UBL

UBL

Share

03/05/2020

کے موجد "جین کوم" کو خود اپنے والد سے دوری اور فون پر بھی بات نہ کر پانے کا جو دکھ تھا
اس کے احساس کی وجہ سے اس نے دوسروں کو قریب لانے والی یہ ایجاد کی.

جین کوم یوکرائن کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا..... گھر میں بجلی تھی نہ گیس...... یہ لوگ سردیوں میں بھیڑوں کے ساتھ سونے پر مجبور ہو جاتے تھے.

1992ء میں یہودیوں پر حملے بھی شروع ہو گئے تو والدہ نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا لیکن والد نے وطن چھوڑنے سے انکار کر دیا.....
ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما اور یہ دونوں امریکا آ گئے.....
کیلیفورنیا میں ان کے پاس مکان تھا نہ ہی کچھ کھانے کو.....
امریکا میں حکومت انتہائی غریب لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کیلئے فوڈ سٹیمپس دیتی ہے..... یہ سٹیمپس دراصل خیرات ہوتی ہیں.... یہ لوگ اتنے غریب تھے کہ زندگی بچانے کے لیے خیرات لینے پر مجبور تھے.

جین کوم پڑھنے لگا..... وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی مہنگی ہونے لگی..... فوڈ سٹیمپس سے گزارہ مشکل ہو گیا تو جین کوم نے پارٹ ٹائم نوکری تلاش کی اُسے ایک گروسری اسٹور میں خاکروب کی ملازمت ملی....
وہ برسوں یہ کام کرتا رہا..... اتنی غربت میں والد سے فون پر بات بہت مشکل خواہش تھی.

وہ اٹھارہ سال کی عمر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے خبط میں مبتلا ہو گیا
یہ شوق اسے سین جوز اسٹیٹ یونیورسٹی لے گیا...... 1997ء میں وہ یاہو "Yahoo " میں بھرتی ہوا.

2004ء میں فیسبک آئی اور 2007ء میں دنیا کی بڑی کمپنی بن گئی....
جین کوم نے فیسبک میں اپلائی کیا لیکن فیسبک کو اس میں کوئی پوٹینشل نظر نہ آیا اور اسے نوکری نہ دی.....
وہ مزید دو سال "یاہو" میں رہا.... اس دوران اس نے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کر کے آئی فون خرید لیا.

اس آئی فون نے اس کے مستقبل کی تشکیل کی.....
جین کوم نے فون استعمال کرتے کرتے ایک دن سوچا کہ میں کوئی ایسی ایپلی کیشن کیوں نہ بناؤں جو فون کا متبادل بھی ہو.....
ایس ایم ایس بھی کیا جا سکے..... تصاویر اور ڈاکو منٹس بھی بھجوائی جا سکیں اور جسے ہیک بھی نہ کیا جا سکے.

یہ آئیڈیا اپنے ایک دوست "برائن ایکٹون" کے ساتھ شیئر کیا..... یہ دونوں اسی آئیڈیا پر کام میں جت گئے...... یہاں تک کہ دو سال میں ایک طلسماتی ایپلی کیشن بنانے میں کامیاب ہو گئے.

یہ ایپ فروری 2009ء میں لانچ ہوئی اور اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا.
یہ ایپلی کیشن 'واٹس ایپ' کہلاتی ہے.
دنیا کے ایک ارب لوگ اس وقت یہ ایپ استعمال کر رہے ہیں......
آپ واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں.....
آپ کو نیا فون اور نیا نمبر خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور آپ پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں رہیں گے.

جین کوم کو واٹس ایپ نے چند ماہ میں ارب پتی بنا دیا..... یہ ایپلی کیشن اس قدر کامیاب ہوئی کہ دنیا بھر کی کمپنیوں نے اس کی خریداری کیلئے بولی دینا شر وع کر دی لیکن یہ انکار کرتا رہا.

فروری 2014ء میں فیس بک بھی واٹس ایپ کی خریداری کی دوڑ میں شامل ہو گئی.....
فیس بک کی انتظامیہ نے جب اس سے رابطہ کیا تو اس کی ہنسی نکل گئی..... اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور قہقہہ لگا کر کہا__ "یہ وہ ادارہ تھا جس نے مجھے 2007ء میں نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا" ہنستے ہنستے اس نے فیس بک کو 'ہاں' کر دی.
19 ارب ڈالر میں سودا ہو گیا......

یہ کتنی بڑی رقم ہے آپ اس کا اندازہ پاکستان کے کل مالیاتی ذخائر سے لگا لیجیے.
پاکستان کا فارن ایکسچینج اس وقت 22 ارب ڈالر ہے اور پاکستان 70 برسوں میں ان ذخائر تک پہنچا
جب کہ جین کوم نے ایک ایپلی کیشن 19 ارب ڈالر میں فروخت کی.

جین کوم نے فیس بک کے ساتھ سودے میں صرف ایک شرط رکھی کہ میں فوڈ سٹیمپس دینے والے ادارے کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر معاہدے پر دستخط کروں گا......
فیس بک کے لیے یہ شرط عجیب تھی، یہ لوگ معاہدہ اپنے دفتر یا اس کے آفس میں کرنا چاہتے تھے لیکن فیس بک کو اس کی ضد ماننا پڑی، تاریخ طے ہوئی، فیس بک والے فلاحی سینٹر پہنچے......
وہ ویٹنگ روم کے آخری کونے کی آخری کرسی پر بیٹھا ہوا رو رہا تھا.....
وہ کیوں نہ روتا.....
یہ وہ سینٹر تھا جس کے اس کونے کی اس آخری کرسی پر بیٹھ کر وہ اور اس کی ماں گھنٹوں فوڈ سٹیمپس کا انتظار کرتے تھے......
یہ دونوں کئی بار بھوکے پیٹ یہاں آئے اور شام تک بھوکے پیاسے یہاں بیٹھے رہے......
ویٹنگ روم میں بیٹھنا اذیت ناک تھا لیکن اس سے بڑی اذیت کھڑکی میں بیٹھی خاتون تھی.....
وہ خاتون ہر بار نفرت سے ان کی طرف دیکھتی تھی.....
طنزیہ مسکراتی تھی اور پوچھتی تھی.....
"تم لوگ کب تک خیرات لیتے رہو گے.... تم کام کیوں نہیں کرتے"؟
یہ بات سیدھی ان کے دل میں ترازو ہو جاتی تھی لیکن یہ لوگ خاموش کھڑے رہتے تھے.
خاتون انھیں سلپ دیتی تھی.....
ماں کاغذ پر دستخط کرتی تھی اور یہ لوگ آنکھیں پونچھتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے..... وہ برسوں اس عمل سے گزرتا رہا.

چنانچہ جب کامیابی ملی تو اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اسی ویٹنگ روم میں منانے کا فیصلہ کیا.....
اس نے 19 ارب ڈالر کی ڈیل پر فوڈ سٹیمپس کے انتظار میں بیٹھے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر دستخط کئے.....
چیک لیا....
اور سیدھا کاؤنٹر پر چلا گیا، فوڈ سٹیمپس دینے والی خاتون آج بھی وہاں موجود تھی.....
جین نے 19 ارب ڈالر کا چیک اس کے سامنے لہرایا اور ہنس کر کہا___ "آئی گاٹ اے جاب" اور سینٹر سے باہر نکل گیا.....🙂

یہ ایک مفلس غریب الوطن کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے
جو ثابت کرتی ہے کہ آپ ڈٹے رہیں، محنت کرتے رہیں تو بالآخر کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے.
منقول

23/04/2020

Happy Ramadan for you and your family.
May Allah bless all of us with his countless blessings. Ameen

11/02/2020

سرمایہ کاری

*Javed Choudary*

بیٹا فرش پر بیٹھا تھا‘ والد کے پاؤں گرم پانی کی بالٹی میں تھے‘ وہ والد کے پاؤں باہر نکالتا تھا‘ تپائی پر رکھتا تھا‘ روئی سے صاف کرتا تھا‘ سکرب کرتا تھا اور دوبارہ پانی میں رکھ دیتا تھا‘ وہ مساج والا لگ رہا تھا‘ اس نے اگر سوٹ نہ پہنا ہوتا یا اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا یہ اس دفتر‘ اس کمپنی اور اس فیکٹری کا مالک ہے تو میں اسے ملازم یا مساج والا ہی سمجھتا‘ وہ مالک تھا لیکن وہ زمین پر بیٹھا تھا‘ اس کا والد کرسی پر تھا اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے پاؤں دھو رہا تھا۔

وہ فارغ ہوا‘ اس نے تولیے سے والد کے پاؤں صاف کیے‘ بالٹی اٹھائی‘ باتھ روم میں گیا‘ پانی الٹا‘

ہاتھ دھوئے‘ خشک کیے اور میرے سامنے بیٹھ گیا۔میں نے مدت بعد کسی شخص کو اپنے والد کی اتنی خدمت کرتے دیکھا تھا‘ میں حیران بھی تھا اور شرمندہ بھی‘ میرے والد پوری زندگی میرے ساتھ رہے تھے‘ میں ان کی اس طرح خدمت کرنا چاہتا تھا لیکن میں شرمیلے پن اور سستی کی وجہ سے ان کے پاؤں نہ دھو سکا‘ میں مصروفیت کی وجہ سے آخری دنوں میں ان سے روزانہ ملاقات بھی نہ کر سکا لہٰذا میں جب بھی اور جہاں بھی کسی کو اپنے بوڑھے والد کا ہاتھ پکڑے دیکھتا ہوں یا ان کے پاؤں دھوتے یا کندھے دباتے دیکھتا ہوں تو میرے افسوس میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ میں اس وقت بھی دکھی اور خاموش بیٹھا تھا‘ وہ دونوں باپ بیٹا تھوڑی دیر مجھے دیکھتے رہے اور پھر بیک وقت بول پڑے ”جاوید صاحب اصل زندگی یہی ہے“ میں نے چونک کر پہلے بیٹے کی طرف دیکھا اور پھر باپ کی طرف‘ وہ دونوں مسکرا کر میری طرف دیکھ رہے تھے‘ دونوں کے چہروں پر سکون اور خوشی تھی‘ میں نے مدت بعد کسی کے چہرے پر اتنی خوشی اور اتنا سکون دیکھا تھا۔والد نے ہاتھ ملے اور میری طرف دیکھ کر بولا ”میں نے یہ اپنے باس سے سیکھا تھا‘ میں جوانی میں فیصل آباد کی ایک مل میں اکاؤنٹنٹ بھرتی ہو گیا‘ میں مالک کے قریب تھا لہٰذا میری اس سے روز ملاقات ہوتی تھی۔

میں نے دیکھا میرا مالک سرمایہ کاری کے خبط میں مبتلا ہے‘ اس کی جیب میں دس روپے بھی بچ جاتے تھے تو وہ انہیں بھی کاروبار میں لگا دیتا تھا‘ وہ دن رات کام کرتا تھا‘ فیکٹری کے بعد امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس‘ شاپنگ پلازے اور کرائے کے مکان اور اگر وقت بچ جاتا تو وہ یہ وقت گاڑیوں کی خریدوفروخت اور جائیداد کے لین دین میں صرف کر دیتا‘ وہ پیسے بنانے کی مشین تھا‘ وہ ہر ملاقات‘ ہر کام کے بعد سوچتا تھا مجھے اس کا کیا فائدہ ہوا؟ لوگ اس کے بارے میں کہتے تھے وہ پیسوں کے بغیر چھینک بھی نہیں مارتا۔

اسے اگر خارش بھی ہوتی تھی تو وہ خارش پر وقت ضائع کرنے کی بجائے نوٹ گنتا تھا‘ وہ ان کاروباری مصروفیات کی وجہ سے بچوں پر توجہ نہ دے سکا‘ اس نے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل کرایا مگر بچے پڑھ نہ سکے‘ آپ یہ بات ذہن میں رکھیں بچوں کو ٹیوٹر‘ سکول یا کالج نہیں پڑھاتے والدین پڑھاتے ہیں‘ والدین اگر بچوں پر توجہ نہ دیں‘ یہ اگر انہیں وقت اور محبت نہ دیں تو آپ انہیں خواہ آکسفورڈ میں داخل کرا دیں یہ تعلیم مکمل نہیں کر سکتے‘ بچوں کو والدین کی توجہ اور محبت چاہیے ہوتی ہے۔

بچے پھل ہوتے ہیں اور والدین کی محبت اور توجہ سورج اور چاند‘ یہ دونوں جب تک انہیں روشنی نہیں دیتے پھلوں میں اس وقت تک رس نہیں آتا‘ یہ نہیں پکتے‘ میرے سیٹھ کے بچے بھی والد کی توجہ اور محبت سے محروم تھے چناں چہ وہ کچے رہ گئے‘ بڑا بیٹا تعلیم کے لیے امریکا گیا‘ گوری سے شادی کی‘ کرسچین ہوا اور کبھی واپس نہ آیا‘ دوسرا نشے کی لت کا شکار ہو گیا‘ بیٹی نے مرضی کی شادی کر لی‘ والد نے رو پیٹ کر شادی قبول کر لی‘ وہ داماد کو کاروبار میں لے آیا۔

داماد کاروبار اور بیٹی دونوں کو کھا گیا‘ آخر میں نتیجہ طلاق نکلی اور سب سے چھوٹا بیٹا نالائق تھا‘ وہ دن رات فضول اور نالائق دوستوں میں بیٹھا رہتا تھا اور دونوں ہاتھوں سے والد کی دولت اڑاتا رہتا تھا‘ والد روکتا تھا تو وہ اس کے گلے پڑ جاتا تھا اور سیٹھ کے بھائی‘ سالے اور بہنوئی تمام لفنگے اور فراڈیے تھے‘ وہ بار بار اسے دھوکا دے چکے تھے‘وہ ان سے الرجک تھا‘ یہ تمام ایشوز اکٹھے ہوئے‘ سیٹھ سٹریس میں گیا‘ بیمار ہوا اور تیزی سے میڈیکل سٹور بنتا چلا گیا‘۔

اس نے شراب پینا بھی شروع کر دی یہاں تک کہ ایک دن اسے ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ فیکٹری کے گیٹ پر گر کر انتقال کر گیا‘ بس سیٹھ کے مرنے کی دیر تھی اس کی ہر چیز تباہ ہو گئی‘ وراثت تقسیم ہوئی اور بچوں نے وہ ساری دولت چند ماہ میں اڑا دی جسے جمع کرنے اور سنبھالنے میں سیٹھ نے پوری زندگی لگا دی تھی‘ اس کی بیگم نے بھی بڑھاپے میں اپنے منیجر سے شادی کر لی‘ بھائیوں کے پاس جو کچھ تھا وہ اس پر قابض ہو گئے‘ جو کچھ نشئی بیٹے کو ملا اس نے وہ نشے میں ڈبو دیا اور جو نالائق بیٹے کے ہاتھ آ گیا اس نے وہ مجروں میں ضائع کر دیا چناں چہ میری آنکھوں کے سامنے وہ ساری ریاست‘ وہ ساری ایمپائر زمین بوس ہو گئی۔

اکاؤنٹس میں تنخواہوں اور بجلی کے بل تک کے پیسے نہ بچے‘ میں نے استعفیٰ دیا اورنوکری چھوڑ کر آ گیا‘ میں جب فیکٹری کے گیٹ سے نکل رہا تھا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا ”محمد صفدر دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کیا ہے“ میرے اندر سے آواز آئی ”بھلائی کے کام اور نیک اولاد“ چناں چہ میں نے فیصلہ کیا ”میں باقی زندگی دوسروں کے ساتھ بھلائی کروں گا اور اپنی ساری توجہ اپنی اولاد پر دوں گا“۔وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور بولے ”جاوید صاحب! آپ یقین کریں میں نے اس کے بعد زندگی میں کبھی ایک پیسے کی بچت نہیں کی۔

میں نے گاڑی تک نہیں خریدی اور گھر تک نہیں بنایا‘ میں جو کماتا تھا وہ میں اپنے خاندان پر لگا دیتا تھا‘ میں اپنے بچوں کو روز سکول چھوڑ کر آتا تھا‘ لنچ بریک کے دوران دوبارہ سکول جاتا تھا اور اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا کر واپس آتا تھا‘ میرے بچے جانتے تھے اگر یہ کھانا نہیں کھائیں گے تو میں بھی اس دن لنچ نہیں کروں گا لہٰذا یہ میری اور میں ان کی خاطر لنچ کرتا تھا‘ میں روز ان کے جوتے بھی پالش کرتا تھا‘ ان کی یونیفارم بھی دھو کر استری کرتا تھا‘ میں روز انہیں گراؤنڈ بھی لے کر جاتا تھا۔

ان کے ساتھ کھیلتا بھی تھا اور واپسی پر گرم پانی سے ان کے پاؤں بھی دھوتا تھا‘ میں اپنے ہاتھ سے اپنی بیٹی کے سر میں تیل بھی لگاتا تھا اور کنگھی بھی کرتا تھا‘ میری ساری خوشیاں‘ میرے سارے غم میرے بچے تھے‘ یہ ہنستے تھے تو میں ہنستا تھا‘ یہ پریشان ہوتے تھے تو میں پریشان ہو جاتا تھا‘ اس محبت اور اس توجہ نے میرے اور ان کے درمیان ایک مضبوط بانڈ بنا دیا‘ ہم سب ایک یونٹ ہو گئے‘ یہ بڑے ہوئے‘ تعلیم مکمل کی اور اپنے اپنے کام شروع کر دیے‘ اللہ نے کرم کیا اور یہ ترقی کرنے لگے۔

یہ آج خوش حال بھی ہیں اور کام یاب بھی‘ میں آج بھی ان کے ساتھ لنچ کرتا ہوں‘ میں جس دن اس دفتر نہ آؤں میرے بچے اس دن لنچ نہیں کرتے‘ بچوں نے شیڈل بنا رکھا ہے ان میں سے کوئی ایک روز میرے پاؤں دھوتا ہے اور دوسرا شام کو مجھے دباتا ہے اور میری بیٹی روز کھانا پکا کر مجھے بھجواتی ہے‘یہ میری زندگی کی سرمایہ کاری تھی جب کہ میں نے پوری زندگی کسی کے ساتھ زیادتی‘ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کیا‘ میں نے جب بھی کی لوگوں کے ساتھ بھلائی کی‘ میرا خیال ہے میری بھلائی میری آخری زندگی کی سرمایہ کاری ہے“۔

وہ خاموش ہو گئے‘ ملازم نے اس دوران میز پر کھانالگا دیا‘ بیٹے نے والد کی ویل چیئر کھینچی‘ میز کے ساتھ لگائی‘ گلے میں نیپکن باندھا اور ہاتھ سے پہلا لقمہ توڑ کر اس کے منہ میں رکھا‘ والد نے اس لقمے کے بعد اپنے ہاتھ سے کھانا شروع کر دیا‘ میں دونوں کو رشک سے دیکھنے لگا‘ والد کے دوسرے دونوں بیٹے بھی اس دوران آ گئے اور وہ بھی کھانے میں شریک ہو گئے‘ ایک بیٹا بینک میں منیجر تھا اور دوسرا ملٹی نیشنل کمپنی میں اکاؤنٹنٹ تھا۔

یہ دونوں روز لنچ بریک کے دوران تیسرے بھائی کے دفتر میں آتے ہیں اور یہ چاروں اکٹھے کھانا کھاتے ہیں‘ میں نے کھانے کے دوران میزبانوں سے ان کی والدہ کے بارے میں پوچھا‘ پتا چلا وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ میں دو گھنٹے ان کے ساتھ رہا‘ ملازم بیٹے کھانے کے بعد اپنے دفتروں میں چلے گئے جب کہ بزنس مین بیٹا اور وہ دیر تک میرے ساتھ بیٹھے رہے‘ میں رخصت ہونے لگا تو والد میرا ہاتھ دبا کر بولا ”جاوید بیٹا! انسان کی اصل سرمایہ کاری اولاد اور نیکی ہوتی ہے لیکن زیادہ تر لوگ دولت کی جمع ضرب کے دوران یہ سرمایہ منفی کر بیٹھتے ہیں اور یوں خسارے میں جا گرتے ہیں۔

آپ لوگوں کو بتائیں ان کا اصل سرمایہ ان کی اولاد اور بھلائی ہے‘ یہ ان دونوں قسم کے سرمائے کو کسی قیمت پر ضائع نہ ہونے دیں‘ ان کی زندگی بھی جنت بن جائے گی اور آخرت بھی‘ یہ دونوں جہاں میں سرخرو ہو جائیں گے ورنہ دنیا میں دولت سے بڑی حماقت اور مصروفیت سے بڑی بے وقوفی کوئی نہیں“۔

08/02/2020

*زند گی کا سب سے اہم سو ا ل*
*شوق یا پیسہ*
عظیم پریم جی جو ہندستان کے بڑے کاروباریوں میں سے ہیں، کہتے ہیں، ’’ میں اور میری کمپنی کبھی پیسے کے پیچھے نہیں بھاگے۔ ہم ہمیشہ ساکھ کے پیچھے بھاگتے ہیں جس کی وجہ سے پیسہ ہمارے پیچھے بھاگتاہے۔‘‘

یہ الفاظ ایک کامیاب ترین کاروباری کے ہیں۔ اس کے برخلاف ہمیں سکھایا ہی یہ جاتا ہے کہ تم اس لیے پڑھ رہے ہو تاکہ نوکری مل جائے۔ لڑکی اس لیے پڑھ رہی ہے تاکہ اچھا رشتہ مل جائے۔ جب ہمارے اہداف (ٹارگٹس) ہی اتنے چھوٹے ہوں گے تو پھر زندگی کہاں گزرے گی۔ خدارا، اس کام کوکیجیے جس کیلئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیدا کیا ہے تاکہ کام آپ کو کام نہ لگے۔ اگر کام آپ کو کام لگے اور آپ کیلئے بوجھ بن جائے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے شوق کو دریافت نہیں کرسکے ہیں۔ آپ نے کاموں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ اور زندگی جس کیلئے بوجھ ہوتی ہے، وہ مُردہ ہوتا ہے۔ صرف دفنا نا باقی ہوتا ہے۔ مشہور فلم ’’تھری ایڈیٹس‘‘ کے آخر میں فوٹوگرافر اپنے والد سے کہتا ہے، ’’فادر! اِٹس او کے۔۔۔ پیسہ کم کمالوں گا، لیکن وہ کروں گا جس میں میری تسلی ہے، میرا جذبہ ہے۔‘‘

یاد رکھیے، ہر ایک کے اندر میڑ لگا ہو ا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ آپ کا کام کیا ہے۔ جو بتاتا ہے کہ آپ کو کدھر جانا ہے۔ بعض اوقات زمانے کی تقدیر زمانے کے ہاتھ کی لکیر پر نہیں، آپ کے ہاتھ کی لکیر پر لکھی ہوتی ہے۔ جناحؒ کے ہاتھ کو دیکھیں۔ جناحؒ کے ہاتھ پر قوم کی تقدیر لکھی ہوئی تھی۔ تقدیرآپ کو بدلنی ہوتی ہے۔ آپ انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی مسیحا آئے اور تقدیر بدلے، جبکہ خدا نے آپ سے کام لینا ہوتا ہے۔ عبدالستار ایدھی صاحب نہ ہوتے تو کتنے ہی لاوارث پڑے رہ جاتے، کتنے یتیم بے سہارا رہ جاتے۔ وہ کتنوں کے باپ بن گئے، کتنوں کے جنازوں کے کفن بن گئے اور کتنوں کیلئے آسانی کا ذریعہ بن گئے۔

بعض اوقات ایک فرد پورے معاشرے کے معیار کو بدل ڈالتا ہے۔ وہ Trendsetter کہلاتا ہے۔ یہ ٹرینڈ سیٹر آپ بھی ہو سکتے ہیں۔ شوق کی پہچان کا فارمولا شوق کی پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے مشورہ لینے سے پہلے اپنے آپ سے مشورہ کریں۔ اپنے آپ سے مشورہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دل کی آواز سنیں۔ جب آپ اپنے دل کی آواز سنیں گے تو آپ کو اندر سے آواز ضرور آئے گی کہ آپ اچھے انجینئر نہیں ہیں، بلکہ آپ اچھے بزنس مین ہیں۔ حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں، ’’انسان کی دو پیدائشیں ہیں۔ ایک پیدائش جس دن وہ اپنی ماں کے پیٹ سے دنیا میں آتا ہے۔ دوسری پیدائش جس دن اسے اپنے پیدا ہونے کا مقصد پتا چل جاتا ہے۔‘‘ عبدالستار ایدھیؒ مرحوم دو بار الیکشن میں کھڑے ہوئے اور دونوں بار ہار گئے۔ اگر وہ الیکشن جیت جاتے تو عبدالستار ایدھی نہ بن پاتے۔ حضرت اقبالؒنے مقابلے کا امتحان دیا۔ اگر آپؒ کامیاب ہوجاتے تو علامہ اقبالؒ نہ بنتے۔

جتنے بھی بڑے لوگ بنے ہیں، وہ بہت سی ناکامیوں کے بعد کامیاب ہوئے ہیں۔ آدمی کو درست جگہ پر پہنچنے کیلئے ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اسٹوڈنٹ نمبروں میں تو ٹاپ کرجاتا ہے، لیکن زندگی میں فیل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ وہ جو بنتا ہے، وہ اپنے لیے نہیں بنتا بلکہ وہ معاشرے کا ٹرینڈ دیکھتا ہے کہ اگر دوسروں کے گال سرخ ہیں تو میرے بھی سرخ ہونے چاہئیں۔
ہم جس طرح کے لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں، انھی کا سا رجحان ہم اختیار کرتے ہیں۔ یہاں ہمارے فطری مزاج اور معاشرے کے انداز میں تصادم ہوتا ہے۔ ہم اپنے اندر سے کچھ ہوتے ہیں اور سماج کی دیکھا دیکھی کچھ اور کرتے ہیں۔ یہ دوغلا پن ہماری زندگی سے ہماری خوشی اور سکون چھین لیتا ہے۔

لوگوں کو نہ دیکھئے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے ہیرئووں کے کاموں سے بھی متاثر نہ ہوں۔ آپ جیسا کوئی دوسرا نہیں۔ اپنے اندر اپنی تلاش کیجیے۔ اپنے دل کے اندر جھانکئے اور کھوجئے کہ آپ کا رجحان کس طرف ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں: ’’جو تیرا خیال ہے، وہی تیر ا حال ہے۔‘‘

Want your business to be the top-listed Finance Company in Cairo?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address

Cairo
1000000