Ahmad Riaz
17/03/2026
19/02/2026
اپنی ہستی پہ شرمسار ہوں ، توبہ میری
میں بھی توبہ کا طلبگار ہوں ، توبہ میری
خود ہی بوۓ ہیں جو سب خار ہیں قریہ قریہ
خود ہی رستے کی میں دیوار ہوں ، توبہ میری
جیسا ظاہر ہے مرا ، خوف سے لرزاں لرزاں
ایسے اندر سے بھی بیمار ہوں ، توبہ میری
میرے کاندھے بھی جدا ہیں مرے ہم راہوں سے
اپنی باہوں سے بھی ! لاچار ہوں ، توبہ میری
تیرا ہونے کے علاوہ مرا ہونا کیسا
ایسا ہونا ہے تو ! بے کار ہوں ، توبہ میری
سارے منصب ہیں تری ذات کے لائق مولا
میں تو اعلی ہوں نہ سردار ہوں ، توبہ میری
کس نے دینا ہے ، بھلا کون ہے دینے والا
تیری بخشش سے ثمر بار ہوں ، توبہ میری
تیری رحمت کا سہارا ہے تو ، قائم احمد
اپنے زخموں کا ذمہ دار ہوں ، توبہ میری
۔
۔
احمد ریاض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایبٹ آباد
19/02/2026
کلی بن کے حرفوں سے پھوٹا کرو
مرے ساتھ خوشبو کو ڈھونڈا کرو
اٹھایا کرو کوئ تازہ قدم
نئے زاویے سے بھی سوچا کرو
ضروری ہو جب بولنا آپ کا
مرا مشورہ ہے کہ ! بولا کرو
عزیز و اقارب کی صورت سہی
محبت زمینوں میں بویا کرو
جسے کوئ منزل نہیں چاہیے
اسے راستے میں نہ روکا کرو
کبھی رو برو اس کا دیدار ہو
کبھی یاد میں اس کی کھویا کرو
کسی شام ہنستے ہوئے تم ملو
کسی رات کھل کر بھی رویا کرو
۔
۔
احمد ریاض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایبٹ آباد
07/02/2026
خوبصورت شمار ہوتے ہیں
لوگ, جن پر نثار ہوتے ہیں
دوستی کے سلوک باہم رکھ
دشمنوں کے غبار ہوتے ہیں
کون رہبر کہے لٹیروں کو !
چور، کس کا وقار ہوتے ہیں !
کچھ قرینے شعور کی صورت
کچھ سلیقے بہار ہوتے ہیں
وہم پالے ہوۓہیں ذہنوں میں
خوف سر پر سوار ہوتے ہیں
نیند تن من نکھارتی رت ہے
خواب دل کا قرار ہوتے ہیں
احمقوں میں دماغ کے صدمے
جاہلوں پر ادھار ! ہوتے ہیں
زندگی میں حسین لوگوں کا
لوگ اکثر شکار ہوتے ہیں
ایک منطق نہیں سمجھ آئ
اور ، مطلب ! ہزار ہوتے ہیں
آپ چھوڑیں کلائیوں کے دکھ
آپ کب سے سنار ہوتے ہیں!
آگ لگتی نہیں اکیلے میں
ساتھ ! شعلہ ، شرار ہوتے ہیں
نام ہوتے ہیں کام کے اک دو
لاکھ نامہ نگار ہوتے ہیں
حوصلوں کےچراغ روشن رکھ
حسرتوں کے مزار ہوتے ہیں
گرمیوں کا مزاج پانی کر
سردیوں میں سگار ہوتے ہیں
ملک دشمن ذلیل ہو کر پھر
دیکھ ! کب تک فرار ہوتے ہیں
شاعری کے سماج میں احمد
ہم محبت شعار ہوتے ہیں
۔
۔
احمد ریاض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایبٹ آباد
07/02/2026
Bushra Haq
Click here to claim your Sponsored Listing.