Buner Exclusive

Buner Exclusive

Share

17/06/2026
14/06/2026

Opinion Article at Frontier News
اوورلوڈ ماربل ٹرک: بونیر میں انسانی جانوں اور عوامی انفراسٹرکچر کے لیے خاموش خطرہ

تحریر: مختار خان

بونیر اپنے قیمتی ماربل ذخائر کی وجہ سے ملک بھر میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ ماربل کی صنعت نہ صرف مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا بھی ذریعہ ہے۔ روزانہ سینکڑوں ٹرک ضلع کے مختلف علاقوں سے ماربل اور دیگر تعمیراتی سامان ملک کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں۔ اگرچہ یہ معاشی سرگرمی اہمیت کی حامل ہے، لیکن ایک سنگین مسئلہ مسلسل عوامی سلامتی اور بنیادی انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے، اور وہ ہے اوورلوڈ ماربل ٹرکوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت۔

بونیر کے عوام بارہا اس بات پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ وزن اٹھائے ہوئے ماربل ٹرک آبادی والے علاقوں اور تنگ سڑکوں سے گزرتے ہیں۔ یہ گاڑیاں اکثر مقررہ حد سے کہیں زیادہ وزن لے کر چلتی ہیں، جس کے باعث ان سڑکوں پر شدید دباؤ پڑتا ہے جو روزانہ اتنے بھاری بوجھ کو برداشت کرنے کے لیے تعمیر ہی نہیں کی گئیں۔ نتیجتاً سڑکیں تیزی سے تباہ ہوتی ہیں، گڑھے پڑ جاتے ہیں، سطح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے اور ٹرانسپورٹ کا پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔

اوورلوڈ ٹرکوں کا سب سے نمایاں اثر بونیر کی سڑکوں کی بگڑتی ہوئی حالت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ضلع بھر میں ایسی سڑکیں جو مقامی آبادی کے لیے زندگی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں، شدید خستہ حالی کا شکار ہیں۔ متعدد مقامات پر گہرے گڑھے، ٹوٹی ہوئی سطح اور خراب حصے شہریوں کے لیے سفر کو مشکل اور خطرناک بنا رہے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ کئی سڑکیں طویل عرصے سے خراب حالت میں ہیں اور عوام روزانہ ان مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔

خصوصاً امبیلہ۔رستم پہاڑی شاہراہ، جو بونیر کو صوبے اور ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والے اہم ترین راستوں میں سے ایک ہے، شدید دباؤ کا شکار ہے۔ روزانہ بڑی تعداد میں بھاری ماربل ٹرک اس سڑک سے گزرتے ہیں۔ اوورلوڈ گاڑیوں کی مسلسل آمدورفت نے اس اہم شاہراہ کی حالت کو مزید خراب کر دیا ہے اور ہزاروں مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

بونیر کے عوام کے لیے یہ سڑک محض ایک راستہ نہیں بلکہ پشاور، اسلام آباد، بڑے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر، ہوائی اڈوں اور تجارتی مراکز تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ، علاج کے لیے جانے والے مریض، کاروباری افراد، سرکاری ملازمین اور عام خاندان سب اسی شاہراہ پر انحصار کرتے ہیں۔ جب سڑکیں خراب ہوتی ہیں تو اس کا بوجھ عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، حالانکہ ان کا ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

یہ مسئلہ صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں۔ اوورلوڈ ٹرک موٹر سائیکل سواروں، گاڑی چلانے والوں، پیدل چلنے والوں، سکول کے بچوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافروں کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ زیادہ وزن کی وجہ سے بریکوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، ٹائروں کے پھٹنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور تنگ و پہاڑی سڑکوں پر گاڑیوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے حادثات کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خراب سڑکیں عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی عمل کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ سفر کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے، گاڑیوں کی مرمت کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، حفاظتی خطرات جنم لیتے ہیں اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ سڑکیں کسی بھی ضلع کا اہم عوامی اثاثہ ہوتی ہیں اور جب ان کی تباہی مرمت کی رفتار سے زیادہ ہو جائے تو پورا معاشرہ نقصان اٹھاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ماربل انڈسٹری بونیر کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ تاہم معاشی سرگرمیوں کو عوامی سلامتی اور قانونی ضوابط کے دائرے میں رہ کر انجام دیا جانا چاہیے۔ پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب کاروباری مفادات اور انسانی جانوں کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔ معاشی فوائد عوامی تحفظ، تباہ شدہ سڑکوں اور شہری مشکلات کی قیمت پر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے، جن میں ضلعی انتظامیہ، ٹرانسپورٹ اتھارٹیز، ٹریفک پولیس اور ہائی وے حکام شامل ہیں، ایکسل لوڈ قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ وزن چیک کرنے کے مراکز، باقاعدہ معائنہ اور قوانین کی مؤثر نگرانی خلاف ورزیوں کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹرز اور ٹرک مالکان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وقتی مالی فائدے کے بجائے عوامی تحفظ اور قانون کی پاسداری کو ترجیح دیں۔

عوامی شعور بیدار کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ شہریوں، سول سوسائٹی، ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد اور منتخب نمائندوں کو اس مسئلے کو اجاگر کرتے رہنا چاہیے اور اس کے عملی حل کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ اوورلوڈ ٹرکوں کا مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ، عوامی اثاثوں کی حفاظت اور ذمہ دارانہ معاشی ترقی کا سوال بھی ہے۔

بونیر کی سڑکیں ہم سب کی مشترکہ ملکیت ہیں۔ ان کی حفاظت کے لیے اجتماعی ذمہ داری، مؤثر نگرانی اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو ضلع کو مزید انفراسٹرکچر کی تباہی، بڑھتے ہوئے حفاظتی خطرات اور آنے والی نسلوں کے لیے سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ کسی مزید قابلِ تدارک سانحے سے پہلے اور سڑکوں کی مکمل تباہی سے قبل مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Bunerwal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Bunerwal