Umeed e sehar

Umeed e sehar

Share

09/08/2023

حاصل زندگی حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں

یہ کیا نہیں، وہ ہوا نہیں، یہ ملا نہیں، وہ رہا نہیں

💔

19/06/2023

جون ایلیا 💔

زمانے بھر کو اداس کر کے
خوشی کا ستیا ناس کر کے
میرے رقیبوں کو خاص کر کے
بہت ہی دوری سے پاس کر کے
تمہیں یہ لگتا تھا
جانے دیں گے ؟
سبھی کو جا کے ہماری باتیں
بتاؤ گے اور
بتانے دیں گے ؟
تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں
مناؤ گے اور
منانے دیں گے ؟
میری نظم کو نیلام کر کے
کماؤ گے اور
کمانے دیں گے ؟

تو جاناں سن لو
اذیتوں کا ترانہ سن لو

کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم
بھلے ہی دل سے نکال دو تم
کمال دو یا زوال دو تم
یا میری گندی مثال دو تم

میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔!
میں پھر بھی جاناں ۔۔۔
پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا
گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا
اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو
میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا

بتاؤں تم کو ؟
میں کیا کروں گا ؟

میں اب زخم کو زبان دوں گا
میں اب اذیت کو شان دوں گا
میں اب سنبھالوں گا ہجر والے
میں اب سبھی کو مکان دوں گا
میں اب بلاؤں گا سارے قاصد
میں اب جلاؤں گا سارے حاسد
میں اب تفرقے کو چیر کر پھر
میں اب مٹاؤں گا سارے فاسد
میں اب نکالوں گا سارا غصہ
میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہ
میں اب اٹھاؤں گا سارے پردے
میں اب بتاؤں گا تیرا قصہ

مزید سُن لو۔۔۔
او نفرتوں کے یزید سن لو

میں اب نظم کا سہارا لوں گا
میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گا
اگر تو جلتا ہے شاعری سے
تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گا

میں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں
کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوں
کوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب
خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوں

میں اب اذیت کا پیر ہوں جی
میں عاشقوں کا فقیر ہوں جی
کبھی میں حیدر کبھی علی ہوں
جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی..

جون ایلیا

06/06/2023

تجھ کو سوچوں تو ترے جسم کی خوشبو آئے

میری غزلوں میں علامت کی طرح تو آئے

میں تجھے چھیڑ کے خاموش رہوں سب بولیں

باتوں باتوں میں کوئی ایسا بھی پہلو آئے

قرض ہے مجھ پہ بہت رات کی تنہائی کا

میرے کمرے میں کوئی چاند نہ جگنو آئے

لگ کے سوئی ہے کوئی رات مرے سینے سے

صبح ہو جائے کہ جذبات پہ قابو آئے

چاہتا ہوں کہ مری پیاس کا ماتم یوں ہو

پھر نہ اس دشت میں مجھ سا کوئی آہو آئے

اس کا پیکر کئی قسطوں میں چھپے ناول سا

کبھی چہرہ کبھی آنکھیں کبھی گیسو آئے.

05/06/2023

جو بات سچ نہ ہو اسے کہتا نہیں ہوں مَیں
رستے میں لاکے چھوڑ دوں، ایسا نہیں ہوں مَیں

لازم ہے اعتماد مگر حسنِ دل کشا!
اِتنا نہ پاس آ کہ فرشتہ نہیں ہوں مَیں

تو کیوں نہ آیا میرے بلانے پہ ایک بار؟
جب تو مجھے بلاتا ہے، آتا نہیں ہوں مَیں ؟

کہتے تھے لوگ، لوگ تھے، لوگوں کی بات اور
تو نے بھی آج کہہ دیا اچھا نہیں ہوں مَیں

اپنا نہیں تو میرا ہی کچھ کر خیال عشق!
بازار میں نہ کھینچ، تماشہ نہیں ہوں مَیں

بھرتا نہیں مَیں آہ کہ ہے پاسِ آبرو
اور تو سمجھ رہا ہے تڑپتا نہیں ہوں مَیں

ایسا نہ ہو کہ رنج رہے پھر تمام عمر
جی بھر کے دیکھ لے کہ دوبارہ نہیں ہوں مَیں

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Srinagar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Gurez
Srinagar
246174