Hadees e Nabvi S. A. W
19/01/2026
نبی ﷺ نے فرمایا:
“ذو النون (یونسؑ) کی دعا یہ ہے:
لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ، إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
جو مسلمان کسی مصیبت میں یہ دعا کرے، اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔”
حوالہ: سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3505
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے حضرت یونسؑ کی اس عظیم دعا کی فضیلت بیان فرمائی ہے جو انہوں نے شدید آزمائش کے وقت پڑھی تھی، اس دعا میں سب سے پہلے اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہے، پھر اس کی پاکی بیان کی گئی ہے اور آخر میں بندہ اپنی غلطی اور کمزوری کا اعتراف کرتا ہے، یہی تین چیزیں دعا کی قبولیت کا اصل راز ہیں، کیونکہ جب انسان مصیبت کے وقت دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اللہ کی عظمت مانے اور اپنی کوتاہی تسلیم کرے تو اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص شدید پریشانی، بیماری، قرض یا کسی بڑی مشکل میں مبتلا ہو اور دل کی گہرائی سے یہ دعا پڑھے تو اللہ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے، یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل گھڑی میں مایوسی نہیں بلکہ عاجزی، توبہ اور اللہ کی طرف مکمل رجوع ہی نجات کا ذریعہ ہے۔
17/01/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
شراب کے پینے والے پر بھی اللہ کی لعنت ہے، اور پلانے والے پر بھی، اس کے بیچنے والے اور خریدنے والے پر بھی، اس کے نچوڑنے والے اور نچڑوانے والے پر بھی، اسے اٹھا کر لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے—سب پر اللہ کی لعنت ہے۔
📖 حوالہ
سنن ابو داود
حدیث نمبر: 3674
یہ حدیث اسلام میں شراب (خمر) کی حرمت کو نہایت جامع اور سخت انداز میں واضح کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے صرف شراب پینے والے ہی نہیں بلکہ اس سے جڑے ہر فرد اور ہر مرحلے کو اللہ کی لعنت کا مستحق قرار دیا، تاکہ اس برائی کی جڑ کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
اسلام صرف فرد کے عمل کو نہیں بلکہ پورے نظامِ گناہ کو روکتا ہے
شراب چونکہ عقل، اخلاق اور معاشرے کو تباہ کرتی ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کا تعاون سنگین جرم ہے
حرام کام میں بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک ہونا بھی اللہ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے
یہ حدیث مسلمانوں کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ پاکیزہ معاشرہ قائم کرنے کے لیے نہ صرف خود گناہ سے بچنا ضروری ہے بلکہ گناہ کے پھیلاؤ میں کسی بھی درجے میں شریک ہونا بھی حرام ہے۔ یہ تعلیم تقویٰ، ذمہ داری اور اجتماعی اصلاح کا مضبوط اصول فراہم کرتی ہے۔
11/01/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“عمرہ کرنے والے اللہ کے ملاقاتی (اور مہمان) ہیں، اگر وہ اللہ سے دعا کریں تو اللہ ان کی دعا قبول فرماتا ہے، اور اگر وہ بخشش مانگیں تو انہیں بخش دیتا ہے۔”
📚 حوالہ:
سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 2892
📝 وضاحت:
اس حدیث میں عمرہ کی عظیم فضیلت بیان کی گئی ہے۔ عمرہ ادا کرنے والا اللہ تعالیٰ کا خاص مہمان ہوتا ہے، اور مہمان کی دعا رد نہیں کی جاتی۔ اسی لیے عمرہ کے دوران مانگی گئی دعاؤں کی قبولیت کی خاص امید رکھی جاتی ہے، اور مغفرت کا دروازہ کھلا ہوتا ہے۔
💡 سبق:
عمرہ کے موقع پر زیادہ سے زیادہ دعا، استغفار اور توبہ کرنی چاہیے، اور اس نعمت کو غفلت میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
04/01/2026
درود شریف وہ خزانہ ہے جو ہر حال میں فائدہ دیتا ہے؛
🌹غفلت میں رحمت
🌹پریشانی میں چین
🌹گناہ میں شفاعت
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
54000