AALAM E IMKAN
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انسانیت کا میزان: جو اپنے لیے پسند ہو، وہی دوسروں کے لیے بھی
انسان کی سب سے بڑی فکری لغزش یہ ہے کہ وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے الگ الگ پیمانے وضع کر لیتا ہے۔ اپنے لیے عزت چاہتا ہے، مگر دوسروں کی عزتِ نفس کو مجروح کر دیتا ہے۔ اپنے لیے انصاف کا طالب ہوتا ہے، مگر دوسروں کے حق میں ترازو کا رخ بدل دیتا ہے۔ اپنے لیے نرم لہجہ، خلوص اور محبت پسند کرتا ہے، مگر دوسروں کے حصے میں تلخی، بے اعتنائی اور سختی چھوڑ دیتا ہے۔
حالانکہ اخلاق کی بنیاد یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروں کی جگہ رکھ کر سوچے۔ جو لفظ اپنے بارے میں سننا پسند نہیں کرتا، وہ کسی اور کے بارے میں بھی نہ کہے۔ جو سلوک اپنے لیے گوارا نہیں کرتا، وہ کسی دوسرے کے ساتھ بھی نہ کرے۔ جو نقصان اپنے لیے برداشت نہیں کر سکتا، وہ کسی اور کے لیے بھی پسند نہ کرے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے انسانی تعلقات، معاشرتی عدل اور اخلاقی شعور کا ایسا جامع اصول عطا فرمایا جو ہر دور کے لیے رہنما ہے کہ انسان اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
یہ محض ایک نصیحت نہیں، بلکہ تہذیب کی اساس ہے۔ معاشروں کی تعمیر عمارتوں سے نہیں ہوتی، بلکہ ان دلوں سے ہوتی ہے جو دوسروں کے درد کو بھی اپنا درد سمجھتے ہیں۔
حکمت کی ایک بات یہ ہے کہ انسان کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہ اپنے حق کے لیے کتنا حساس ہے، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے حق کے لیے کتنا بیدار ہے۔
ایک اور حقیقت یہ ہے کہ ظلم ہمیشہ تلوار سے نہیں ہوتا؛ کبھی ایک لفظ ظلم بن جاتا ہے، کبھی ایک رویہ، کبھی ایک طنز، اور کبھی کسی کے حق کو معمولی سمجھ لینا بھی ظلم کی ایک صورت بن جاتا ہے۔
؎ جو درد اپنے لیے باعثِ آزار لگے
وہی درد اور کے حصے میں بکھرنا کیسا
؎ خود کو معیارِ صداقت ہی سمجھ بیٹھے ہو
پھر کسی اور کی عزت کا خیال آئے کہاں
؎ آدمی وہ ہے جو اپنے حق سے پہلے کبھی
دوسرے شخص کے حق کا بھی نگہباں نکلے
یاد رکھیے! انسانیت کا حقیقی میزان یہی ہے کہ جو عزت آپ اپنے لیے چاہتے ہیں، وہی دوسروں کو دیں؛ جو انصاف اپنے لیے چاہتے ہیں، وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کریں؛ اور جس تکلیف سے خود بچنا چاہتے ہیں، اس تکلیف کو کسی دوسرے کی تقدیر نہ بنائیں۔
یہی اخلاق کا جوہر ہے، یہی معاشرتی شعور کی بنیاد ہے، یہی روحانیت کا حسن ہے، اور یہی ایمان کی خوشبو ہے۔ #انسانیت #اخلاق #انصاف #احترام #اسلام #حدیث #فکر #روحانیت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امانتِ یقین اور مابعدُ الاسباب کی حکمت
بعض واقعات تاریخ کے صفحات پر نہیں، دل کی گہرائیوں میں ثبت ہوتے ہیں۔ وہ محض قصے نہیں ہوتے بلکہ حقیقتِ وجود کے ایسے اشارات ہوتے ہیں جو انسان کو اسباب کی دنیا سے اٹھا کر مسببُ الاسباب کی بارگاہ تک لے جاتے ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات کا ظاہری نظام اگرچہ قوانینِ اسباب کے تحت چلتا ہے، مگر ان قوانین کی باگ ڈور ایک ایسی قدرت کے ہاتھ میں ہے جو سمندروں کو سفیر، لہروں کو امین اور لکڑی کے بے جان ٹکڑے کو امانت دار بنا سکتی ہے۔
انسان تدبیر کرتا ہے، راستے تلاش کرتا ہے، دروازے کھٹکھٹاتا ہے، لیکن بعض اوقات منزل تدبیر کے زور سے نہیں بلکہ یقین کی حرارت سے حاصل ہوتی ہے۔ جب نیت کی تطہیر، عہد کی پاسداری اور توکل کی صداقت یکجا ہو جائیں تو تقدیر کے بند دریچے بھی وا ہو جاتے ہیں۔ پھر فاصلے معنی کھو دیتے ہیں، وسائل محدود نہیں رہتے اور ناممکنات امکان کا لباس پہن لیتی ہیں۔
اہلِ معرفت نے کہا ہے کہ توکل اسباب کا انکار نہیں بلکہ اسباب کے پردے میں کارفرما حقیقت کا اقرار ہے۔ کشتی پانی پر چلتی ہے، مگر پانی کو حکم دینے والی ذات اللہ کی ہے؛ لہریں اٹھتی ہیں، مگر ان کی سمت کا فیصلہ بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے؛ انسان قدم بڑھاتا ہے، مگر منزل تک پہنچانے والا وہی ربِّ کریم ہے۔
یہ واقعہ دراصل یقین کے اس مقام کی تصویر ہے جہاں بندہ اپنی ذمہ داری پوری کر کے نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، اور پھر اللہ اپنی ربوبیت کی ایسی شان ظاہر فرماتا ہے جسے عقل حیرت اور دل سجدۂ شکر کے سوا کسی اور زبان میں بیان نہیں کر سکتا۔
شعر
؎ سپردِ موج کیا تھا جسے یقین کے ساتھ
وہی پیامِ وفا بن کے ساحلوں تک گیا
؎ سبب کی آنکھ نے جس راہ کو معدوم کہا
یقینِ صادق نے وہیں قافلہ اُتار دیا
#الیقین
#الحکمة
#التفکر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
زبان کے زخم، دل کی طہارت کا مغالطہ
معاشروں کی فکری اور اخلاقی تشکیل محض قوانین، اداروں یا نعروں سے نہیں ہوتی بلکہ ان لطیف اقدار سے ہوتی ہے جو انسان کے رویّوں، لہجوں اور الفاظ میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ جب کوئی معاشرہ الفاظ کی حرمت کو فراموش کر دیتا ہے تو وہ رفتہ رفتہ احساس کی تہذیب بھی کھو دیتا ہے۔
ہمارے عہد کا ایک نہایت عجیب اور افسوس ناک مغالطہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گفتگو میں تلخ، تحقیر آمیز، طنزیہ اور دوسروں کی دل آزاری کا عادی ہو تو اس کے دفاع میں فوراً کہا جاتا ہے:
"زبان کا تو تیز ہے، مگر دل کا بہت صاف ہے۔"
یہ جملہ بظاہر ایک عذر ہے، مگر حقیقت میں اخلاقی شعور کے زوال کی علامت ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر دل کی صفائی کو زبان کی گواہی سے الگ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
انسان کا باطن کوئی پوشیدہ جزیرہ نہیں جس کا باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہ ہو۔ دل کی کیفیات کسی نہ کسی صورت لفظوں، رویّوں اور طرزِ عمل میں ضرور منعکس ہوتی ہیں۔ زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت کا ترجمان، تربیت کا آئینہ اور باطن کی خبر دینے والا سفیر ہے۔
اگر کسی دل میں رحم ہو تو اس کے لفظوں میں بھی نرمی ہوتی ہے۔
اگر قلب میں شفقت ہو تو لہجہ بھی آسودگی بانٹتا ہے۔
اگر روح میں وقار ہو تو گفتگو میں بھی تہذیب جھلکتی ہے۔
اسی لیے قرآنِ کریم نے رسولِ اکرم ﷺ کی دعوتی کامیابی کا ایک عظیم راز آپؐ کی نرم خوئی اور حسنِ اخلاق کو قرار دیا۔ اگر سختی ہی عظمت کی علامت ہوتی تو تاریخ کا سب سے عظیم انسان نرم مزاجی کو اپنا شعار نہ بناتا۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے تہذیب کے معنی بدل دیے ہیں۔ اب جو جتنا زیادہ دوسروں کو شرمندہ کر دے، اسے اتنا ہی ذہین سمجھا جاتا ہے؛ جو جتنا زیادہ لوگوں کی تضحیک کرے، اسے اتنا ہی حاضر جواب قرار دیا جاتا ہے؛ اور جو جتنا زیادہ دلوں کو زخمی کرے، اسے اتنا ہی بےباک کہا جاتا ہے۔
حالانکہ بےباکی اور بدتہذیبی دو الگ حقیقتیں ہیں۔
سچ بولنا ایک فضیلت ہے، مگر سچ کو سنگ بنا کر لوگوں پر پھینک دینا فضیلت نہیں۔ حکمت یہ نہیں کہ انسان ہر بات کہہ دے؛ حکمت یہ ہے کہ وہ جانتا ہو کہ کب، کہاں اور کس انداز میں بات کرنی ہے۔
لقمان حکیم کی نصیحتوں سے لے کر صوفیاء کی تعلیمات تک، اور انبیائے کرام کی سیرت سے لے کر اہلِ دانش کی تحریروں تک، ہر جگہ ایک بات مشترک دکھائی دیتی ہے کہ زبان کی تہذیب دراصل روح کی تہذیب کا پہلا مظہر ہے۔
لبوں کی تلخیوں سے دل کی خوشبو چھپ نہیں سکتی
درخت کیسا بھی ہو، پھل اس کی پہچان ہوتے ہیں
سخن اگرچہ ہنر ہے، مگر ہنر یہ بھی ہے
کسی کے زخم پہ رکھ دو تو مرہمات بنے
بلند لہجوں سے کردار اونچا نہیں ہوتا
چراغ جتنا بھی روشن ہو، نرم روشنی رکھتا ہے
کلام وہ ہے جو دل میں اتر کے نور کرے
وہ کیا سخن جو فقط دل میں اضطراب رکھے
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل شناخت اس کی دولت، شہرت، علم یا منصب سے پہلے اس کے اخلاق سے ہوتی ہے، اور اخلاق کا پہلا تعارف اس کی زبان ہے۔ الفاظ کبھی محض الفاظ نہیں ہوتے؛ وہ انسان کے اندر بسنے والی دنیا کے نمائندے ہوتے ہیں۔
اس لیے جب بھی کسی شخص کی تلخ گوئی کو یہ کہہ کر معاف کیا جائے کہ "دل کا صاف ہے"، تو ایک لمحے کے لیے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر دل واقعی اتنا ہی صاف ہے تو اس صفائی کی خوشبو اس کے لہجے سے کیوں محسوس نہیں ہوتی؟
کیونکہ دل کی طہارت کا سب سے پہلا چراغ زبان ہی میں روشن ہوتا ہے۔
لفظ محض آواز نہیں ہوتے؛ یہ انسان کی روح کے دستخط اور اس کے باطن کی شہادت ہوتے ہیں۔
رضائے خلق کا سراب اور سکونِ ذات کی جستجو
بعض لوگ پوری زندگی ایک ایسی دہلیز پر کھڑے رہتے ہیں جس کا دروازہ کبھی کھلتا ہی نہیں۔ وہ ہر چہرے پر مسکراہٹ اگانا چاہتے ہیں، ہر دل میں اپنی قبولیت کا چراغ روشن دیکھنا چاہتے ہیں، مگر وقت انہیں آہستہ آہستہ یہ راز سکھاتا ہے کہ انسان دوسروں کی توقعات کا مقروض بن جائے تو اپنے وجود کا سرمایہ کھو بیٹھتا ہے۔
لقمانِ حکیم نے اپنے بیٹے کو یہی سبق دیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ بعض حقیقتیں کتابوں سے نہیں، راستوں سے سیکھی جاتی ہیں؛ بعض نصیحتیں لفظوں سے نہیں، تجربوں سے دل میں اترتی ہیں۔
کہتے ہیں ایک روز وہ اپنے بیٹے کے ساتھ سفر پر نکلے۔ پہلے خود گدھے پر سوار ہوئے تو لوگوں نے اعتراض کیا۔ پھر بیٹے کو سوار کر دیا تو زبانیں پھر بھی خاموش نہ رہیں۔ دونوں سوار ہوئے تو تنقید ہوئی، دونوں پیدل چلے تو تمسخر کا نشانہ بنے۔
تب لقمانِ حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا:
"بیٹے! لوگوں کی رضا ایک ایسا افق ہے جو جتنا قریب دکھائی دیتا ہے اتنا ہی دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ جو شخص ہر آواز پر اپنا راستہ بدلتا ہے، وہ آخرکار اپنی منزل بھی کھو دیتا ہے اور اپنی شناخت بھی۔"
زندگی کا المیہ یہ نہیں کہ لوگ ہمیں سمجھ نہیں پاتے، المیہ یہ ہے کہ ہم خود کو بھول کر لوگوں کی سمجھ میں آنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
؎ خوشی کی جستجو میں خود سے بچھڑ جانا عجب دکھ ہے
کسی کو خوش نہ کر پانا، خود اپنا نہ رہ پانا
اس دنیا میں آپ اچھے ہوں گے تو بھی بات ہوگی، خاموش ہوں گے تو بھی بات ہوگی، بولیں گے تو بھی بات ہوگی، اور نہ بولیں گے تو بھی بات ہوگی۔ اس لیے اپنی زندگی کا محور لوگوں کی رائے نہیں، اپنے ضمیر کی گواہی بنائیے۔
کیونکہ لوگ آپ کے حالات دیکھتے ہیں، رب آپ کی نیت دیکھتا ہے۔
اور نیت کی عدالت میں سرخرو ہونا، دنیا کی تمام عدالتوں سے بڑی کامیابی ہے۔
لبّیک…!
ہر وہ شخص جو بیتُ اللہ تک نہ پہنچ سکا، اگر اُس کا دل طوافِ عشق میں مصروف ہے تو شاید اُس کی روح ابھی بھی عرفات کی کسی خاموش وادی میں کھڑی ہو…
حج فقط سفرِ مکّہ نہیں، یہ ہجرتِ نفس ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے وجود کے گرد گھومتے غرور کو توڑ کر کعبۃُ اللہ کے گرد گھومنا سیکھتا ہے۔
طواف دراصل انسان کے باطن کا اعلان ہے کہ:
“اے رب! اب مرکزِ حیات تُو ہے، میں نہیں…”
حج کے ارکان چار ہیں؛
احرام — یعنی خواہشات کے کفن میں داخل ہونا۔
وقوفِ عرفہ — یعنی اپنے گناہوں کے ملبے پر کھڑے ہو کر رب کو پکارنا۔
طوافِ زیارت — یعنی عشق کے مرکز کے گرد فنا ہو جانا۔
سعی — یعنی ہاجرہؑ کی بے قراری کو اپنی امید بنا لینا۔
اور حج کی سنتیں…
وہ دراصل محبت کے آداب ہیں۔
ہر تلبیہ، ہر دعا، ہر قدم، ہر کنکری — انسان کے اندر چھپے فرعون پر ایک ضرب ہے۔
یہ مناسک محض عبادات نہیں؛
یہ انسان اور خدا کے درمیان ازلی عہد کی تجدید ہیں۔
جہاں سفید احرام انسان کو یاد دلاتا ہے کہ
آخرکار ہر شخص کو اپنی شناختیں اتار کر صرف بندہ بن کر لوٹنا ہے۔
حج ایک ایسا فلسفہ ہے
جہاں امیر و فقیر، بادشاہ و مزدور، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ
اصل عظمت صرف بندگی ہے۔
اور شاید اسی لیے…
جو لوگ حج تک نہیں پہنچ پاتے،
وہ کبھی کبھی ویڈیوز میں گھومتے کعبہ کو دیکھ کر بھی رو پڑتے ہیں؛
کیونکہ عشق کو راستوں کی نہیں، نسبتوں کی ضرورت ہوتی ہے… 🤍
🌿 عنوان: آئینۂ اخلاق اور معراجِ انسانیت 🌿
اربابِ نظر!
انسان اپنی ذات کے لیے ہمیشہ نرمی، عزت اور سکون چاہتا ہے، مگر اصل کمال یہ ہے کہ وہی سکون دوسروں کے حصے میں بھی آنے دے۔ دنیا دراصل ایک اخلاقی آئینہ ہے؛ آپ جو رویہ اس کے سامنے رکھتے ہیں، وہی کسی نہ کسی صورت پلٹ کر آپ تک آ جاتا ہے۔
پیارے نبی ﷺ نے انسانیت کی پوری بنیاد ایک جملے میں سمو دی:
«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِأَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ»
📖 (صحیح بخاری: 13)
یعنی انسان کا ایمان اُس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے لیے پسند کی جانے والی خیر اپنے بھائی کے لیے بھی پسند نہ کرے۔
“جو دل دوسروں کے درد سے خالی ہو، وہ علم کے باوجود شعور سے محروم رہتا ہے۔”
اکبرؔ الہ آبادی نے اسی حقیقت کو کتنے سادہ مگر عظیم پیرائے میں بیان کیا:
یہی ہے عبادت، یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انسان کے انسان
رشتے لہجوں سے نہیں، ظرف سے قائم رہتے ہیں۔ انسان کی اصل شناخت اس کی زبان نہیں، اس کے باطن کی نرمی ہوتی ہے۔
غالبؔ کی یہ صدا آج بھی انسان کے اندر سوئے ہوئے شعور کو جگاتی ہے:
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
شمسؔ:
درختوں کی طرح لوگ بھی کتنے عظیم ہیں
خود دھوپ سہہ کے دوسروں پر سائباں رہے
✨ نغمۂ وحی — جب کلامِ الٰہی روحوں پر اترتا ہے ✨
قرآنِ کریم محض ایک کتاب نہیں بلکہ وہ نورِ الٰہی ہے جو دلوں کے اندھیروں کو منور کرتا، روح کی پیاس بجھاتا اور انسان کے باطن کو سکون عطا کرتا ہے۔ جب یہی کلامِ ربانی کسی خوش الحان قاری کی پُرسوز آواز میں سنائی دیتا ہے تو اس کی تاثیر دل کی گہرائیوں تک اترتی محسوس ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«﴿ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ﴾
“خبردار! دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر ہی میں ہے۔”
—»
اور قرآنِ کریم کی تلاوت کے آداب کے بارے میں ارشاد فرمایا:
«﴿ وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴾
“اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔”
—»
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«“زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ”
“قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو۔”
—»
خوش الحان تلاوت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ بعض آوازیں صرف سنی نہیں جاتیں بلکہ محسوس کی جاتی ہیں، اور قرآنِ کریم کی پُرسوز تلاوت انہی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ صدا ہے جو تھکے دلوں کو سکون، مضطرب روحوں کو قرار اور بکھرے احساسات کو مرکز عطا کرتی ہے۔
✨
لفظوں میں کہاں طاقتِ تاثیرِ تلاوت
یہ نورِ خدا ہے جو دلوں تک چلا جائے
✨
جب نغمۂ قرآں شبِ خاموش میں گونجے
لگتا ہے فرشتوں کا قافلہ اتر آئے
✨
قرآن سنو تو روح کو وضو ملتا ہے
یہ وہ سخن ہے جس سے دلوں کو نمو ملتا ہے
🌿 اس پُرسوز اور باکیف تلاوت کو تھوڑا غور، خاموشی اور حضورِ قلب کے ساتھ سماعت فرمائیے… شاید یہ آواز دل کے کسی بند دریچے کو کھول دے اور روح کو ربِّ کائنات کے قرب کا احساس عطا کر دے۔ ✨
13/05/2026
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عنوان: تقدیر، دعا اور انسان کا سفرِ اختیار
انسانی وجود کا سب سے پیچیدہ سوال شاید یہی ہے کہ اگر سب کچھ لوحِ تقدیر میں پہلے ہی رقم ہو چکا ہے، تو پھر دعا کی آہ، محنت کی تپش اور امید کی شمع کیوں باقی رکھی گئی؟
یہ سوال صرف عقل کا نہیں، روح کا بھی اضطراب ہے۔
ایک شخص نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:
“اے پروردگار! اگر میری قسمت کے تمام فیصلے پہلے ہی لکھے جا چکے ہیں تو پھر دعا اور کوشش کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟”
ربِ کریم کی طرف سے گویا ندا آئی:
“اے میرے بندے! تو تقدیر کا صرف ایک ورق دیکھتا ہے، پوری کتاب نہیں۔ میں نے تیرے نصیب میں یہ بھی لکھ رکھا ہے کہ بہت سی نعمتیں تیرے مانگنے سے وابستہ ہوں گی، کئی دروازے تیرے چلنے سے کھلیں گے، اور بے شمار رحمتیں تیرے صبر، دعا اور جدوجہد کے بعد عطا کی جائیں گی۔”
یہی وہ راز ہے جسے اکثر انسان سمجھ نہیں پاتا۔
تقدیر جمود کا نام نہیں، بلکہ حرکت کے اندر پوشیدہ ایک الٰہی نظام ہے۔ دعا تقدیر کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ تقدیر ہی کا ایک باب ہے۔ انسان جب ہاتھ اٹھاتا ہے تو گویا وہ اپنے مقدر کے اس حصے کو آواز دیتا ہے جو اس کی التجا کا منتظر ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید اعلان کرتا ہے:
“اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں قریب ہوں، میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔”
— (سورۃ البقرہ: 186)
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“بندہ اپنے رب کے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے، اللہ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرماتا ہے۔”
— (صحیح بخاری و مسلم)
ایک اور ارشادِ نبوی ﷺ انسانی ارادے کی عظمت کو یوں واضح کرتا ہے:
“دعا کے سوا کوئی چیز تقدیر کو نہیں بدلتی۔”
— (جامع ترمذی)
پس حقیقت یہ ہے کہ انسان کا فرض صرف انتظار نہیں بلکہ طلب ہے۔
صرف بیٹھ جانا ایمان نہیں، بلکہ اٹھنا، چلنا، مانگنا اور یقین کے ساتھ کوشش کرنا ہی اصل بندگی ہے۔
جو لوگ تقدیر کو بہانہ بنا کر رک جاتے ہیں، وہ دراصل اپنے مقدر کے ان دروازوں تک پہنچ ہی نہیں پاتے جو حرکت کے بعد کھلنے تھے۔
اشعار:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
دعا وہ در ہے جہاں سے بدلتی ہیں قسمتیں
یہی وہ راز ہے جو زمانے کو کم سمجھ آتا ہے
نہ رک تقدیر کے نام پر اے راہِ عمل کے مسافر
جو چل پڑے، وہی اپنی منزل کو پا جاتا ہے
بعض اوقات انسان یہ سمجھتا ہے کہ شاید اس کی دعا رد ہو گئی، حالانکہ حقیقت میں رب اُس کے لیے وقت، حکمت اور بہتر عطا کا انتخاب کر رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا صرف مانگی ہوئی چیز نہیں دیتا، کبھی وہ مانگنے والے کو اُس سے بہتر عطا کر دیتا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔