Muhammad Ibrahim Baloch
22/03/2026
Czns k sath Eid click ♥️
راستے کے کنارے پرانی چائے کی دکان تھی۔
ہوا میں باسی چائے کی خوشبو اور اداسی ملی ہوئی تھی۔
زاہد روز شام کو وہیں آ بیٹھتا، ایک کپ چائے منگواتا اور خالی نظریں سڑک پر جما دیتا۔
لوگ آتے جاتے، ہنستے بولتے، لیکن زاہد کی نظریں بس ایک چہرہ ڈھونڈتی رہتیں۔
کبھی وہ سوچتا شاید آج وہ لوٹ آئے گی… وہی لڑکی جس نے ایک دن وعدہ کیا تھا کہ "میں واپس آؤں گی۔"
سال گزر گئے، موسم بدلے، لیکن وعدہ پورا نہ ہوا۔
اب زاہد کے بالوں میں چاندی اُتر آئی تھی، مگر آنکھوں میں وہی پرانا انتظار تھا۔
چائے کا ہر گھونٹ بس ایک سوال دہراتا:
"کیا وہ کبھی لوٹے گی؟"
📌 پیغام:
انتظار سب سے طویل سزا ہے، اور کچھ وعدے صرف یادوں میں زندہ رہتے ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.