MuhammadHafeez
انسان کی پہچان
سچ پُوچھیے تو سارا سفر وآپسی کا ہے
ہم تو مسافر ہیں یہاں
ہم اللہ کی طرف سے آئے،
ہماری زندگی اللہ کے لیے ہے،
اور ایک دن ہم اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔
حضورﷺ فرماتے ہیں
دنیامیں ایسےرہوجیسےکہ تم اجنبی ہو یا راہ چلتے مسافر
23/04/2026
میں اسلامی نفسیات کے متعلق ایک قسط وار سلسلہ شروع کر رہا اس سلسلے کی پہلی قسط نفس کی تعریف سے شروع کی گئی ہے۔ اگلی قسط
میں ہم نفس غصہ دل عقل کا ریلیشن دیکھیں گے اور اسے بیلنس کرنے کا طریقہ
قسط نمبر 1 نفس
انسان کا سب سے بڑا اور خطرناک دشمن کوئی اور نہیں، بلکہ وہ "نفس" ہے جو اس کے اپنے دو پہلوؤں کے درمیان موجود ہے۔
نفس کی پہچان معرفتِ الٰہی اور روحانی کامیابی کا پہلا زینہ قرار ہے۔
نفس کیا ہے؟
"نفس" انسان کے اندر موجود ان تمام مذموم صفات، شہوات، غصے اور حیوانی جبلتوں کے مجموعے کا نام ہے جو اسے اللہ کی نافرمانی کی طرف کھینچتے ہیں۔ یہ وہ اندھی طاقت ہے جو لذتوں کی طلب گار رہتی ہے اور اگر اسے بے لگام چھوڑ دیا جائے تو انسان کو جانوروں سے بھی نچلے درجے پر گرا دیتی ہے۔
نفس کی فطرت اور اس کے درجات
قرآن کریم اور علمائے کرام کی تشریح کے مطابق، تربیت اور روحانی حالت کے اعتبار سے نفس کے تین بنیادی درجات ہیں:
نفسِ امّارہ (حکم دینے والا نفس): یہ انسان کی وہ ابتدائی حالت ہے جس میں نفس بے لگام ہوتا ہے اور کثرت سے برائی کا حکم دیتا ہے۔ یہ انسان کو شہوات، غصے اور تکبر یعنی ایگو "میں ہی سب کچھ ہوں " کی طرف دھکیلتا ہے اور گناہ پر کوئی ندامت محسوس نہیں کرتا۔
نفسِ لوّامہ (ملامت کرنے والا نفس):جب انسان کے اندر ایمانی بیداری پیدا ہوتی ہے تو نفس ترقی کر کے اس مقام پر آتا ہے۔ یہ نفس گناہ کے بعد انسان کو کچوکے لگاتا ہے اور ملامت کرتا ہے۔ یہ توبہ کی طرف پہلا قدم ہے، جہاں نیکی اور بدی کی کشمکش جاری رہتی ہے۔
نفسِ مطمئنہ (سکون پانے والا نفس): جب نفس اللہ کی رضا پر مکمل راضی ہو جاتا ہے اور گناہوں کی کشش ختم ہو جاتی ہے، تو اسے نفسِ مطمئنہ کہتے ہیں۔ یہ نفس سراپا نور اور اطاعت بن چکا ہوتا ہے۔
نفس انسان کو کیسے دھوکہ دیتا ہے؟
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ نفس شیطان سے بھی زیادہ مکار ہے، کیونکہ شیطان باہر سے وسوسہ ڈالتا ہے جبکہ نفس اندر کا بھیدی ہے۔ اس کے دھوکے اس قدر باریک ہوتے ہیں کہ بسا اوقات بڑے بڑے عابد بھی ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نفس کے چند مشہور فریب درج ذیل ہیں:
نیکی کے لباس میں بدی کی ترغیب: نفس ہمیشہ برائی کو براہِ راست پیش نہیں کرتا، بلکہ اسے دین اور نیکی کا لبادہ اوڑھا دیتا ہے۔ مثلاً، علمِ دین سیکھنے کے نام پر دل میں بحث و مباحثہ کا شوق اور تکبر پیدا کرنا، یا رات کی عبادت میں ریاکاری (دکھاوا) شامل کر کے اسے باطل کر دینا۔ یا نامحرم سے اکیلے میں رات کو باتیں کرنا اور خود کو دھوکا دینا میں تو اسے دین کی باتیں سیکھا رہا یا سیکھ رہا ہوں میں تو بہن یا بھائی سمجھ رہا/رہی ہوں لیکن اندر ہی اندر اس سے لطف اندوز ہونا۔
نفس کا سب سے خطرناک دھوکہ یہ ہے کہ وہ گناہ کو کوئی "خوبصورت نام" دے دیتا ہے۔ مثلاً:
سود کو "منافع" یا "کاروباری ضرورت" کہہ کر پیش کرنا۔
تکبر کو "خودداری" کا نام دینا۔
ظلم کو "اصلاح" یا "قومی مفاد" کا لبادہ اڑھا دینا۔
لمبی امیدیں اور تاخیر: نفس انسان کو یقین دلاتا ہے کہ ابھی اس کی عمر بہت طویل ہے، جوانی میں مزے کر لو، بڑھاپے میں سچی توبہ کر لینا۔ یوں وہ انسان کو کل کے جھوٹے دلاسے دے کر "آج" کی عبادت اور توبہ سے غافل کر دیتا ہے۔
گناہوں کو چھوٹا کر کے دکھانا: نفس بار بار یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ یہ تو نہایت چھوٹا اور معمولی سا گناہ ہے، اور اللہ بہت غفور و رحیم ہے۔ یہ سوچ خدا کی رحمت کا غلط استعمال سکھاتی ہے اور انسان کو مسلسل نافرمانی پر دلیر کر دیتی ہے۔
چھوٹی نیکی میں الجھا کر اعلیٰ نیکی سے محروم کرنا: جب نفس دیکھتا ہے کہ انسان گناہ کی طرف نہیں آ رہا، تو وہ اسے کسی کم درجے کی نفلی نیکی میں اس قدر مگن کر دیتا ہے کہ اس کے فرائض اور حقوق العباد ضائع ہونے لگتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک شخص مسجد میں ایک کروڑ کا فانوس لگوا دیتا ہے لیکن غزہ کے مسلمانوں کو وہ ایک کروڑ نہیں بھیجتا۔
اسی طرح نماز چھوڑ کر نفلی کام کرنے لگ جاتا ہے اور نماز میں تاخیر کردیتا ہے
یعنی اسے دین میں ترجیحات کا علم نہیں ہوتا اور یہ نفس اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے
وکیل کی طرح کام کرنا: انسان کا نفس اس سے ایک مؤکل (Client) کی طرح کام لیتا ہے جس کی فیس محض "لذتِ نفس" ہوتی ہے۔ یہ انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا دفاع کرے اور اپنی تسکین کی خاطر دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لیے لاجک لڑائے۔
جیسے جب انسان کوئی غلط کام کرنا چاہتا ہے، یا جب حق اور سچائی سامنے آتی ہے تو انسان کا نفس اسے تسلیم کرنے سے روکنے کے لیے "حیلوں اور تاویلوں کا ایک لشکر" تیار کر کے سامنے آ جاتا ہے۔ یہ انسان کے دماغ کو استعمال کر کے ایسی خوشنما نقاب (دلائل) تیار کرتا ہے کہ انسان خود کو مکمل بے گناہ اور سچا سمجھنے لگتا ہے۔ نفس اسے ہزار علمی اور عقلی دلیلیں فراہم کر دیتا ہے تاکہ انسان کا ضمیر اسے ملامت نہ کرے۔ یہ انسان کو یقین دلا دیتا ہے کہ "حالات ہی ایسے تھے" یا "میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا"۔
نفس کا علاج اور اس کی اصلاح
نفس کا علاج اسے ہلاک کرنا نہیں، بلکہ اسے لگام دے کر اس کی تربیت (تزکیہ) کرنا ہے۔ امام غزالیؒ نے اس کے لیے چار بنیادی اصول مقرر کیے ہیں:
مشارطہ (شرط لگانا): دن کے آغاز پر اپنے نفس سے پختہ شرط لگانا کہ آج کوئی گناہ نہیں ہوگا اور اللہ کی نافرمانی سے بچنا ہے۔
مراقبہ (نگرانی کرنا): سارا دن اپنے دل اور خیالات کی چوکیداری کرنا اور یہ دھیان رکھنا کہ اللہ مجھے ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔
محاسبہ (حساب لینا): رات کو سونے سے پہلے ایک تاجر کی طرح اپنے دن بھر کے اعمال کا حساب لینا کہ آج کیا کھویا اور کیا پایا۔
معاقبہ (سزا دینا): اگر محاسبے کے دوران معلوم ہو کہ نفس نے نافرمانی کی ہے، تو اسے فوراً کوئی جائز جسمانی یا روحانی تکلیف (جیسے نفلی روزہ، صدقہ یا رات کا قیام) دے کر سزا دینا تاکہ وہ آئندہ گناہ سے خوف کھائے۔
یاد رکھیں کہ نفس ایک سرکش گھوڑے کی مانند ہے۔ اگر ہم نے مجاہدے کی لگام سے اسے قابو کر لیا تو یہ ہمیں منزلِ مقصود (اللہ کی رضا) تک پہنچا دے گا، لیکن اگر ہم نے اسے کھلی چھوٹ دے دی، تو یہ ہمیں گرا کر ہلاک کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کے شرور اور اس کے پوشیدہ فریب سے محفوظ رکھے۔آمیں
23/04/2026
اسلامی نفسیات قسط نمبر 2
پہلی قسط میں ہم نے انسانی نفس، اس کی اقسام، اس کے دھوکے اور انہیں کنٹرول کرنے کا طریقہ دیکھا تھا۔ آج ہم انسان کے اندر موجود نفسیات کا مکمل اور مربوط نظام دیکھیں گے۔
انسان کی حقیقت اور اس کا بادشاہ "دل"
انسان صرف ہڈیوں اور گوشت کا ڈھانچہ یا کیمیکلز کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ اللہ کی بنائی ہوئی ایک بہترین اور متوازن مخلوق ہے۔ انسان کے وجود کا اصل بادشاہ اور کنٹرول روم اس کا "دل" ہے۔ ہم زندگی میں جو بھی ارادے اور فیصلے کرتے ہیں، وہ اسی دل کے تخت سے جاری ہوتے ہیں۔
دل کا وزیر "عقل" اور ہدایت کی روشنی "وحی"
دل کو درست فیصلے کرنے کے لیے ایک سمجھدار مشیر کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ مشیر ہماری "عقل" ہے۔ لیکن عقل بالکل ایک آنکھ کی طرح ہے۔ آنکھ کی بینائی کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، اسے اندھیرے میں دیکھنے کے لیے کسی بیرونی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل کی آنکھ کے لیے یہ حقیقی روشنی "وحی" (قرآن اور اللہ کی ہدایت) ہے۔ جب دل اپنی عقل کو استعمال کرتا ہے اور اس پر اللہ کی ہدایت کی روشنی پڑتی ہے، تو انسان کو زندگی کا سیدھا راستہ بالکل صاف نظر آ جاتا ہے۔
انسان کی دو بنیادی طاقتیں (جذبات)
اس سیدھے راستے پر چلنے اور دنیا کے نظام کو برتنے کے لیے اللہ نے انسان کی فطرت میں دو بہت طاقتور جذبات رکھے ہیں:
خواہشات کی طاقت: جو انسان کو رزق کمانے، دنیاوی ضروریات پوری کرنے، محنت کرنے اور نسل بڑھانے پر اکساتی ہے۔
غصے اور دفاع کی طاقت: جو انسان کو خطرات سے بچاتی ہے اور برائی کے خلاف سینہ سپر ہونا سکھاتی ہے۔
جب تک یہ دونوں طاقتیں عقل اور وحیِ الٰہی کے کنٹرول میں رہتی ہیں، انسان پرسکون رہتا ہے اور نفسیاتی الجھنوں سے محفوظ رہ کر کامیابی کا سفر طے کرتا ہے۔
بگاڑ کا آغاز اور جدید نفسیاتی بیماریاں (نفسِ امّارہ)
نفسیاتی خرابی تب شروع ہوتی ہے جب انسان اللہ کی ہدایت (وحی کی روشنی) سے اپنا تعلق توڑ لیتا ہے۔ روشنی ختم ہوتے ہی "عقل" اندھی ہو کر بھٹکنے لگتی ہے۔ عقل کو کمزور دیکھ کر انسان کی خواہشات اور غصہ بغاوت کر دیتے ہیں اور پورے وجود پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ قرآنی زبان میں اس بے لگام اور بری حالت کو "نفسِ امّارہ" (برائی پر اکسانے والا نفس) کہتے ہیں۔
اس حالت میں دو جدید نفسیاتی بیماریاں جنم لیتی ہیں:
ڈپریشن (Depression): جب انسان کی دنیاوی خواہشات بے قابو ہو جائیں اور وہ ان کے پیچھے اندھا ہو جائے۔ چونکہ اس فانی دنیا میں انسان کی ہر خواہش کا پورا ہونا ناممکن ہے، اس لیے مسلسل محرومیوں اور نامرادیوں سے اس کے اندر ایک شدید اداسی، ناامیدی اور کھوکھلا پن پیدا ہوتا ہے۔ اسی کو آج ہم ڈپریشن کہتے ہیں۔
اینگزائٹی (Anxiety): جب غصہ اور دفاعی نظام بغیر عقل کے اندھا دھند متحرک رہے، تو انسان کو ہر وقت ایک انجانا خوف، عدم تحفظ اور مستقبل کے اندیشے کھاتے رہتے ہیں۔ اسے آج کی زبان میں اینگزائٹی کہا جاتا ہے۔
ضمیر کی بے چینی (نفسِ لوّامہ)
ڈپریشن اور اینگزائٹی کے اس عذاب کے دوران، انسان کے اندر چھپی ہوئی فطرتِ سلیمہ (ضمیر) اسے بار بار کچوکے لگاتی ہے اور اسے اپنے غلط فیصلوں پر پچھتاوا ہوتا ہے۔ اس اندرونی کشمکش، شرمندگی اور دکھ کو قرآن "نفسِ لوّامہ" (ملامت کرنے والا نفس) کہتا ہے۔ آج کے ماہر نفسیات کے کلینک میں بیٹھا مریض دراصل اسی نفسِ لوامہ کے کرب سے گزر رہا ہوتا ہے۔
علاج اور سکونِ قلب (نفسِ مطمئنہ)
ایک عام سوچ یہ ہے کہ شاید ان جذبات کو مکمل طور پر مار دینے میں ہی بھلائی ہے۔ اسلام اس کی نفی کرتا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ ان قدرتی جذبات (خواہش اور غصے) کو مارنا نہیں ہے، بلکہ ان کی تربیت کر کے انہیں اعتدال پر لانا ہے، جسے "تزکیۂ نفس" کہتے ہیں۔ جب انسان دوبارہ اپنی عقل کو وحی سے جوڑتا ہے، تو اس کی خواہشات حلال کے دائرے میں (پاکدامنی) اور غصہ حق کے دفاع کے لیے (شجاعت) مخصوص ہو جاتا ہے۔ جب یہ توازن قائم ہوتا ہے، تو اندر کی ساری جنگیں ختم ہو جاتی ہیں، جسے قرآن "نفسِ مطمئنہ" پکارتا ہے۔
2. جدید انسان اور ڈپریشن: اسے ایک مثال (Analogy) سے سمجھیں
جدید دور کے ڈپریشن اور اسلام کے پیش کردہ حتمی علاج کو ہم "خواہشات کے بازار اور اسباب کی دنیا" کی ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں:
فرض کریں یہ دنیا ایک بہت بڑا اور پرکشش بازار ہے، اور انسان اس بازار میں ایک خریدار ہے۔
انسان کے دل میں بے شمار خواہشات جنم لیتی ہیں۔ ان میں سے کچھ خواہشات "جائز" ہوتی ہیں (جیسے اچھی نوکری، گھر، حلال رزق) اور کچھ "ناجائز" ہوتی ہیں (جیسے حرام کمانا، تکبر، حسد یا دوسروں کا حق مارنا)۔
ڈپریشن کا جنم:
آج کا انسان اس بازار کی چمک دمک میں کھو گیا ہے۔ وہ جائز اور ناجائز کا فرق بھول کر بس ہر چیز حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر خواہش کا پورا ہونا اس دنیا میں ناممکن ہے۔ جب انسان کی بڑی بڑی توقعات اور بے لگام خواہشات ٹوٹتی ہیں، تو وہ شدید محرومی، تھکاوٹ اور اداسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی جدید دور کا سب سے بڑا مرض "ڈپریشن" ہے۔
وحی کی روشنی اور مسبب الاسباب کا اصول:
جب اس اندھیرے میں انسان کو "وحی" (قرآن و سنت) کی روشنی ملتی ہے، تو اس پر ایک عظیم حقیقت کھلتی ہے۔ وحی اسے بتاتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز اور ہر نتیجہ اللہ تعالیٰ کے تابع ہے۔ ہم دنیا میں جو محنت کرتے ہیں یا وسائل استعمال کرتے ہیں، وہ صرف "اسباب" (Means) ہیں۔ لیکن ان اسباب سے نتیجہ پیدا کرنے والی اصل ذات صرف اللہ کی ہے جسے "مسبب الاسباب" (Cause of all causes) کہا جاتا ہے۔
حتمی علاج اور نفسِ مطمئنہ:
وحی کی روشنی ملنے کے بعد، اب انسان دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھتا ہے۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ دنیا میں میرا کام صرف دو چیزیں ہیں:
ناجائز خواہشات کو مکمل طور پر چھوڑ دینا۔
اپنی جائز خواہشات کے لیے درست اسباب (محنت، تدبیر، علم) کو اختیار کرنا۔
اب وہ پوری ایمانداری سے اسباب اختیار کرتا ہے۔ اگر تو محنت کے بعد اسے اس کی پسندیدہ چیز مل جائے، تو وہ تکبر کرنے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور سب سے اہم بات... اگر پوری محنت (اسباب) کے بعد بھی اسے اس کی جائز خواہش نہیں ملتی، تو وہ ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتا!
وہ اپنے دل کو یہ سمجھا لیتا ہے کہ میں نے اسباب پر عمل کر لیا، لیکن "مسبب الاسباب" (اللہ) نے اپنی لامحدود حکمت کی وجہ سے یہ چیز مجھے نہیں دی، اور اسی محرومی میں میرے لیے کوئی بڑی بھلائی چھپی ہے۔
جب انسان اپنی کوشش کے بعد نتائج کے معاملے میں مکمل طور پر اللہ کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے، تو اس کے اندر کی ساری بے چینی، مایوسی اور ڈپریشن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتے ہیں۔ اسی مقامِ شکر و رضا کو اسلام میں "نفسِ مطمئنہ" (سکون پانے والا نفس) کہتے ہیں اور یہی جدید نفسیاتی مسائل کا سب سے شاندار اور دیرپا علاج ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.