Tea lovers
ایران سے پیچھے ہٹنے کا مطلب شکست ہے:
شاید اب فیصلہ ایران ہی میں ہو جائے
ٹرمپ اور اس کا ماگا گروپ ایران کے ساتھ جنگ سے بچنے کی کوشش اس لیے کرتا رہا کہ ان کا اصل ہدف چین تھا۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں میں بڑی حد تک اس بات پر اتفاق ہو چکا تھا کہ وہ تمام ممالک جو ان کے اثر میں نہیں انہیں کمزور یا غیر مؤثر کرنا ضروری ہے۔ اس کا اغاز مسلم ممالک سے کیا گیا۔ ساتھ ہی روس کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا تاکہ اسے کمزور کیا جا سکے۔
لیکن حالات ویسے نہیں چلے جن کیلئے منصوبہ بنایا گیا تھا۔ مسلم ممالک میں مداخلت توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہوئی، جس کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچے اور 2008 کا بحران سامنے آیا۔ اسی دوران روس کو موقع ملا تو اس نے مختلف جگہوں پر مغربی پیش قدمی کو روکا۔ پھر جب چین کو موقع ملا تو اس نے اپنی پوزیشن اس حد تک مضبوط کر لی کہ امریکہ کے اندر یہ سوچ پیدا ہوئی کہ باقی تمام محاذ بند کر کے پوری توجہ چین پر دی جائے۔
جو لوگ یہ چاہتے تھے کہ سب محاذ سمیٹ کر چین پر فوکس کیا جائے، انہیں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ بلیک میل کے ذریعے ٹرمپ کو ایران کی جنگ میں دھکیلا گیا ہے۔ اب امریکہ ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں وہ ایران میں پھنس چکا ہے۔ اگر وہ یہاں سے نکلتا ہے تو چین کے خلاف اس کی پوزیشن کمزور ہو جائے گی، اور اگر رہتا ہے تو اسے اسی محاذ پر فیصلہ کن کاروئی کرنا پڑے گی۔
میرے خیال میں حالات اس قسم کے بن چکے ہیں کہ امریکہ کیلئے ایران کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی سے پیچھے ہٹنے کے مطلب شکست ہے۔ بات چیت کے بجائے تصادم کا راستہ زیادہ غالب نظر آتا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہم عملاً ایک بڑی عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں، اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایران اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا۔ یہی وہ جگہ بن چکی ہے جہاں امریکہ کو وہ تمام فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں جو اصل میں چین کے خلاف کرنے کا منصوبہ تھا۔ اسی محاذ پر جیت یا ہار کا تعین ہونے کا امکان ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
راجہ مبین اللہ خان
13/04/2026
"میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرورت سے زیادہ شعور ایک بیماری ہے—ایک حقیقی، مکمل بیماری۔"
📖Notes from Underground (1864)
الأدب العالمي 📚
Click here to claim your Sponsored Listing.