Azhar Edition

Azhar Edition

Share

27/02/2026

بھاگ ارجون بھاگ �

26/02/2026

Wait For �

07/02/2026

Zubair Chat GTP o sum lu doyn �

05/02/2026

Dill ka msla hai 🤣🥺

05/02/2026

Wait for end 🤣🤣

05/02/2026

Heartiest congratulations on being selected for the Abotabad Region U15! 🏏
This achievement reflects your dedication and talent. May you play with confidence, teamwork, and sportsmanship. Best of luck for a bright and successful journey Dani ❤

04/02/2026

Zarur Kar Korur Agy Share korur Take Har Ka Hanoghar agah Boni

04/02/2026

Brand + editing 🫨

03/02/2026

زمانہ پہلے ایک انگریز نے چترال بازار میں گھومتے ہوئے جو جملہ کہا تھا، وہ آج بھی ہمارے منہ پر طمانچہ بن کر برس رہا ہے: “چترالی لوگ تالیاں بجاتے بجاتے مر جائیں گے۔” افسوس کہ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں—واہ واہ، تالی اور خاموش تماشائی بنے ہوئے۔
آج تورکہو میں صحت جیسا بنیادی انسانی حق کسی سرکاری ذمہ داری کے بجائے ایک ٹھیکہ بن چکا ہے۔ تورکہو کے عوام دو ماہ سے آر ایچ سی ہسپتال کے لیے ڈاکٹروں کا مطالبہ کرتے رہے، مگر جن نمائندوں کو آواز بننا تھا وہی بہرے نکلے۔ ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی پہلے ہی نیم مردہ حالت میں ہے، اور وہاں سے ڈاکٹر اٹھا کر کسی اور خالی ہسپتال میں پھینک دینا یا کرایے کے ڈاکٹرز لانا اصلاح نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ناکامی کا اعتراف ہے۔یہ کیسی حکومت ہے جو تیرہ سال میں ایک ہسپتال بھی فعال نہ کر سکی، مگر فخر کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ ہسپتال اے کے ایچ ایس پی کے حوالے کر دیا گیا؟ اس فیصلے کا مطلب صاف ہے: غریب عوام علاج کے لیے اب ڈبل فیس دیں، اور حکمران واہ واہ سمیٹیں۔ جب صحت کاروبار بن جائے تو پھر حکومت اور جنگلستان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔اصل المیہ یہ نہیں کہ ہسپتال خالی ہیں، اصل المیہ یہ ہے کہ شعور بھی خالی ہے۔ اور جب تک تالی بجتی رہے گی، نااہلی اقتدار میں رہے گی۔ اور ہاں ہم نے اپنے آباؤ اجداد سے سنی ہے جب مہتر۔ چترال اپنی جانشین کا تعین کرتے وہ پہلے اس شھزادے کو تورکہو کا گورنر بنا کر بھیجتے تاکہ وہاں جاکر زیرک دور اندیش اور ہوشیاری سمیٹے اج تورکہو میں وہ لوگ ناپید ہوگئے ہیں ہاتھی کی کان میں سوئے ہیں یا ان کے لیڈران خواب خرگوش میں سوئے ہیں اپنی غریب اور متوسط طبقے پر ان کو رحم نہیں اتا اور واہ واہ کا حصہ بنے ہوئے ہیں
تحریر: لطیفہ شاہ
سوشل ورکر، اپر چترال

Photos from Azhar Edition's post 03/02/2026

گزشتہ روز چیئرمین ٹی ٹی آر ایف عمیر خلیل اللہ اور وائس چیئرمین شعیب میر اور معراج نبی نے سینیٹر طلحہ محمود سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اس ملاقات میں شیڈول فور کے حوالے سے ایس ڈی پی اور ڈی پی او کی غیر منصفانہ رویے پر تفصیلی گفتگو ہوئی سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کو میں جلد حل کروں گا ابھی میں نے صرف آواز اٹھائی ہے اگر مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو میں انہیں سینیٹ میں بلاؤں گا اور اس زیادتی کا حساب لوں گا
Deputy Commissioner Upper Chitral
Muhammad Talha Mahmood

03/02/2026

چترال اپر میں میگا کرپشن
اپر چترال میں ترقی نہیں لوٹ مار ہو رہی ہے

تحریر؛ محمد ہارون

کرپشن اپر چترال کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ نااہل منتخب نمائندے اور انکے چند چمچے ..مختلف سرکاری محکموں کے اہلکاروں اور چند مافیا ٹھیکیدار مل کر ہمارے علاقے کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

پچھلے سال برف باری کے بعد لوکل سڑکوں اور پلوں کی معمولی مرمت کے نام پر 38 کروڑ روپے ہڑپ کیے جارہے ہیں

کاغذوں میں ترقی۔۔۔ زمین پر صرف ملبہ ۔۔۔۔

اپریل اور اگست دو ہزار چوبیس کے ڈزاسٹر میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ تورکہو ریچ ہوا تھا چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کمشنر ملاکنڈ اور دیگر اعلیٰ افسران خود وہان تشریف لائے تھے مگر ریچ کے عوام اور نوجوانوں کے مطابق سڑک ایک لاکھ ساٹھ ہزار کے صفائی کا کام ہوا ہے پل کو اے۔ کے۔ ار۔ ایس۔ پی۔ کے تعاون سے مرمت کیا گیا
ریچ میں کام لاکھوں کا بھی نہیں ادائیگیاں کروڑوں میں ... یہ صرف ناانصافی نہیں یہ عوام کے ساتھ کھلا مذاق اور پاکستان تحریک انصاف کے نظریۂ انصاف پر بھی کاری ضرب ہے....اب خاموشی جرم ہے
اپر چترال کے باشعور عوام سے اپیل ہے کہ سیاسی علاقائی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ان کرپٹ مافیاز کے خلاف آواز بلند کریں حساب مانگیں ثبوت مانگیں جواب مانگیں اگر آج نہ بولے تو کل کچھ بھی نہیں بچے گا
اپر چترال میں لاکھوں روپے کے کام کیے بغیر 38 کروڑ روپے چند مافیاز میں بندر بانٹ کیے جا رہے ہیں جبکہ اسی طرح لوئر چترال میں بھی بغیر مؤثر کام کے 13 کروڑ روپے انہی مافیاز میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
میں اپر اور لوئر چترال کے عوام الناس سے اپیل کرتا ہوں کہ علاقائی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ذاتی و سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر علاقے کی ترقی کے لیے متحد ہوں اور ان مافیاز کے خلاف آواز بلند کریں۔ پریس کانفرنس کریں
احتجاج کریں جلسہ جلوس نکالیں
اگر ہم آج خاموش رہے تو حکومتی وسائل آئندہ بھی انہی مافیاز میں تقسیم ہوتے رہیں گے اور ہمارا علاقہ اسی طرح پسماندہ رہے گا۔
انشاء اللہ اپر اور لوئر چترال کے عوام اس میگا کرپشن کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں گے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Chitral?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Chitral