساس ستانے لگا، سوشل میڈیا پر اپنے وطن سے اظہار محبت کی پوسٹیں لگائی تو کالا قانون فورتھ شیدول میں ڈالا گیا، کام کاج،تعلیم محنت مزدوری،سب کچھ چھین لیا گیا، مجبورا واپس گلگت بلتستان آنا پڑا۔ یہاں آتے ہی انہیں سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کی پہاڑوں کی تحفظ میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگانے پر دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، جیل سے ضمانت پر رہائی ملی تو عدالتوں کی مسلسل طلبی اور فورتھ شیڈول کی سفری بندش کی وجہ سے نہ کراچی واپس جا سکا اور نہ ہی گاوں میں سکون سے رہنے دیا گیا۔
یاور عباس ریاستی جبر سے تنگ آکر پہاڑ پر چڑ گئے، اس کے پاس ایک موبائل تھا، یہ موبائل لے کر پہاڑ پر چڑھنے والا گلگت بلتستان کا ایک عظیم مزاحمتکار تھا، یہ اپنے موبائل سے گلگت بلتستان کے پہاڑوں اور خوبصورت وادیو ں کی تصاویر بناتا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا تھا، اس طرح اور اپنی دھرتی کو دنیا میں اجاگر کرنے اور اپنی مزاحمتی جد و جہد کو جاری رکھے ہوئے تھے کہ اچانک 24 جون کو مہم جوئی کے دوران پہاڑ کی دامن نے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی آغوش میں پناہ دی، بر داس کی دامن میں پناہ لینے ہی یاور عباس کو فورتھ شیڈول، دہشت گردی، غداری کے مقدمات، پولیس کی چھاپے اور نا معلوم کی دھمکی آمیز کالوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آزادی ملی اب جبکہ آج یاور عباس کو منوا کرپہاڑ سے نیچے لایا جا چکا ہے اور انہیں اس وطن کی مٹی کے سپرد کیا جا چکا ہے جس سے اسے عشق تھا۔یاور عباس پہاڑ سے نیچے اتر چکاہے اور ان کی پہاروں کو بچانے کے لئے کی جانے والی جد وجہدتاریخ رقم کر چکی ہے۔
29/03/2025
شیخ غلام حیدر نجفی کا واحد ناکارہ اور نالائق بیٹے کے اس پھیکی بیان پر نگر قوم جرات مندانہ رد عمل
15/03/2025
شناخت درکار ہے
راولپنڈی
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی طالبہ کے ساتھ راولپنڈی کے علاقہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں بینک کے اندر واردات، نامعلوم شخص طالبہ سے یونیورسٹی فیس چھین کر فرار ہوگیا۔ پولیس تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن نے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے لی گئی تصویر سے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔ واقعہ جمعہ کے روز 14 مارچ 2025ء کو پیش آیا۔ متاثرہ طالبہ کا تعلق سکردو سے بتایا جاتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ طالبہ ایچ بی ایل بینک سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں یونیورسٹی کی فیس 80 ہزار روپے جمع کروانے گئی۔ طالبہ کاؤنٹر پر رقم جمع کرانے سے قبل گن رہی تھی کہ اسی دوران بینک کے اندر موجود ایک نامعلوم شخص نے موقع پاتے ہی طالبہ سے رقم چھینی اور فرار ہوگیا۔ متاثرہ طالبہ کے مطابق 80 ہزار روپے میں سے 15 ہزار روپے ہی ملزم کے ہاتھ لگ سکا۔ طالبہ کی طرف سے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس کو قانونی کارروائی کے لئے تحریری درخواست دے دی گئی ہے۔ دوسری طرف بینک کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے لی گئی ملزم کی تصویر شناخت کے لئے جاری کر دی گئی ہے۔ پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Gilgit
05811