SYM tech
16/05/2026
نیکی کا چسکا :
حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ دروازہ رسول اللہ ﷺ پر کلمہ پڑھنے آئے مسلمان ہونے کے بعد نبی کریم علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کرنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بات پوچھنی ہے حضور نے فرمایا پوچھو کہنے لگے یا رسول اللہ دور جاہلیت میں ہم نے جونیکیاں کی ہیں، ان کا بھی اللہ ہمیں آجر عطا کرے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اسکا بھی آجر ملے گا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا تو بتا تو نے کیا نیکی کی تو کہنے لگے یا رسول اللہﷺ میرے دو اونٹ گم ہوگئے میں اپنے تیسرے اونٹ پر بیٹھ کراپنے دو اونٹوں کو ڈھونڈنے نکلا میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اس پار نکل گیا جہاں پرانی آبادی تھی وہاں میں نے اپنے دو اونٹوں کو پا لیا ایک بوڑھا آدمی جانوروں کی نگرانی پر بیٹھا تھا اس کو جا کر میں نے بتایا کہ یہ دو اونٹ میرے ہیں، وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آگئے تھے تمہارے ہیں تولے جاؤ انہی باتوں میں اس نے پانی بھی منگوا لیا چند کھجوریں بھی آ گئی میں پانی پی رہا تھا کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ ایک بچے کی رونے کی آواز آئی تو بوڑھا پوچھنے لگا بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا۔ میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کرو گے کہنے لگا اگربیٹا ہوا تو قبیلے کی شان بڑھائے گا اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اسے زندہ دفن کرا دوں گا اس لیے کہ میں اپنی گردن اپنے داماد کے سامنے جھکا نہیں سکتا میں بیٹی کی پیدائش پر آنے والی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا میں ابھی دفن کرا دوں گا حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا میں نے اسے کہا پھر پتہ کرو بیٹی ہے کہ بیٹا ہے اس نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ بیٹی آئی ہے میں نے کہا کیا واقعی تو دفن کرے گا کہنے لگا ہاں ! میں نے کہا دفن نہ کر مجھے دے دے میں لے جاتا ہوں یا رسول اللہ صلی علیہ وسلم وہ مجھے کہنے لگا اگر بچی تمہیں دے دوں تو تم کیا کرو گے میں نے کہاتم میرے دو اونٹ رکھ لو بچی دے دو کہنے لگا نہیں دو نہیں یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے آیا ہے یہ بھی لے لیں گے حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ عرض کرنے لگے ایک آدمی میرے ساتھ گھر بھیجو یہ مجھے گھر چھوڑ آئے میں یہ اونٹ اسے واپس دےدیتا ہوں ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے تین اونٹ دےکے ایک بچی لی اس بچی کو لاکے میں نے اپنی کنیز کو دیا نوکرانی اسے دودھ پلاتی یا رسول اللہ وہ بچی میرے داڑھی کے بالوں سے کھیلتی وہ میرے سینے سے لگتی حضور پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا پھر میں ڈھونڈنے لگا کہ کون کون سا قبیلہ بچیاں دفن کرتا ہے یا رسول اللہ میں ڈھونڈنے لگا میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا یا رسول اللہ میں نے 360 بچیوں کی جان بچائی ہے میری حویلی میں تین سو ساٹھ بچیاں پلتی ہیں حضور مجھے بتائیں میرا مالک مجھے اس کا اجر دے گا؟ کہتے ہیں حضور کا رنگ بدل گیا داڑھی مبارک پر آنسو گرنے لگے مجھے سینے سے لگایا میرا ماتھا چوم کے فرمانے لگے یہ تو تجھے اجر ہی تو ملا ہے رب نے تجھے دولت ایمان عطا کر دی ہے نبیﷺ فرمانے لگے یہ تیرا دنیا کا اجر ہے اور تیرے رسولﷺ کا وعدہ ہے قیامت کے دن رب کریم تمہیں خزانے کھول کے دے گا۔
امام طبرانی نے اس حدیث کو طبرانی میں لکھا ہے۔
15/05/2026
آج کے نوجوان کا سب سے بڑا دشمن: "کنفیوژن"
آج کل ہر طرف ایک ہی شور ہے— "بزنس آئیڈیا"۔ لیکن اس شور میں جو چیز سب سے زیادہ دب گئی ہے، وہ ہے ہمارے نوجوانوں کی ذہنی الجھن۔
سچ تو یہ ہے کہ آج مواقع کی کمی نہیں، بلکہ انتخاب کی کثرت (Overload) مسئلہ بن چکی ہے۔ روز ایک نئی ویڈیو سامنے آتی ہے: کبھی ای کامرس کا جادو دکھایا جاتا ہے، کبھی کرپٹو کے خواب، تو کبھی فری لانسنگ اور رئیل اسٹیٹ کے سبز باغ۔ نتیجہ؟ ہمارا نوجوان ہر کشتی میں پاؤں رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور آخر میں وہیں کھڑا رہ جاتا ہے جہاں سے شروع کیا تھا۔
یاد رکھیں: فوکس کا بکھر جانا ہی ناکامی کا پہلا قدم ہے۔
کامیابی کا راز "سب کچھ کرنے" میں نہیں، بلکہ "ایک چیز کو ڈھنگ سے کرنے" میں ہے۔ دنیا کے کامیاب ترین لوگوں نے پہلے خود کو سمجھا، اپنی مہارت کو پہچانا اور پھر ایک سمت پکڑ لی۔ وہ تب تک نہیں رکے جب تک اس ایک کام میں ماہر نہیں ہو گئے۔
بزنس صرف پیسہ کمانے کی مشین نہیں ہے، بلکہ کسی "مسئلے کا حل" ہے۔ اگر آپ مارکیٹ میں کسی کی مشکل آسان کر رہے ہیں، تو یقین مانیں پیسہ آپ کے پیچھے خود آئے گا۔
دو بڑی غلطیاں جو ہم کر رہے ہیں:
پرفیکٹ وقت کا انتظار: ہم سوچتے ہیں کہ جب سب کچھ ٹھیک ہوگا تب شروع کریں گے۔ بھائی! پرفیکٹ وقت کبھی نہیں آتا، اسے چھیننا پڑتا ہے۔ جو ہے، جیسا ہے، وہیں سے آغاز کریں۔
سوشل میڈیا کا موازنہ: کسی کی "فائنل منزل" کو دیکھ کر اپنے "پہلے قدم" کا موازنہ کرنا چھوڑ دیں۔ اس چمک دھمک کے پیچھے سالوں کی محنت اور سینکڑوں ناکامیاں ہوتی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتیں۔
اگر آپ واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو یہ تین لفظ پلے باندھ لیں:
✅ وضاحت (Clarity): پہلے یہ طے کریں کہ کرنا کیا ہے۔
✅ مستقل مزاجی (Consistency): چاہے کچھ بھی ہو، کام نہیں چھوڑنا۔
✅ صبر (Patience): بیج آج بویا ہے تو پھل کل نہیں ملے گا۔
کنفیوژن کے دائروں سے نکلیں اور محض سوچنے کے بجائے "عمل" شروع کریں۔ ایک چھوٹا سا قدم، جو صحیح سمت میں اٹھایا جائے، آپ کی زندگی بدلنے کے لیے کافی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا واقعی معلومات کی زیادتی نے ہمیں کنفیوز کر دیا ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
15/05/2026
ہالینڈ کا کل رقبہ صرف 41,865 مربع کلومیٹر ہے، یعنی ہمارے خیبر پختونخوا سے بھی کم ، پاکستان سے 21 گنا چھوٹا ملک ہے۔
مگر حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ہالینڈ دنیا میں امریکہ کے بعد دوسرا سب سے بڑا زرعی چیزیں ایکسپورٹ کرنےوالا ملک ہے، اور امریکی ڈالر میں اس کا مقابلہ صرف امریکہ کرتا ہے۔ وہ جدید زراعت، بہتر بیج، اور سمارٹ واٹر مینجمنٹ سے پوری دنیا کو کھلاتے ہیں۔
دوسری طرف ہمارے پاس 21 گنا زیادہ زمین اور دریاؤں کا نیٹ ورک، کے باوجود ہم آج بھی خوراک کا تیل، کپاس اور گندم باہر سے منگوا رہے ہیں۔
فرق زمین کا نہیں، سوچ اور منصوبہ بندی کا ہے۔
اگر ہالینڈ اتنی چھوٹی زمین پر زراعت کا بادشاہ بن سکتا ہے، تو پاکستان کے پاس تو اللہ نے ہر نعمت دے رکھی ہے۔
آؤ ان چیزوں میں مقابلہ کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the university
Telephone
Website
Address
Chiniot