Buner page
16/08/2024
ایک ہی عورت بیک وقت مولانا شبلی نعمانی اور علامہ اقبال کی محبوبہ تھی.... عطیہ فیضی.... وہ ان میں سے کسی کے بھی ہاتھ نہ آئی. دونوں کے ساتھ ٹائم پاس کرتی رہی اور جب فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو ایک یہودی نژاد (بعد میں مسلمان ہوجانے کا بھی ذکر ملتا ہے) کے ساتھ شادی کر کے بیرون ملک جا بسی..شبلی اس کے غم میں نڈھال ہو گئے اور اقبال اس کی بے وفائی پر شکوہ کناں رہے..شبلی محقق تھے اور اقبال مفکر تھے... اس کے باوجود وہ دونوں ہی ایک عورت کو اپنا نہ بنا سکے.
عطیہ فیضی کو محبت کرنے والا لائف پارٹنر مطلوب ہی نہیں تھا بلکہ اس کو جدید اور پر آسائش لائف سٹائل کی چاہت تھی. اس سے معلوم ہوا کہ خالی جیب والے مفکرین اور محققین عموما محبت کی بازی ہار جاتے ہیں اور یہی ہار ان کے علمی اور فکری عروج کی مہمیز بن جاتی ہے.محبت کی اس ناکامی کے سبب نہ تو علمی حلقوں میں شبلی کا قد چھوٹا ہوا اور نہ ہی اقبال کے نام پر کوئی داغ لگا. تاریخ ایسی عورتوں کے نام یاد رکھتی ہے، کردار یاد رکھتی ہے.
اور آنے والی نسل کو سکھاتی ہے کہ
لیلیٰ حاصل کرنی ہے تو مجنوں بننے کی بجائے CSS کا امتحان پاس کرلو لیلیٰ قدموں میں ہوگی.
Buner page
21/07/2024
۔ مِکس اچار
آپ نے کبھی انٹرنیشنل ٹریول کیا ہو اور دبئی، قطر، کویت وغیرہ سے ٹرانزٹ فلائٹ لی ہو تو آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ جاپان جانے والے مسافر جس گیٹ پر بیٹھے فلائٹ کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں وہاں کا ماحول پرسکون ہوتا ہے اور وہ سب چال ڈھال، لباس و انداز، ڈسپلن اور شکل و شباہت سے تقریباً ایک جیسے لگ رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔آپ چلتے چلتے جرمن گیٹ کے سامنے سے گزریں، وہاں بھی یہی حالات ہونگے، ملائشیا، چین، سپین، آسٹریلیا، نیوزیلینڈ سبھی گیٹس کا وزٹ کر لیں کم و بیش حالات ایک سے ہونگے، ایک قومی یکسانیت نظر آئےگی۔۔۔چلتے چلتے جب آپ پاکستانی گیٹ پر پہنچتے ہیں تو یہاں کسی ایک قوم کی بجائے "مکس اچار" دیکھنے کو ملتا ہے۔
اکثریت کے چہرے اُترے ہوے پریشان۔ بچوں کے رونے کی آوازیں۔ آدھے پینٹ شرٹس اور جینز میں ملبوس، کُچھ کھیڑی اور شلوار قمیض میں۔ کہیں نوبیاہتا دلہنیں مہندی والے ہاتھ لیئے پیا ملن کو بیقرار تو کہیں جوڑوں کے درد کا شکار آڑہی ترچھی چلتی ہوئی بوڑھی ساسیں۔ کسی کونے میں دبک کر بیٹھے بیرون ملک مزدوری پر آئے جوان، کندھے پہ سافا اور ھاتھوں میں بچوں کے لئے ولایتی ٹافیاں اور ارمان تو کہیں سفاری سوٹ میں ملبوس بزنس کلاس کے مسافر بیوروکریٹس۔
یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ دیگر اقوام کے ہاں یکساں نظام ہیں۔ فیکٹری پراڈکٹ کی طرح اس پراسیس سے نکل کر سبھی انسان اپنے بنیادی خواص میں یکسانیت اختیار کر لیتے ہیں اور ایک قوم بن جاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں آجتک کوئی نظام لاگو ہو ہی نہیں سکا۔ اسلیئے ہم قوم بننے کی بجائے ایک مکس اچار بن چکے ہیں۔ آپ مرتبان میں چمچ لگائیں، آپ کی قسمت ہے، امب نکلے یا لسوڑا۔۔۔۔۔۔کُچھ پریڈکٹ ایبل نہیں یہاں 🥴
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
0092