anmol.hadith

anmol.hadith

Share

10/05/2025

جن سوالوں کا جواب عیسائیت نہ دے سکی ، وہ مجھے اسلام نے دیئے اسلام کی

اچھائیوں نے مجھے بنا دیا مسلمان !

ایک کیتھولک عیسائی نوجوان کے اسلام قبول کرنے کی دلچسپ داستان !!

میں فلیپین کا رہنے والا ہوں ، جہاں دور دور تک کوئی مسلمان دکھائی نہیں دیتا ،

یہاں کی آبادی عیسائیت کو ماننے والی ہے ، میری پیدائش بھی ایک کیتھولک عیسائی گھرانے میں ہوئی ۔ میرے خاندان والے کٹر عیسائی ہیں میں خود ابتدائی برسوں میں چرچ کی خدمات انجام دیتا رہا ہوں ۔ بچپن سے لے کر جوانی تک چرچ میں سب کے ساتھ مل کر گاتا رہا ہوں ۔ اب جبکہ میں ۲۹ برس کا ہو چکا ہوں تو میں نے مذہب اسلام کو قبول کیا جبکہ میرے ساتھ کے دوست پادری کے درجے پر پہنچ چکے ہیں ۔ وہ اکثر مجھے دوبارہ عیسائیت قبول کرنے پر زور دیتے ہیں لیکن میں انہیں ہر ماہ مایوس کر کے اسلام کی دعوت دیتا ہوں ۔ میں یونہی مسلمان نہیں ہو گیا اس کے پیچھے بہت سے سوالات تھے جس کا عیسائیت جواب نہیں دے پارہی تھی ۔ میرے دوست اور دیگر عیسائی پادریوں کے پاس بھی جواب نہیں تھا ۔ یہ سوال مجھے بچپن سے کھائے جا رہا تھا میں اکثر یہ سوال اپنے دوست احباب اور دیگر پادریوں سے پوچھتا تو مجھے ایک ہی جواب ملتا ۔ یہ شیطانی خیالات مجھے راہ سے بے راہ کر دینگے اس لئے ذہن سے جھٹک کر دل سے نکال دو ۔ میں خاموش ہو جاتا مگر یہ سوال جونک کی طرح میرے دل و ماغ سے چپک کر رہ گئے تھے۔
میرے سوالات ہی کچھ ایسے تھے جنھیں آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ میرے سوالوں میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ "عیسائی مذہب میں ساری توجہ حضرت عیسی علیہ السلام پر ہی کیوں مرکوز ہے ۔ اس خدا پر کیوں نہیں جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا ۔ پوری کائنات کو رچا ۔ چرچوں میں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اور حضرت مریم کی مورتیاں ہی کیوں ؟ خدا تو سب سے بڑا ہے اس نے سب کو پیدا کیا، تو پہلا حق تو اسی کا ہے اور اسی کا ہونا چاہئے ۔ میرے دل میں یہ بات بھی اٹھتی کہ کوئی انسان خدا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی انسان کسی دوسرے انسان کے ذریعہ پوجا جا سکتا ہے ۔ "

میرے ان سوالوں سے اکثر میرے دوست بھاگتے تھے اور مجھے ان سوالوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ میں تب بھی عیسائی تھا۔ پورے اہتمام سے چرچ کی خدمات انجام دے رہا تھا تبھی مجھے میرا ایک دوست ملا جو چرچ میں ہمارے ساتھ گایا کرتا تھا اور پھر اس نے مجھے بتایا کہ وہ مسلمان ہو گیا ہے ۔ اس نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ میں اس پر ہنسا تھا ۔ میں نے اس سے کہا کہ تم نے صرف اس لئے مذہب قبول کر لیا کہ تمہارا جیس پر عقیدہ کمزور تھا ۔ اگر میری طرح مضبوط ہوتا تو تم اسلام ہر گز قبول نہ کرتے ۔ مگر جب میں گھر آیا تب میں نے خود سے سوال کیا کہ میرا جیس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) پر عقیدہ مضبوط ہے کیا میرے دل میں ان کیلئے سوال پیدا نہیں ہوتے۔ میرے ذہن میں سوال بھی آیا کہ آخر میرا دوست مجھ سے زیادہ مذہبی تھا بچپن سے چرچ کی خدمت کرتا آیا ہے آخر اس نے کیوں اسلام قبول کیا ۔ اس کے بعد اس سے دوبارہ ملنے کا میں نے فیصلہ کیا ۔

لے فیصلہ کیا ۔

قبول اسلام ایک دلچسپ واقعہ

میں اس سے ملا ۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں سوال کرنے یا مذاق اڑانے کے بجائے خود اسلام پڑھ کر اس پر کوئی الزام لگاؤں ۔ اس نے مجھے اسلام پر کچھ کتابیں دیں ، جن کا میں نے توجہ کے ساتھ مطالعہ کیا اور پھر میرے سامنے سے اندھیرے مٹنے لگے ۔ میرے آفس میں کام کرنے والی ایک مسلم خاتوں نے میری اسلام میں دلچسپی دیکھی تو اس نے بھی کچھ کتابیں مجھے دیں ۔

جیسے جیسے میں مطالعہ کر رہا تھا ویسے ویسے وہ جواب مجھے ملتے جا رہے تھے جو مجھے بچپن سے پریشان . کئے ہوئے تھے ۔ "اسلام نے میری ہر اس بات کا جواب دیا جو عیسائیت میں بارہا کوشش کر کے بھی نہ مل پائے تھے " اور پھر میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں وہ مذہب قبول کروں گا جس نے میرے تمام سوالوں کے جواب دے دیتے ہیں ، جس نے مجھے مطمئن کر دیا جس نے مجھے میرے حقیقی رب سے ملوایا ۔ میں اپنے اسلام قبول کرنے کے فیصلے کو اپنے گھر والوں کے سامنے رکھا ۔ میرے اس فیصلے کو سن کر سب دنگ رہ گئے ۔ میری بیوی اور بچے حیران تھے جبکہ میری والدہ رو پڑیں ۔ میرے چاچا غصے سے چلانے لگے مگر میں خاموشی سے ان کا رد عمل دیکھتا رہا مجھے ان سے یہی توقع تھی ۔

جلد ہی میرا فیصلہ پورے علاقہ میں پھیل گیا ۔ میں نے چرچ جانا بھی چھوڑ دیا ۔ اس کے بعد میرے کئی دوست کئی رشتے دار مجھے سمجھانے آئے ۔ کئی لوگوں سے بحث بھی ہوئی ۔ مگر میں ان کے سامنے اسلامی نقطہ نگاہ رکھتا رہا ، انہیں سمجھاتا بھی رہا کہ آخر میں اسلام کیوں قبول کیا ۔ کیوں مجھے لگا کہ وہ سچا دین ہے ۔ لیکن اب بھی وہ نہ مانے تو میں نے ان سے ایک سوال کیا اور کہا کہ اگر وہ میرے سوال کا صحیح جواب دیں گے تو میں اسلام قبول کرنے سے باز آجاؤں گا اور عیسائی بنا رہوں گا ۔
میرا سوال یہ تھا کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی خود کہا تھا کہ وہ خدا (نعوذ با اللہ ) ہیں ؟ کیا انہوں نے خود کبھی کہا تھا کہ لوگ مجھے پوجو ۔ میری عبادت کرو ۔ یہ ایسا سوال تھا جس نے سب کے منہ پر تالے لگا دیئے ، مگر ان کے دل میری جانب سے مکروہ ہو گئے ، میری ماں اکثر روتے ہوئے مجھے سمجھاتی کہ میں غلط کر رہا ہوں ۔ خدا مجھے جہنم میں ڈالے گا ۔ جو وہ برداشت نہیں کر پائیں گی ۔ ان کی اس بات پر میں مسکرا دیتا اور کہتا کہ ان شاء اللہ مجھے جنت ملے گی ۔ چند ماہ بعد مجھے میرا ایک دوست ملا۔ وہ سعودی عرب سے آیا تھا۔ اس سے بات کر کے مجھے احساس ہوا کہ وہ بھی مسلمان ہو چکا ہے ۔ میں اس کی باتوں سے مطمئن تھا ۔

بہت سی نئی باتیں مجھے سیکھنے کو ملیں اور میرا ارادہ اور مضبوط ہو گیا ۔ میرے دل نے کہا کہ میرا فیصلہ غلط نہیں تھا۔ اب میں کلمہ طیبہ پڑھنے کیلئے پوری طرحتیار تھا ۔ مگر میرے قرب وجوار میں کوئی عالم ایسا نہیں تھا جس کے ہاتھ پر میں بیعت کرتا ۔ ایک امام صاحب دور رہتے تھے اور ان سے میرا رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا تبھی میرے دوست کا فون آیا اس نے مجھے دبئی بلایا میں دبئی گیا اور وہاں ایک فلپین ہی کے امام صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر کے میں نے کلمہ طیبہ پڑھ لیا اور اسلام میں داخل ہو گیا ۔ دبئی میں میں نے بہت کچھ سیکھا ۔ بہت سا مطالعہ کیا ۔ دبئی سے لوٹ کر بہت سی اسلامی کتب کا لگا تار مطالعہ کر رہا ہوں ۔ اپنے دوستوں کو اسلام کے بارے میں سمجھا رہا ہوں ۔ انہیں سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ اس بات پر اکثر میرا مذاق بنایا جاتا ہے ۔ کبھی کبھی جھڑک بھی دیا جاتا ہے مگر میں نا امید نہیں ہوں ، مجھے افسوس تو ہے اس بات کا ہے کہ میرے گھر والے اسلام کے بارے ایک لفظ سننے کو تیار نہیں ۔ میں ان کے ساتھ رہتا ہوں ، کھاتا پیتا ہوں ، مگر اپنے مذہب کو چاہ کے بھی ان کے کے ساتھ شیئر

نہیں کر پا رہا ہوں ، مگر میں لگا تار کوشش کر رہا ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ اگر ان کے مسلمان ہونے سے قبل میں مر گیا تو کوئی میری لاش کو ہاتھ تک نہیں لگائے گا ۔ میری لاش یونہی گلنے سڑنے کیلئے پھینک دی جائے گی مگر مجھے میرے رب پر یقین ہے کہ وہ میرے ساتھ برا نہیں ہونے دے گا ۔ اس جہاں میں نہ سی وہ مجھے آخرت کی وہ تمام نعمتوں سے مالا مال کر دے گا جس کا اس نے وعدہ کیا ہے " ۔ آمین ۔ ۔ ۔ ۔

05/05/2025

शाह करमानी रहमतुल्लाह अलैह अल्लाह के बहुत बड़े वली थे। लोग दूर-दूर से उनके पास इल्म और रूहानियत हासिल करने आते थे।

एक बार का वाक़िआ है…
एक शख़्स अपने पालतू तोते के साथ शाह करमानी रहमतुल्लाह अलैह की ख़िदमत में हाज़िर हुआ।
उसने अर्ज़ किया:
“हज़रत, मेरा ये तोता बहुत बोलता है, लेकिन अल्लाह का नाम ज़बान पर नहीं लाता। कोई ऐसी नसीहत दीजिए कि ये भी अल्लाह का ज़िक्र करे।”

शाह करमानी मुस्कुराए। उन्होंने तोते को देखा और फ़रमाया:
“ठीक है, इसे मेरे पास छोड़ दो।”

---

कई दिन बीत गए…
शख़्स जब वापस आया तो देखा —
तोता सिर्फ़ "या अल्लाह, या अल्लाह!" कहता है, हर वक़्त अल्लाह का नाम लेता है।

वो हैरान हुआ और पूछा:
“हज़रत, आपने ऐसा क्या किया कि ये तोता अल्लाह का दीवाना बन गया?”

शाह करमानी ने जवाब दिया:
“मैंने इसे खाना-पीना देना बंद कर दिया। जब इसका दिल तड़पा, जब इसका जिस्म कमज़ोर हुआ… तब इसके दिल से पुकार निकली — 'या अल्लाह!'
जब तक इंसान को तकलीफ़ नहीं होती, वो सच्चे दिल से अल्लाह को पुकारता नहीं।”

सबक:
जब दिल से पुकार निकले, तो अल्लाह ज़रूर सुनता है।
तंगी, मुसीबत और भूख – ये सब अल्लाह के करीब लाने वाले ज़रिए हैं।

ऐसे और दिल को छू लेने वाले इस्लामी वाक़िआ के लिए चैनल को ज़रूर सब्सक्राइब करें।

Want your school to be the top-listed School/college in Mumbai?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

Kalandar Nagar Shantosh Nagar
Mumbai
500023