MGG
Writing helps me express what I feel and what I see around me.
توقیر اسیرِ زنداں کو دیکھا تو جھلک اپنی دیکھی اُنمیں
ہم جیسوں کے لیے بس حوالات بدل گے ہیں
اے زندگی اب ، تو بتا دے تیرا حق ادا ہو گیا ‘ دیکھ افوائیں چل رہی ہیں تیرے محصولات بدل گئے ہیں
#قیدآزادکشمیر
نرم خوابوں میں جو روتی ہیں یہ مخمل آنکھیں
ان کو کیا علم کہ مفلس کی سحر کیسی ہے؟
مریم نواز صاحبہ! آپ کہتی ہیں کہ ان معصوم بچوں کی اموات پر آپ کی راتیں کرب میں گزرتی ہیں ہم آپ کے اس دکھ کو سچ مان لیتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جن ماؤں کی گود اجڑتی ہے ان کی راتیں کیسے گزرتی ہوں گی؟ آپ نے بڑی سادگی سے سارا ملبہ والدین کی تربیت اور لاپرواہی پر ڈال دیا مگر کیا واقعی دنیا کی کوئی ماں اپنے بچے کو مرنے کے لیے سڑک پر تنہا چھوڑ سکتی ہے؟ کیا یہ غفلت ہے یا وہ بے بسی جو بھوک اور مہنگائی نے ان کے مقدر میں لکھ دی ہے؟ جب ایک غریب باپ کی ساری کمائی صرف بجلی کے بلوں کی نذر ہو جائے تو کیا اس ماں کے پاس کوئی اور راستہ بچتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کمانے کی خاطر انہیں گھر چھوڑ کر مزدوری پر نکل جائے؟ جب ریاست کسی کو عزت کی روٹی نہیں دے سکتی تو کیا اسے غریب کی مجبوری کو اس کی لاپرواہی کا نام دینے کا حق ہے؟؟؟
آخر یہ بچے نہروں اور موت کے کنوؤں کی طرف کیوں بھاگتے ہیں؟ کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ جب ایوانوں میں بیٹھے لوگ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں ہوتے ہیں، اس وقت غریب کا بچہ حبس اور بارہ بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ میں جھلس رہا ہوتا ہے؟ جب ایک معاشرہ ان بچوں کو تفریح کے لیے محفوظ پبلک پولز اور ٹھنڈی چھت تک نہیں دے سکتا تو کیا ہمیں ان سے یہ حق بھی چھین لینا چاہیے کہ وہ گرمی سے بچنے کے لیے کسی جوہڑ یا نہر کا رخ کریں؟ کیا ریاست کی ذمہ داری صرف تنبیہ کرنا ہے یا متبادل فراہم کرنا؟
آپ فرماتی ہیں کہ انتظامیہ گٹر پر ڈھکن لگاتی ہے اور رات کے اندھیرے میں کوئی چور اسے چرا لیتا ہے۔ مگر کیا ایک پوری ریاست اور اس کی طاقتور پولیس ایک کباڑیے اور لوہا چور کے سامنے اتنی بے بس ہو چکی ہے؟ اور کیا ہم لوہے کی جگہ پلاسٹک یا فائبر کے ایسے ڈھکن استعمال نہیں کر سکتے جنہیں کوئی چور کباڑ میں بیچ ہی نہ سکے۔
اقتدار اور حکمرانی کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا کرسی پر بیٹھ کر ان مظلوموں کو لیکچر دینا جن کے پاس جینے کی بنیادی سہولیات تک نہیں یا ان کے لیے ایسے راستے بنانا جہاں ان کی جان محفوظ رہ سکے؟ دکھ کا اظہار کرنا اور الزام تراشی کرنا بہت آسان ہے لیکن مریم صاحبہ، ریاست کا کام وعظ کرنا نہیں بلکہ ان غریبوں کے لیے وہ ڈھال بننا ہے جس کے لیے انہوں نے آپ کو اس منصب پر بٹھایا ہے۔
توقیر بیگ
Clicca qui per richiedere la tua inserzione sponsorizzata.