Baloch
10/06/2026
حمید اللہ محسود تقریباً 14 سال دبئی میں مقیم رہے اور 2024 میں پاکستان واپس آئے، جہاں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بینظیر چوک، ترنول، اسلام آباد میں رہائش پذیر تھے۔ پاکستان واپسی کے بعد انہیں صرف 7 سے 8 ماہ ہی ہوئے تھے کہ 17 جنوری 2025 کو تقریباً رات 12:30 بجے 8 سے 10 افراد، جن میں کچھ سادہ لباس میں ملبوس تھے جبکہ کچھ مبینہ طور پر سی ٹی ڈی کے اہلکار تھے، انہیں ان کے گھر سے اسلحے کے زور پر زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
اس کارروائی کے دوران 7 سے 8 گاڑیاں بھی موجود تھیں جن میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی گاڑیاں شامل تھیں۔ اہلکاروں نے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ تفتیش کے بعد حمید اللہ محسود کو واپس گھر پہنچا دیا جائے گا، تاہم آج تک ان کی کوئی خبر نہیں مل سکی اور ان کی موجودہ حالت اور مقام نامعلوم ہیں۔ حمید اللہ محسود کی اہلیہ اور ان کے بیٹے نے مقامی پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کروائی، جبکہ اہلِ خانہ نے اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے کمیشن میں بھی درخواست دے رکھی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تک انہیں صرف تاریخ پر تاریخ دی جا رہی ہے اور کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
مزید برآں، حمید اللہ محسود کے چچا بھی گزشتہ 7 سے 8 ماہ سے لاپتہ ہیں اور آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
ریاست نے ہزاروں بلوچوں اور پشتونوں کو اپنے نامعلوم زندانوں میں قید کرلیا ہے۔۔
09/06/2026
ایک خلیل کو شہید کیا گیا ہے باقی 3 فرزندان کو شہید کرو لاش بھی نہیں دو
نا جھکوں گا نا ہی اپنی بھاہیوں کے خلاف استعمال ہو جاونگا،سردار نصیر موسیانی
سردار نصیر جان موسیانی جس کو پیرا سرئی میں توڑنے کی ایک سر توڑ کوشش کی یہ وہ کوشش ہے جو گزشتہ تیس سال سے مختلف اشکال میں جاری ہے لیکن یہ بہت بھیانک کوشش تھئ 2 جون کو زہری کے علاقے بلبل میں ایک ایسے واقعہ کو جواز بنایا گیا جس کا سردار صاحب سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں منظم پلان کے تحت سردار نصیر احمد موسیانی کی خلق کو ٹینکوں بکتر بند گاڈیوں سے گھیرا کیا گیا ہے اور گھر پر دستک دی گئی کے سردار کو نکالو جب سردار صاحب نہتے اور خوش مزاج انداز میں باہر آئے تو منظم منصوبے سے آنے والے ان پر بلا اشتعال ٹوٹ پڑیں اور دھکا دیکر زمین پر گرایا۔ سفید ریش باپ کی بے حرمتی دیکر بیٹوں نے ان یزدیوں کی ہاتھ روکنے کی کوشش کی تو براہ راست ان پر فائرنگ کی گئی اور ان کے جوان فرزند خلیل جان موسیانی کو گولی مار دیا گیا یزیدی لشکر کی سینکڑوں بدمعاشوں نے ان کے صاحبزادوں اور اقارب کو زخم کر کے گرفتار کیا اور سردار صاحب کو اور انکی فرزندوں کو قریبی اسکول میں لا کر 8 گھنٹہ یرغمال بنایا اور زخمی خلیل موسیانی کو دھوپ پر پڑیں رکھا ۔ بلا آخر شدید عموامی مزاحمت پر 8 گھنٹے بعد سردار نصیر احمد موسیانی کو رہا کیا گیا جبکے زخمی میر خلیل اور باقی گرفتار افراد کو مرکزی کیمپ لے جایا گیا۔ صبح اطلاع دی گئی کے سردار نصیر احمد موسیانی کو کہو ہمارے صاحب سے ملیں بیٹے کی لاش لے جاو باقی کو چھوڑ دیں گے لیکن سردار نصیر احمد نے جواب دیا کے ایک خلیل کو شہید کیا گیا ہے باقی 3 اور بیٹوں کو شہید کرو لیکن میں تمہارے پاس نہیں آونگا نہ ہی سر جھکاونگا
سردار نصیر احمد موسیانی کو تکلیف دینے کی کوشش کیوں کی گئی؟
زہری کے غیور عوام کو 9 مہینوں سے کرفیو کے زیر سایہ نان و شبینہ کے محتاج کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کے آپ لوگ بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف کام کرو لیکن یہ نا کرنے پر نا صرف زہری کے عوام بلکے سردار نصیر احمد موسیانی سے بلخصوص یہ کام کروانے کی کوشش کی گئی
بلوچستان میں غیرت مند سردار نصیر موسیانی جیسے فرزند موجود ہے جو جنگی منافع خوری کے بجائے بلوچ کی بقاء کی سوچ بھی رکھتے ہیں
08/06/2026
مجھے مار دیا جائے گا ،وہ بہت طاقتور لوگ ہیں ۔میں اپنے بچوں تک پہنچنے سے پہلے اپنے بچوں کو خود مار دوں گا ۔ان ظالموں کے ہاتھ نہیں لگنے دوں گا ۔ آپ تک ویڈیو پہنچنے سے پہلے ہم ہوں گے یا شاید نہیں ،ہمیں پلیز انصاف دینا ۔ وہ لوگ آپ کے ساتھ میٹنگیں کرتے ہیں ۔وہ حکومت میں کام کرتے ہیں ۔ مجھے کہتے ہیں کہ کام کرو ،ورنہ گھر خالی کرو ۔مجھے راستہ میں روک کر بچوں کے سامنے تھپڑیں مارتے ہیں ۔اور غیب کرنے کی دھمکی بھی دیتے ہیں ۔ میں نے بچوں کے دیکھ بھال کے لئے کیمرے بھی لئے ہیں ۔اب میں بہت مجبور ہوں !
مبعینہ خودکشی کرنے والے شخص کی ویڈیو بیان میں گفتگو
Click here to claim your Sponsored Listing.