Shahkhalid
Learning, Awareness and Education is the purpose of this channel
23/11/2025
غزل
خونخواره ده خونخواره ده خونخواره ده ما خوري
دا نن شپه خو چيچل کوي ښاماره ده ما خوري
څه نوې حادثه ده چې تياره ده ما خوري
بلا ده او زما خوا ته حيساره ده ما خوري
احساس د چا د سترګو د نشتوالي مې سکونډي
سپوږمئ مې په سر سمه څوکيداره ده ما خوري
زما د بربادئ د سبب مه ګورئ دليل
که هر څه دي خو لوبه له دې ښاره ده ما خوري
تاريخ ليکي په ځان پسې او جنګ ګټي په ما
ګيله مې د دې دور له باداره ده ما خوري
د لاس د صفايئ د هنر نه لري مثال
زما د سر قاتل سره يې لاره ده ما خوري
اقباله پښې مې ايښې په مرئ د بغاوت
جزبه د خاموشئ مې له انګاره ده ما خوري
اقبال ،مومند،
15/09/2025
کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے میں اس دنیا کے ہنگاموں سے دور جنگل میں اک چھوٹا سا لکڑیوں کا گھر بناؤں جہاں اس جدید دنیا کی کوئی آسائش نہ ہو نا موبائل نہ کمپیوٹر نہ ٹی وی ۔۔۔۔اس چھوٹے سے گھر میں رہوں اور ایک گائے اور کچھ بکریاں پالوں جنہیں صبح ہوتے ہی چراگاہ میں چھوڑ دوں اور گائے کا دودھ مکھن ہو اور سادہ روٹی ہو۔ ۔۔۔میں کتابیں پڑھا کروں نئی نظمیں لکھا کروں ۔ چاند کے نیچے کھلے آسمان تلے میں بانسری بجایا کروں ۔۔۔جنگل کے جانور میرےاس پاس گھومتے رہیں۔۔۔۔میں جنگل کی خاموشی کا شور سنوں ۔۔۔۔جگنووں کے پیچھے بھاگا کروں ۔۔۔ہد ہد بلبل ہمیں گیت سنائے ۔۔۔۔جب بہت تیز بارش ہو تو میں اپنے چھوٹے سے گھر کا آنگن کھول دوں۔ بھیگتے ہوئے جانوروں کو پناہ دوں ۔۔۔
دنیا مجھ سے بے خبر ہو اور میں دنیا کی فکروں سے آزاد ہوں ۔۔۔کاش یہ تخیل سچ ہو جاتے ۔
دیر اپر کا زخم، سکائی لینڈ کا درد
1980
انیس سو اسّی سے آج تک ہمارے علاقے بڈالی اور ماتاڑ میں دشمنی اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ چالیس سال سے زیادہ گزر گئے لیکن یہ خونی کھیل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ اب تک دو سے تین سو لوگ اس دشمنی کی نذر ہو چکے ہیں، سینکڑوں زخمی ہو گئے، اور نہ جانے کتنے گھر اُجڑ گئے۔
یہ خون خرابہ صرف چند خاندانوں کا نقصان نہیں بلکہ پورے علاقے کی بربادی ہے۔ ہر شہید ایک ماں کی ممتا چھین گیا، ہر زخمی ایک خاندان کے خواب توڑ گیا۔
دنیا ترقی کر رہی ہے، سیاحت کو بڑھا رہی ہے، کھیلوں کو فروغ دے رہی ہے۔ لیکن ہمارا سکائی لینڈ، جو سیاحت کے لیے جنت ہو سکتا تھا، آج بھی بارود اور بندوق کے سائے میں دب گیا ہے۔ یہاں پہاڑ، جھیلیں اور سبز وادیاں ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہیں، لیکن ہم نے اپنی سرزمین کو دشمنیوں سے برباد کر دیا۔
امن ایک ایسی نعمت ہے جس کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ امن ہو تو تعلیم بھی ہے، روزگار بھی ہے، ترقی بھی ہے، اور سیاحت بھی ہے۔ امن ہو تو کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں، نوجوان اپنی توانائی مثبت راستوں پر لگاتے ہیں، اور علاقے میں خوشحالی آتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری پولیس اور سول ایڈمنسٹریشن اب تک امن قائم کیوں نہیں کر سکی؟ کیوں یہ دشمنی ختم نہیں ہوئی؟ آخر کب تک ہمارے لوگ اسی طرح مرتے رہیں گے اور ادارے صرف دعوے کرتے رہیں گے؟
اب وقت ہے کہ ہم سب مل کر امن کے لیے آواز بلند کریں۔ دشمنیوں کو بھلا کر بھائی چارہ اپنائیں۔ اگر ہم نے یہ قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
✍️ امن ہی بقا ہے، امن ہی خوشحالی ہے، اور امن ہی سکائی لینڈ کی اصل خوبصورتی کو دنیا کے سامنے لا سکتا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Dir
18200